Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Mehaz Faqa Ya Rooh e Ehsas?

Mehaz Faqa Ya Rooh e Ehsas?

محض فاقہ یا روحِ احساس؟

​رمضان المبارک کا ہلالِ نو طلوع ہوتے ہی کائنات کے منظر نامے پر ایک ملکوتی سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ فضاؤں میں سحر و افطار کی برکتیں اور مساجد سے اٹھتی مناجات کا شورِ دلنواز ایک الگ ہی سماں باندھ دیتا ہے۔ لیکن اس روحانیت کی تہوں میں چھپا اصل فلسفہ محض پیٹ کی بھوک اور حلق کی پیاس نہیں ہے، بلکہ یہ اس انسانی ہمدردی کا ایک عالمگیر سبق ہے جو ہمیں اپنے گردونواح میں بسنے والے ان نفوس کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کے لیے "فاقہ" محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مستقل تلخ حقیقت ہے۔

​قرآنِ کریم نے انفاق فی سبیل اللہ اور مساکین کی کفالت کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ​"اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محروم (نہ مانگنے والے) کا حق ہے" (الذاریات: 19)

​یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ جو ہم غریب کو دے رہے ہیں، وہ اس پر ہمارا احسان نہیں بلکہ اس کا وہ "حق" ہے جو خالقِ کائنات نے ہمارے مال میں رکھا ہے۔ آج کے اس پُر آشوب دور میں، جہاں مہنگائی کے تازیانوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، وہاں "مستحق" کی تعریف بدل گئی ہے۔ اب مستحق صرف وہ نہیں جو گلی کے نکڑ پر دستِ سوال دراز کیے کھڑا ہے، بلکہ وہ "سفید پوش" ہے جو اپنی غیرت اور خودداری کا بھرم رکھنے کے لیے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے رکھتا ہے۔

​قرآن ایسے ہی لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتا ہے: ​"ناواقف شخص (ان کی خودداری کی وجہ سے) انھیں غنی خیال کرتا ہے، تم انہیں ان کے چہروں سے پہچان لو گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے" (البقرہ: 273)

​ہمارے معاشرے میں افطار پارٹیوں کا ایک تفاخرانہ کلچر جڑ پکڑ چکا ہے۔ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں سجے وہ دسترخوان جن پر ضیاع زیادہ اور ضرورت کم ہوتی ہے، کیا وہ ہمیں ان جھونپڑیوں کی یاد دلاتے ہیں جہاں سحر صرف پانی کے گھونٹ سے ہوتی ہے؟ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ​"وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو" (المعجم الکبیر)

​یہ حدیث ہمیں ایک ایسی معاشرتی زنجیر میں پروتی ہے جس کی ہر کڑی ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے جڑی ہے۔ رمضان تو نام ہی اس "احساس" کا ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے۔ اگر ہم مسجد کی پہلی صف میں کھڑے ہو کر طویل قیام تو کریں لیکن اپنے پڑوس میں سسکتی بیوہ کی آہوں سے بے خبر رہیں، تو ہمیں اپنی عبادت کی روح پر غور کرنا ہوگا۔

​سخاوت کا اصل حسن تب ہے جب وہ نمود و نمائش سے پاک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سات افراد کو عرش کے سائے کی نوید سنائی ہے جن میں ایک وہ بھی ہے: ​"جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا" (صحیح بخاری)

​آج سوشل میڈیا کے دور میں آٹے کا تھیلہ دیتے ہوئے تصویر بنوانا اس سفید پوش کی تذلیل ہے جسے اللہ نے "اشرف المخلوقات" بنایا ہے۔ یاد رکھیے، رمضان کا اصل مقصود تقویٰ ہے اور تقویٰ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر ادھورا ہے۔

​آئیے اس بار اپنے دسترخوانوں کو لمبا کرنے کے بجائے، اپنی سخاوت کے دائرے کو وسیع کریں۔ کسی کے بچے کی سکول فیس بھر دینا، کسی بیمار کے لیے دوا کا بندوبست کرنا یا کسی خوددار مزدور کو عزت کے ساتھ راشن پہنچا دینا ہی اصل صوم و صلوٰۃ ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے کا غریب طبقہ عید کے چاند کو دیکھ کر خوف کے بجائے خوشی محسوس نہیں کرے گا، تب تک ہماری عیدیں محض ایک رسم رہیں گی۔

Check Also

Regime Change: Iran Mein America Aur Israel Ka Bunyadi Hadaf

By Nusrat Javed