Intizamia Ka Baldozer Aur Ghareeb Ka Choolha
انتظامیہ کا بلڈوزر اور غریب کا چولہا

شہر کی پختہ سڑکوں پر جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے، تو اس کی تپش صرف زمین کو نہیں جلاتی بلکہ ان ہاتھوں کو بھی جھلسا دیتی ہے جو حلال رزق کی تلاش میں ایک ریڑھی کا سہارا لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے گرد و نواح اور خاص طور پر لیہ سٹی کے گلی کوچوں میں جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ایک غریب انسان، جس کی کل کائنات لکڑی کے چار پہیوں پر ٹکی ایک ریڑھی ہے، وہ صبح سویرے اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے کہ شام کو جب واپس لوٹے گا تو اس کے بچوں کے چہروں پر بھوک کی زردی نہیں بلکہ سکون کی لہر ہوگی۔ لیکن افسوس کہ اسے سڑک پر گاہکوں سے پہلے انتظامیہ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کیسا المیہ ہے کہ ایک طرف ریاست روزگار فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے اور دوسری طرف جب کوئی خوددار شہری اپنی مدد آپ کے تحت ریڑھی لگا کر دو وقت کی روٹی کمانے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے تجاوزات کے نام پر مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ لرزہ خیز مناظر دیکھے ہیں جب ایکسیویٹر کا فولادی پنجہ ایک غریب کی ریڑھی کو اس بے رحمی سے اکھاڑ کر پھینکتا ہے جیسے وہ کوئی کچرا ہو۔ اس لمحے ریڑھی کا مالک، وہ بے بس انسان، جس کی آنکھوں میں التجا اور ہونٹوں پر سسکیاں ہوتی ہیں، انتظامیہ کے پاؤں پڑ رہا ہوتا ہے، لیکن ان فولادی مشینوں اور سنگدل اہلکاروں کے کانوں تک غریب کی آہ نہیں پہنچتی۔ وہ ریڑھی نہیں ٹوٹتی، دراصل ایک محنت کش کا مان ٹوٹتا ہے، اس کا حوصلہ دم توڑتا ہے اور اس کے گھر کا چولہا بجھ جاتا ہے۔
لیہ سٹی میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے اسٹالز اور شیڈز بظاہر ایک سہولت معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپی حقیقت کسی مذاق سے کم نہیں۔ جس محنت کش کی کل سرمایہ کاری ہی دس یا بارہ ہزار روپے ہو، جس نے ادھار مانگ کر یا اپنی جمع پونجی لگا کر پھل اور سبزیاں خریدی ہوں، وہ دس ہزار روپے سے زائد کا ماہانہ کرایہ کیسے ادا کر سکتا ہے؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ غریب کو ریلیف دینے کے بجائے اسے ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا جائے جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ہو۔ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کا یہ رویہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر دہری کر دی ہے، عید جیسے تہواروں کی خوشیاں اب ان غریبوں کے لیے خواب بن چکی ہیں کیونکہ ان کی ساری امیدیں اسی ایک ریڑھی سے وابستہ ہوتی ہیں اور دوسری طرف ان کے خلاف پیرا فورسز اور انتظامیہ کا یہ ظالمانہ برتاؤ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔
حاکمِ وقت اور اربابِ اختیار کو یہ سوچنا ہوگا کہ یہ ریڑھی بان معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو مانگنے کے بجائے محنت کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر انہیں متبادل جگہ فراہم نہیں کی جائے گی، اگر ان کے لیے کرایوں میں رعایت نہیں ہوگی اور اگر ان کے ساتھ انسانوں والا سلوک نہیں کیا جائے گا، تو پھر معاشرے میں مایوسی اور جرم کے سوا کچھ نہیں بڑھے گا۔ غریب کی بددعا اور اس کے بہتے ہوئے آنسو کسی بھی معاشرے کی تباہی کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے ان کی داد رسی کرے، ان کے مسائل کو ہمدردی سے سنے اور انہیں باعزت طریقے سے روزگار کمانے کا موقع فراہم کرے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قانون کی لاٹھی صرف کمزور پر نہ چلے، بلکہ ریاست ایک ماں کی طرح اپنے ان پسے ہوئے طبقات کو سینے سے لگائے۔

