Jab Mamta He Maqtal Ban Gayi
جب ممتا ہی مقتل بن گئی

کبھی کبھی لفظ بانجھ ہو جاتے ہیں، قلم کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور قرطاسِ ابیض پر پھیلی سیاہی لہو کے دھبوں میں بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ لاہور کے گنجان آباد علاقے اچھرہ سے اٹھنے والی چیخیں صرف ایک گھر کی دیواروں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے انسانیت کے پورے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک بریکنگ نیوز نہیں تھی، یہ اس تہذیب، اس سماج اور اس مقدس ترین رشتے کا نوحہ تھا جسے ہم ماں کہتے ہیں۔
جب خبر آئی کہ تین معصوم کلیاں جن کی عمریں محض دو سے پانچ سال کے درمیان تھیں، اپنے ہی گھر کے بند کمرے میں ذبح کر دی گئیں، تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ لیکن جب پولیس کی تفتیش نے یہ لرزہ خیز انکشاف کیا کہ قاتل کوئی باہر سے آنے والا درندہ نہیں بلکہ وہی ماں تھی جس کی آغوش کو بچہ کائنات کا سب سے محفوظ مقام سمجھتا ہے، تو عرشِ الٰہی بھی لرز اٹھا ہوگا۔
ذرا تصور کیجیے ان معصوموں کے کرب کا، جنہوں نے آخری لمحے میں اپنی ماں کے ہاتھوں میں چھری دیکھی ہوگی۔ وہ مائیں جو بچوں کی انگلی میں کانٹا چبھنے پر تڑپ اٹھتی ہیں، وہ ماں کس طرح اتنی پتھر دل ہوگئی کہ اس نے اپنے ہی جگر گوشوں کے گلے پر چھری پھیر دی؟
وہ تالہ جو شاید تحفظ کے لیے لگایا گیا تھا، وہی ان کے مقتل کا پہرہ بن گیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس مہیب تاریکی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمارے اندر کی ممتا، درندگی کے آگے ہار گئی؟
یا پھر ہمارے معاشرے کی گھٹن، ذہنی اذیت اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ نے ایک انسان کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے اپنے ہی بچے بوجھ یا دشمن لگنے لگتے ہیں؟
والدین شادی کی تقریب میں جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں، خوشیوں کے خواب آنکھوں میں سجے ہوتے ہیں، لیکن چند منٹ بعد جب لوٹتے ہیں تو وہاں خوشی نہیں، خون کے تالاب ہوتے ہیں۔
یہ تضاد ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ ہم باہر سے کتنے ہی سجے دھجے کیوں نہ ہوں، اندر سے ہم کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ یہ تہرہ قتل صرف ایک جرم نہیں ہے، بلکہ یہ اس نفسیاتی بحران کا کھلا ثبوت ہے جسے ہم اکثر گھریلو جھگڑا یا معمولی پریشانی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ کون سی اذیت تھی جو اس ماں کے اندر پل رہی تھی؟ وہ کون سا طوفان تھا جس نے اسے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا گلشن اجاڑنے پر مجبور کر دیا؟
قلم لکھتے ہوئے لرز رہا ہے کہ جب ان بچوں نے آخری بار اپنی ماں کی طرف دیکھا ہوگا، تو کیا انہیں اس میں وہی پرانی لوری سنانے والی ہستی نظر آئی ہوگی یا کوئی اجنبی جنون؟ یہ المیہ کسی ایک خاندان کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ یہ ہماری سماجی تربیت، ذہنی صحت کے تئیں ہماری مجرمانہ غفلت اور بڑھتے ہوئے عدم برداشت کا نتیجہ ہے۔ ہم نے انسانوں کو مشینوں میں بدل دیا ہے، جہاں احساس مر چکا ہے اور صرف مادی ضرورتیں باقی رہ گئی ہیں۔ جب روح تڑپتی ہے اور اسے سہارا نہیں ملتا، تو وہ ایسے ہی بھیانک روپ دھار لیتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف اس عورت کو سنگسار کر دیں یا اسے تختہ دار پر لٹکا دیں، بلکہ ضرورت اس نظام کو بدلنے کی ہے جو ایک ہنستے بستے انسان کو قاتل بنا دیتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کے اندر جھانکنا ہوگا، ہمیں اپنے پیاروں کی خاموشی کو سننا ہوگا، ہمیں ان کی آنکھوں میں چھپے کرب کو پڑھنا ہوگا۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، اگر ہم نے انسانیت کی قدروں کو دوبارہ زندہ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ ایسے واقعات صرف شہ سرخیاں بن کر ہماری سکرینوں پر نمودار ہوتے رہیں گے اور ہم ایک ایک کرکے اپنی نسلوں کے قاتل بنتے جائیں گے۔ لاہور کی اس ماں نے صرف تین بچوں کو قتل نہیں کیا، اس نے اس بھروسے کو ذبح کیا ہے جس پر کائنات کا پورا نظام قائم ہے۔ انسانیت شرمندہ ہے، ممتا لہو رنگ ہے اور ہم سب اس جرم کے کہیں نہ کہیں خاموش گواہ ہیں۔

