Eid Ki Haqiqi Khushi Aur Safaid Poshon Ka Bharam
عید کی حقیقی خوشی اور سفید پوشوں کا بھرم

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے اور فضاؤں میں عید کی چاپ سنائی دینے لگی ہے۔ یہ ایام جہاں ربِ ذوالجلال کی بندگی اور شکر گزاری کے ہیں، وہیں اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کے دکھ سکھ بانٹنے کا عظیم درس بھی دیتے ہیں۔ عید کی اصل خوشی محض نئے کپڑوں کی چمک، مہنگے جوتوں کی کھنک یا دسترخوان پر سجے لذیذ پکوانوں کا نام نہیں، بلکہ حقیقت تو کسی مرجھائے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ لانے اور کسی مجبور انسان کے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے میں پوشیدہ ہے۔
آج جس پُرآشوب دور سے ہم گزر رہے ہیں، وہاں مہنگائی کے بے رحم طوفان نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ دیہاڑی دار مزدور سے لے کر متوسط طبقے کے سفید پوش شخص تک، ہر کوئی اپنی بقا اور بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کٹھن نفسیاتی اور معاشی جنگ میں مصروف ہے۔ حالات جب ایسے ہوں کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں، تو ہماری اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جب ہم افطار کے وقت ٹھنڈے مشروبات اور رنگ برنگی نعمتوں سے لبریز دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، تو عین اسی لمحے محلے کی کسی تاریک گلی میں کوئی ایسا باپ بھی ہو سکتا ہے جو اپنے بچوں کے سامنے اس لیے نہیں جا رہا کہ وہ ان کے لیے چند کھجوریں بھی نہیں خرید سکا؟
بہترین انسان وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اگر ہمارے اپنے گھر میں زندگی کی چہل پہل ہے، تو ایک پل کے لیے رک کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا پڑوس میں یا کسی غریب رشتہ دار کے گھر بھی چولہا جل رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہاں بچے حسرت بھری نگاہوں سے عید کے چاند کا انتظار کر رہے ہوں؟ عید صرف انفرادی تہوار نہیں، یہ معاشرے کے ہر اس فرد کا حق ہے جس کا رشتہ انسانیت اور کلمہ طیبہ سے جڑا ہے۔
عید کے ایام میں ان سفید پوش لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جو اپنی خودداری اور غیرت کے باعث کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فاقہ کر لیں گے، پیوند لگے کپڑوں کو استری کرکے نیا بنا لیں گے، لیکن اپنی محرومی کا نوحہ زبان پر نہیں لائیں گے۔ ان کی خاموشی ایک ایسی فریاد ہے جسے صرف وہی دل سن سکتے ہیں جن میں انسانیت کا درد زندہ ہو۔ عید کی خریداری کرتے وقت اگر اپنے مہنگے لباسوں میں سے کسی ایک کی قربانی دے دیں اور وہ رقم کسی مستحق خاندان تک خاموشی سے پہنچا دیں، تو یقین جانیے اس سے ملنے والا دلی سکون کائنات کی ہر مادی راحت سے بڑا ہوگا۔
عید کی صبح جب ہم اپنے بچوں کو نئے لباس پہناتے ہیں، تو ذرا اس بے بس وجود کا تصور کریں جو اپنے بچوں کی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے، جو عید کی نماز کے بعد گھر لوٹنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں اسے بچوں کی محرومیوں کا جواب نہ دینا پڑے۔ اگر ہماری تھوڑی سی توجہ کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت بن جائے یا کسی بیوہ کے گھر عید کا راشن پہنچ جائے، تو یہی وہ عمل ہے جو خالقِ کائنات کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی وہی بندگی سب سے زیادہ بھاتی ہے جس میں مخلوق کے لیے تڑپ اور ایثار شامل ہو۔
مہنگائی کے اس بوجھ کو اکیلا کوئی نہیں اٹھا سکتا، لیکن اگر ہم سب مل کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں تو یہ بوجھ بانٹا جا سکتا ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کو محض مذہبی رسم سمجھ کر ادا نہ کریں، بلکہ اسے محبت کا قرض سمجھ کر ان لوگوں تک پہنچائیں جن کا ہم پر حق ہے۔ ارد گرد نگاہ دوڑائیں، شاید کوئی پرانا دوست، کوئی دور کا رشتے دار یا کوئی پڑوسی اپنی غیرت کی زنجیروں میں جکڑا خاموش بیٹھا ہو۔ اسے اس خوشی کے موقع پر تنہائی کا احساس نہ ہونے دیں۔
آئیں اس بار عید روایتی جشن سے ہٹ کر ایک منفرد جذباتی انداز میں منائیں۔ خوشیوں کے بند کواڑ دوسروں کے لیے کھول دیں۔ جب تک ہم اپنے مال میں دوسروں کا حصہ شامل نہیں کریں گے، ہماری خوشیاں بے رنگ رہیں گی۔ یاد رکھیں، وہ مال کبھی کم نہیں ہوتا جو اللہ کی رضا کے لیے اس کے بندوں پر خرچ کیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اس میں ایسی برکت ڈالتا ہے جو نسلوں تک محیط رہتی ہے۔ حقیقی عید وہی ہے جس میں آپ کا ہمسایہ بھی ویسے ہی مسکرائے جیسے آپ اور آپ کے بچے مسکرا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایثار، قربانی اور سچی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

