Social Media Ya Pagriyan Uchalne Ka License
سوشل میڈیا یا پگڑیاں اچھالنے کا لائسنس

آج سوشل میڈیا کا جس بے دردی اور بے حیائی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے، اسے دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اکثر دوست احباب یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اب کچھ لکھنے یا کہنے کا جی نہیں چاہتا اور سچ تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں تہذیب کا جنازہ نکل چکا ہو اور جہاں لوگ کسی کی عزت اور مقام کا لحاظ کرنے سے عاری ہو چکے ہوں، وہاں خاموشی ہی بہترین مصلحت معلوم ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے تاریک دور میں جی رہے ہیں جہاں دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا، ان کی نجی زندگیوں میں جھانکنا اور سرِ عام کسی کی تذلیل کرنا ایک تفریح بن چکا ہے۔ لوگوں نے دوسروں کی رسوائی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
ایک باضمیر انسان اور خاص طور پر ایک سچے صحافی کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اس تماشے کا خاموش تماشائی بنے یا اس غلاظت کا حصہ بن جائے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ جب ہر طرف افراتفری کا راج ہو اور لوگ فکری طور پر مفلوج ہو کر ایک دوسرے کے درپے ہوں، تو قلم کار کو مصلحت کی چادر اتار پھینکنی چاہیے اور اپنے قلم کو حق کی ڈھال بنانا چاہیے۔ میں گزشتہ کئی دنوں سے بڑی بے رحمی کے ساتھ یہ نوٹ کر رہا ہوں کہ کس طرح جھوٹی پوسٹوں اور بہتان تراشی کا ایک طوفان برپا ہے، جس نے عام آدمی کو ایک عجیب قسم کے بوکھلاہٹ اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کبھی کسی کے ذاتی عیبوں کو کرید کر سرِ بازار لایا جاتا ہے تو کبھی کسی کی کردار کشی کرکے خوشی منائی جاتی ہے، یہ رویہ دیکھ کر دلی دکھ ہوتا ہے کہ ہم کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔
اے اللہ کے نیک بندو! ذرا سوچو کہ ہم کس راستے پر نکل پڑے ہیں؟ اگر آج تم کسی کے عیبوں پر پردہ رکھو گے تو کل بروزِ قیامت اللہ تمہارے عیبوں کی پردہ پوشی فرمائے گا، ورنہ یاد رکھو کہ ہم میں سے کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے۔ انسان کا اصل کام دوسروں کے عیب گننا نہیں بلکہ اپنے رب سے ہدایت مانگنا ہے، مگر افسوس کہ ہم دوسروں کو جہنم کا ایندھن ثابت کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ اپنی عاقبت بھول بیٹھے ہیں۔ ہم یہ حقیقت کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ عزت اور ذلت کا تمام تر اختیار صرف اور صرف اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے؟ کوئی شخص چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کر لے، وہ کسی کی عزت تب تک نہیں لوٹ سکتا جب تک اللہ نہ چاہے اور کوئی کسی کو تب تک نواز نہیں سکتا جب تک قدرت کا فیصلہ شاملِ حال نہ ہو۔
خدارا! اس سماجی افراتفری اور ذہنی غلامی سے نکل کر آزاد اور پاکیزہ سوچ کی طرف قدم بڑھائیں۔ کسی کی تذلیل کرنا یا سوشل میڈیا پر کسی کو رسوا کرنا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ رویہ ہماری بدقسمتی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ ہم اپنی زبانوں اور انگلیوں کو دوسروں کی عزتیں پامال کرنے سے روکیں، ورنہ یہ معاشرہ اس گندگی کے ڈھیر میں دفن ہو جائے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ملے گا۔

