Nishtar Town Press Club Ki Shandar Taqreeb e Halaf Bardari
نشتر ٹاؤن پریس کلب کی شاندار تقریبِ حلف برداری
کسی بھی معاشرے کی ترقی میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہوتی ہے، جب قلم اور کیمرہ سچائی کے ساتھ اتحاد اور ایمانداری کا عہد کرتے ہیں، تو معاشرہ جھوٹ، خوف اور بدعنوانی کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کی راہ پاتا ہے۔ یہی منظر گزشتہ روز نشتر ٹاؤن پریس کلب لاہور کی تقریبِ حلف برداری میں دیکھنے کو ملا، جس کا انعقاد ایفرو ایشین انسٹیٹیوٹ کے آڈیٹوریم ہال میں کیا گیاتھا، جہاں نئے عہدے داروں نے اپنے قلم کو قوم کی آواز بنانے کا وعدہ کیا۔
یہ تقریب صرف رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ مقامی صحافت کی نئی صبح کی نوید تھی، جذبہ، جوش اور عزم کے امتزاج سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شریک دل میں نیا عہد لیے بیٹھا ہو، نئے صدر، جنرل سیکرٹری اور عہدیداران نے حلف اُٹھاتے وقت جو الفاظ ادا کیے، اُن میں پیشہ ورانہ دیانت، عوامی خدمت اور سچ بولنے کی جرات جھلک رہی تھی۔ اس موقع پر سینئر صحافیوں، سیاسی نمائندوں، سماجی کارکنوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے اندازہ ہوا کہ نشترٹاؤن پریس کلب اب صرف صحافتی مرکز نہیں، بلکہ کمیونٹی کا ایک فکری محور بنتا جا رہا ہے۔
نشتر ٹاؤن پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران صدر ہارون رحمان خان، سینئر نائب صدر محمد اکرم فوجی، نائب صدور اقبال نیازی، عامر سہیل مٹو، ایم اے تبسم، جنرل سیکرٹری شاہد جٹ، جوائنٹ سیکرٹری ایم واجد سلیم، فنانس سیکرٹری عبد اللطیف بیگ، انفارمیشن سیکرٹری ملک عبدالصمد اعوان، ایڈیشنل انفارمیشن سیکرٹری ادیبہ عمر سے مہمان خصوصی صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے حلف لیا، حلف برداری تقریب میں چیف ایگزیکٹو نشتر ٹاؤن پریس کلب فیاض احمد رانا، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدیداران و ممبران وائس چیئرمین میاں نواز شاہد، سید لیاقت حسین بخاری، اصغر علی عباسی، ڈاکٹر شاہد محمود، خالد خان، عبدالستار عاجز، نعمان نور ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت اور وکالت دونوں کا مرکز "قانون" اور آئین کی بالادستی ہے، اس لیے ان دو طبقات کا آپس میں مضبوط رابطہ معاشرے کے کمزور طبقوں کے لیے ڈھال بن سکتا ہے۔ انہوں نے نشتر ٹاؤن پریس کلب کی تقریبِ حلف برداری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عہدیداروں کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ اور رویوں کی تجدید کا دن ہے، اس دن لیا گیا حلف دراصل آئین، انصاف اور سچائی کے ساتھ وفاداری کا حلف ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ لاہور بار ایسوسی ایشن، نشتر ٹاؤن پریس کلب کے ساتھ قانونی آگاہی پروگرام، میڈیا ورکشاپس اور آئینی حقوق پر مشترکہ سیشنز کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی، انہوں نے کہا کہ اگر صحافی خبر شائع کرنے سے پہلے وکیل کی طرح شواہد دیکھنے کی عادت ڈال لے تو معاشرہ بہت سے فتنوں، افواہوں اور کردار کشی سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف ایگزیکٹو فیاض احمد رانا اور ان کی ٹیم اس پریس کلب کو ایسا فورم بنائیں گے جہاں صحافت، قانون اور عوامی شعور ایک ساتھ مل کر مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھیں گے۔
چیف ایگزیکٹو فیاض احمد رانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ نشتر ٹاؤن پریس کلب صرف صحافیوں کا نہیں بلکہ پورے علاقے کے باشعور شہریوں کا مشترکہ فورم ہے، جہاں ہر وہ شخص اپنی آواز اٹھا سکتا ہے جو کسی حقیقی مسئلے، ناانصافی یا عوامی مفاد کے معاملے پر میڈیا کی مدد چاہتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صحافی وہ پل ہیں جو گلی محلوں کے مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچاتے ہیں، اس لیے ان کے قلم اور کیمرے کو آزاد، باخبر اور ذمہ دار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پریس کلب کو ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط کیا جائے گا اور اسے شخصیات نہیں بلکہ اصولوں کے تحت چلایا جائے گا۔
چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں پریس کلب کے پلیٹ فارم سے میڈیا ایتھکس، فیکٹ چیکنگ، ڈیجیٹل جرنلزم اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے موضوعات پر باقاعدہ ورکشاپس اور سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جن میں خاص طور پر نوجوان اور نوآموز صحافیوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبر، یک طرفہ رپورٹنگ اور ذاتی کردار کشی کے لیے پریس کلب کا پلیٹ فارم کبھی استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، کیونکہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو درست، متوازن اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔
نشتر ٹاؤن پریس کلب کی یہ تقریبِ حلف برداری اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر بھی صحافت کو منظم، باوقار اور عوام دوست بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ اگر چیف ایگزیکٹو فیاض احمد رانا اور ان کی ٹیم اپنے اعلان کردہ ویژن اور فیصلوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کر پاتی ہے تو یہ پریس کلب نہ صرف نشتر ٹاؤن بلکہ پورے شہر کے لیے مثبت، شفاف اور ذمہ دار صحافت کی ایک روشن مثال بن سکتا ہے۔
تقریب کے آخر میں نئے عہدیداران نے اجتماعی طور پر یہ عہد کیا کہ وہ ذاتی مفادات، باہمی گروپ بندی اور بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف صحافت اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں گے۔ یہ بھی طے پایا کہ پریس کلب میں آنے والی ہر درخواست، شکایت اور خبر کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس پر صحافتی اصولوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اجتماعی دعا کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی، جبکہ مہمانوں کو ریفریشمنٹ بھی پیش کی گئی۔

