Tuesday, 14 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Ghairat e Muslim Ya Maslehat Ka Koora Karkat?

Ghairat e Muslim Ya Maslehat Ka Koora Karkat?

غیرتِ مسلم یا مصلحت کا کوڑا کرکٹ؟

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ زندہ قومیں وہی کہلاتی ہیں جو مصلحت کی چادر اوڑھ کر سونے کے بجائے اصولوں کی شمع جلا کر طوفانوں کا رخ موڑنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست بارود کی بو اور سازشوں کے جال میں گھری ہوئی ہے، ایران ایک ایسی چٹان بن کر ابھرا ہے جس نے عالمی استعمار کے ہر حربے کو اپنی خودداری اور ایمانی جذبے سے ناکام بنا دیا ہے۔ ایران کی موجودہ حیثیت محض ایک ملک کی نہیں بلکہ ایک ایسے نظریے کی ہے جو باطل کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کرتا ہے اور اپنی تقدیر کے فیصلے غیر ملکی ایوانوں کے بجائے اپنی مٹی کی خوشبو سے کشید کرتا ہے۔

دہائیوں پر محیط معاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کی کوششوں نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی خود انحصار قوت بنا دیا ہے جس کی مثال معاصر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جہاں دنیا کے بڑے بڑے ممالک معمولی معاشی دباؤ پر اپنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، وہاں تہران نے اپنی معیشت کو "مزاحمتی معیشت" کے قالب میں ڈھال کر یہ ثابت کر دیا کہ اگر عزم بلند ہو تو بھوک اور پیاس بھی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ آج ایران نے میڈیکل سائنس سے لے کر نینو ٹیکنالوجی تک اور صنعتی پیداوار سے لے کر زرعی ترقی تک جو سنگِ میل عبور کیے ہیں، وہ دراصل اس امر کا ثبوت ہیں کہ حقیقی ترقی مغرب کی غلامی میں نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے میں پنہاں ہے۔

دفاعی میدان میں ایران کی پیش رفت نے دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر رکھا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ملک برسوں کے محاصرے کے باوجود ڈرون ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ سسٹم اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے مدمقابل کھڑا ہو۔ یہ دفاعی حصار کسی جارحیت کے لیے نہیں بلکہ اس توازنِ طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ہے جس کے بغیر خطے کا امن غارت ہو جاتا۔ ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مسلم امہ اب محض تماشائی نہیں رہی، بلکہ وہ اپنے دفاع کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اور جارح کو اس کی زبان میں جواب دینے کا ہنر بھی جانتی ہے۔ یہ طاقت دراصل پورے عالمِ اسلام کا سرمایہ ہے جو مظلوموں کے لیے امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔

ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے تابناک پہلو فلسطین اور القدس کی آزادی کے لیے اس کی غیر متزلزل جدوجہد ہے۔ جب دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار غاصب صیہونی ریاست کی پشت پناہی کر رہے تھے اور کئی مسلم ممالک مصلحت کے نام پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے، تب صرف ایران نے جرات مندی کے ساتھ القدس کا پرچم بلند رکھا۔ ایران کی یہ اصول پسندی محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے جس کے لیے اس نے اپنے بہترین سپوتوں کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ مزاحمت کی یہ لہر جو آج پورے خطے میں محسوس کی جا رہی ہے، اس کا منبع تہران کی وہ فکر ہے جو ظالم کو ظالم کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات کی جڑیں تاریخ، ثقافت اور دین کے ان گہرے رشتوں میں پیوست ہیں جنہیں کوئی بھی عالمی سازش کمزور نہیں کر سکتی۔ ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے تسلیم کیا اور آج بھی پاکستان کی معاشی و دفاعی سلامتی کے لیے ایران کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ عالمِ اسلام کے اتحاد کا خواب ایران کے تعاون کے بغیر ادھورا ہے، کیونکہ یہ وہ ملک ہے جو فرقہ وارانہ خلیج کو پاٹ کر ایک ایسے "بنیان مرصوص" کی تعمیر چاہتا ہے جہاں تمام مسلمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پروپیگنڈے کے گرد و غبار سے نکل کر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں اور اس استقامت کو سراہیں جس نے مسلم امہ کے وقار کو سربلند رکھا ہے۔ تاریخ جب اپنا فیصلہ سنائے گی تو ایران کا نام ان قوموں میں لکھا جائے گا جنہوں نے جینے کے لیے جھکنا نہیں بلکہ کٹ جانا پسند کیا۔

Check Also

Pakistan Mein Konsa Karobar Karen?

By Mohsin Khalid Mohsin