Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Qissa e Natamam Uncle Sam Ke Liye Ibrat Ka Maqam

Qissa e Natamam Uncle Sam Ke Liye Ibrat Ka Maqam

قصہِ ناتمام انکل سام کے لئے عبرت کا مقام

راستہ بدل لیتی تھیں، آج مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں اور خلیج کے گہرے پانیوں میں ایک ایسی بے یقینی اور ہزیمت کا شکار ہے جسے "عبرتناک" نہ بھی کہا جائے تو "فکر انگیز" ضرور ہے۔ مارچ 2026 کے ان ایام میں خلیجِ فارس سے اٹھنے والی خبروں نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں وہ ارتعاش پیدا کر دیا ہے جس کی گونج دہائیوں تک سنائی دے گی۔ یہ محض دو ملکوں کی جنگ نہیں، بلکہ ایک پرانے عالمی نظام کے بکھرنے اور نئے حقائق کے جنم لینے کی داستان ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ جاری تصادم نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن اب محض بحری بیڑوں کی تعداد یا سمارٹ بموں کی بنیاد پر طے نہیں ہوتا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے وہ دعوے، جن کے مطابق امریکی بحری بیڑے "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کو وہ زخم لگائے گئے ہیں جن کی تپش واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس تک محسوس کی جا رہی ہے، عالمی میڈیا کے لیے ایک دھماکہ خیز خبر بن چکے ہیں۔ اگرچہ پینٹاگون روایتی طور پر ان نقصانات کی پردہ پوشی کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حقائق کو زیادہ دیر تک سمندر کی لہروں میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے اس دور میں، انکل سام کا وہ "ناقابلِ تسخیر" ہونے کا بت پاش پاش ہو چکا ہے جو پچھلے پچاس سالوں سے دنیا کو مرعوب کیے ہوئے تھا۔

لیکن اس کہانی کا سب سے المناک اور عبرت ناک پہلو وہ "نفسیاتی شکست" ہے جس نے انکل سام کو ایک طرح کے "پاگل پن" اور بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران جیسے ملک سے، جس پر دہائیوں سے معاشی پابندیاں مسلط تھیں اور جسے عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، ایسی کاری ضرب کھانا واشنگٹن کے اعصاب پر سوار ہو چکا ہے۔ یہ شکست محض فوجی نہیں، بلکہ اس انا کی شکست ہے جو خود کو زمین پر خدا سمجھنے لگی تھی۔ آج جب تیرہ امریکی فوجیوں کے تابوت واشنگٹن پہنچ رہے ہیں اور عراق کی فضائیں امریکی ایندھن بردار جہازوں کے ملبے سے اٹی پڑی ہیں، تو امریکی قیادت کی بوکھلاہٹ دیدنی ہے۔ انکل سام کی یہ دیوانگی اس کی پالیسیوں میں تضاد کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے، جہاں وہ ایک طرف اپنی فوجیں نکالنے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف مزید تباہی پھیلانے کی دھمکیاں دیتا ہے۔

میدانِ جنگ کی اس ہزیمت نے ثابت کر دیا ہے کہ جب ایک زخمی عقاب اپنے پروں کو بے سود پھڑپھڑانے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ شکار اب شکاری کے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ امریکہ کی یہ "بوکھلاہٹ" دراصل اس خوف کا نتیجہ ہے کہ اب دنیا اسے "سپر پاور" تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ایران نے جس جرات سے امریکی بیڑے کو نشانہ بنایا، اس نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ "انکل سام" اب وہ سہارا نہیں رہا جس پر اندھا اعتماد کیا جا سکے۔ طاقت کا یہ زعم اب ایک ایسی "نفسیاتی بیماری" بن چکا ہے جہاں واشنگٹن اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دنیا اب ان بہانوں سے مطمئن ہونے والی نہیں۔

اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ صورتحال اس عالمی تبدیلی کا دیباچہ ہے جہاں "یک قطبی" (Unipolar) دنیا کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ وہ وقت گزر گیا جب ایک فون کال پر حکومتیں بدل دی جاتی تھیں یا ایک بحری بیڑا بھیج کر قوموں کو جھکنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ آج ٹیکنالوجی کی برابری اور خودداری کے جذبے نے انکل سام کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ایران سے ملنے والی اس عبرتناک شکست نے امریکی تھنک ٹینکس کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ نظام جو کھربوں ڈالر کے بجٹ پر چل رہا تھا، چند مقامی میزائلوں کے سامنے ڈھیر کیسے ہوگیا؟

پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو اس جغرافیائی مرکز کے قریب واقع ہیں، یہ وقت انتہائی حساس ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اب دنیا کا نقشہ بدل رہا ہے۔ طاقت کے نئے مراکز ماسکو اور بیجنگ کی صورت میں ابھر رہے ہیں اور تہران نے اپنی مزاحمت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خود انحصاری ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ انکل سام کی یہ شکست محض ایک فوجی واقع نہیں بلکہ ایک سبق ہے ان تمام طاقتوں کے لیے جو طاقت کے نشے میں انسانیت اور جغرافیائی حقیقتوں کو فراموش کر دیتی ہیں۔ تاریخ کسی کی سگی نہیں ہوتی۔ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں، تاریخ انہیں نشانِ عبرت بنا دیتی ہے۔

آج انکل سام اسی ڈگر پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ شاید ہی ممکن ہو۔ کیا واشنگٹن اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا یا اس "پاگل پن" میں خود کو مزید گہری کھائی میں گرا لے گا؟ اس کا فیصلہ تاریخ کے اوراق بہت جلد کر دیں گے، لیکن فی الحال فضاؤں میں ایران کی فتح اور انکل سام کی عبرتناک شکست کا شور نمایاں ہے۔ یہ قصہ ابھی ناتمام ہے، لیکن انجام کی سمت واضح ہو چکی ہے۔

Check Also

American Senate Committee Ki Hamein Khabardar Karne Ki Koshish

By Nusrat Javed