Ye Jo Lahore Se Muhabbat Hai
یہ جو لاہور سے محبت ہے

میں نے کبھی بیرونِ ملک کا کوئی سفر نہیں کیا، نہ ہی کبھی پیرس، لندن یا نیویارک کی سڑکوں پر چلنے کی تمنا کی ہے، مجھے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ میں نے اپنے پیارے پاکستان کو چھان مارا ہے، گلگت کی برفیلی چوٹیوں سے لے کر کراچی کے ساحلِ سمندر تک اور خیبر کے تاریخی دروں سے لے کر مہران کی مٹی تک میں نے اس ملک کا چپا چپا گھوما ہے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جو جادو، جو سحر اور جو زندگی اس مٹی میں ہے، اس کا دنیا میں کوئی ثانی ہو ہی نہیں سکتا اور جب بات ہو میرے لاہور کی، تو یہ شہر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہے۔ لاہور ایک کیفیت ہے، ایک احساس ہے اور یہ وہ جنون ہے جو انسان کے خون میں دوڑتا ہے تو اسے زندگی کا اصل سلیقہ سکھا دیتا ہے۔
پچھلے کچھ ہفتے اس شہرِ بے مثال پر بہت بھاری گزرے۔ توانائی کے بحران اور معاشی ہچکیوں کے نام پر ایک ایسا "لاک ڈاؤن" نافذ کیا گیا جس نے اس ہنستے کھیلتے شہر کو مرجھا کر رکھ دیا تھا۔ شام آٹھ بجتے ہی دکانیں، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز یوں زبردستی بند کرا دیے جاتے تھے جیسے کسی ہسپتال کا آئی سی یو وارڈ ہو۔ تاجر پریشان تھے، دکاندار سر پکڑ کر بیٹھے تھے اور عام شہری حیران تھے کہ جس شہر کی راتیں دنیا بھر میں مشہور ہیں، اسے مغرب کے بعد ہی سنسان کیوں کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر عیدِ قربان سر پر تھی، سال کا وہ سب سے بڑا سیزن جس پر لاکھوں خاندانوں کا چولہا اور کاروبار منحصر ہوتا ہے، لیکن بازاروں پر ویرانی کا پہرا تھا۔
لیکن گزشتہ روز جب حکومت نے تاجروں اور عوام کے احتجاج پر کان دھرے اور دکانوں اور ریسٹورنٹس کو اس پابندی سے استثنیٰ دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، تو یوں لگا جیسے لاہور نے ایک طویل سکتہ توڑ کر دوبارہ گہرا سانس لیا ہو۔ میں کل رات کافی دنوں بعد لاہور کی سڑکوں پر نکلا۔ انارکلی، لبرٹی اور شاہ عالمی مارکیٹ کا منظر دیکھنے لائق تھا۔ دکانوں کے شٹر اٹھے ہوئے تھے، برقی قمقمے چمک رہے تھے اور لوگوں کا ایک سمندر تھا جو سڑکوں پر امڈ آیا تھا۔ تاجروں کے چہروں پر اطمینان کی مسکراہٹ تھی اور خریداروں کی چہل پہل سے بازار دوبارہ چمک رہے تھے۔ لکشمی چوک کی کڑاہی ہو یا قذافی سٹیڈیم کے فوڈ پوائنٹس، مال روڈ کی تاریخی روشنیاں ہوں یا نہر کے کنارے چلتی ہوا، ہر چیز پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ لاہور کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ لاہور کا اصل حسن بڑی بڑی عمارتوں یا شاپنگ مالز میں نہیں، بلکہ اس کی سڑکوں کے کنارے آباد ان روایتی چائے کے ڈھابوں پر ہے جہاں زندگی اپنی پوری سادگی اور سچائی کے ساتھ دھڑکتی ہے۔ میں اور میرے دوست، عامر سہیل مٹواکثر شام ڈھلے ایسے ہی کسی ڈھابے پر بیٹھ کر گھنٹوں وقت گزارتے ہیں۔ کڑک چائے کی پیالی، ابلتے ہوئے دودھ کی خوشبو اور اردگرد سے اٹھتی ہوئی قہقہوں کی آوازیں یہ وہ ماحول ہے جہاں ہم سیاست، معیشت اور دنیا جہان کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔ جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ ڈھابے اور رونقیں بند تھیں، تو یوں لگتا تھا جیسے لاہور کا دل اداس ہوگیا ہو۔ عامر سہیل مٹو اور میرے جیسے ہزاروں لاہوریوں کے لیے چائے کا ڈھابہ صرف چائے پینے کی جگہ نہیں، بلکہ یاروں کی محفل اور ذہنی سکون کا آستانہ ہے۔ کل رات جب دوبارہ ڈھابے سجے، تو ہمیں اپنی کھوئی ہوئی رونق واپس مل گئی۔
لاہور کی اسی جادوئی کشش کو دیکھ کر کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ "یہ جو لاہور سے محبت ہے، یہ کسی اور سے محبت ہے"۔ یہ شعر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ اس شہر کی اصل حقیقت ہے۔ لاہور سے محبت دراصل زندگی سے محبت ہے، یہ اپنے وطن سے محبت ہے اور یہ اس مٹی سے محبت ہے جو کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتی۔ مگر یہاں ہمیں رک کر ایک تلخ حقیقت کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ دنیا میں معیشتیں اور ملک ایسے نہیں چلتے کہ ایک دن آپ لاک ڈاؤن لگا دیں اور دوسرے دن عید دیکھ کر اسے اٹھا لیں۔ توانائی کی بچت اور معاشی ڈسپلن اپنی جگہ ناگزیر ہیں، لیکن اس کا حل یہ ہرگز نہیں کہ آپ چلتے ہوئے کاروبار کا گلا گھونٹ دیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ مستقل اور پائیدار پالیسیاں بنائے تاکہ مستقبل میں تاجر برادری کو ایسے معاشی جھٹکوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ معیشت کا پہیہ تبھی چلتا ہے جب عوام اور کاروباری طبقے کو اعتماد ملتا ہے۔ بہرحال، اس وقت شکر کا مقام یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وہ نحوست ختم ہوئی اور لاہور کی سڑکوں پر زندگی کی مسکراہٹ واپس آ گئی۔ عیدِ قربان کی آمد آمد ہے اور اب لوگوں کے کاروبار بھی دوبارہ پٹری پر لوٹ رہے ہیں۔ لاہور ایک بار پھر جاگ چکا ہے، کیونکہ یہ وہ شہر ہے جو نہ کبھی سوتا ہے اور نہ کبھی ہار مانتا ہے۔ یہی اس کی خوبصورتی ہے اور یہی اس کا اصل سحر ہے۔

