Kahna Tehsil Kyun Na Ban Saka?
کاہنہ تحصیل کیوں نہ بن سکا؟

لاہور شہر کی حدود میں جب نئی تحصیلوں کی تقسیم ہوئی تو کاہنہ کا نام نہ صرف غائب ہوا بلکہ اس کی جگہ نشتر جیسے علاقے کو ترجیح دی گئی، حالانکہ کاہنہ برسوں سے 80 سے زائد دیہات کا قدرتی مرکز ہے۔ یہ محرومی محض انتظامی غفلت نہیں، بلکہ سیاسی ترجیحات اور مقامی قیادت کی کمزوری کا آئینہ ہے جو علاقائی حقوق کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ آج کا سوال وہی ہے جو کاہنہ کے عوام برسوں سے پوچھ رہے ہیں، کاہنہ سے تحصیل کا حق کیوں چھینا گیا؟
کاہنہ نو سے کاہنہ نو تک پھیلا ہوا یہ علاقہ لاہور کے جنوبی حاشیے پر واقع ہے جہاں دیہاتی آبادی کا بوجھ، شہری دباؤ اور روزمرہ مسائل ایک ساتھ امڈ آئے ہیں۔ برسوں سے مقامی سطح پر مطالبہ اٹھتا رہا کہ اسے الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ تھانہ کا بوجھ کم ہو، مقدمات کی سماعت جلد ہو اور سرکاری سہولیات قریب آئیں۔ مگر جب صوبائی کابینہ نے لاہور کو دس تحصیلوں میں تقسیم کیا تو رائیونڈ، علامہ اقبال، نشتر، ماڈل ٹاؤن، کینٹ، صدر، واہگہ، شالیمار، راوی اور لاہور سٹیتو تحصیلیں بن گئیں لیکن کاہنہ کا نام کہیں نہ دکھائی دیا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف بھی کاہنہ سے ہی جیت کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائض ہوئے لیکن کاہنہ کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے، کاہنہ کی عوام کا مطالبہ واضح تھا کہ کاہنہ کو نشتر کے بجائے الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ مسائل کا فوری حل ہو سکے۔ اس مہم میں سب سے آگے سوشل ورکر ملک عبدالستار کاہنے والے کا کردار ناقابلِ فراموش رہا ہے۔ ملک عبدالستار کاہنہ نو کے مایہ ناز سماجی کارکن ہیں، جو سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر کاہنہ کی آواز بنے۔ انہوں نے نشتر تحصیل کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے"کاہنہ تحصیل بناؤ" کا نعرہ بلند کیا۔ فیس بک، انسٹاگرام پر مسلسل پوسٹس اور ویڈیوز شئیر کرکے انہوں نے تاریخی حقائق، آبادیاتی اعداد و شمار اور انتظامی ضرورت کو اجاگر کیا۔ عوام کو منظم کرنے، جلسوں کا اہتمام اور حکومتی دفاتر تک کیس پہنچانے میں ان کی محنت نمایاں رہی۔
نشتر کو تحصیل بنائے جانے پر کاہنہ کے عوام سراپا احتجاج ہوئی، کیونکہ نشتر کا بڑا حصہ کاہنہ سے جڑا ہوا ہے، کاہنہ کی عوام کا واحد مطالبہ یہی تھا کہ ہمارا حق کیوں چھینا؟" مگر یہ احتجاج سوشل میڈیا کی چند پوسٹوں اور فیس بک لائیو تک محدود رہا، حکومتی فائلوں تک نہ پہنچ سکا۔ نتیجتاً، کاہنہ اب بھی رائیونڈ یا نشتر کا سب یونٹ، بن کر رہ گیا، جبکہ اس کی آبادی اور مسائل کسی بھی نئی تحصیل کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ تحصیل بننے کا فیصلہ کاغذوں پر نہیں، سیاسی کمروں میں ہوتا ہے۔ کاہنہ کے پاس ووٹ تو ہیں لاکھوں شہری اور دیہات یبھی مگر ایم پی اے، ایم این اے یا صوبائی وزیروں کی ایسی لابی نہیں جو فائل کو ہری مہر، تک پہنچا سکے۔ نشتر، واہگہ اور راوی جیسے علاقوں کے پیچھے مضبوط حلقہ بندی تھی، جہاں ایم این اے کے حلقے اور ترقیاتی پیکجز کا حساب لگایا گیا۔ کاہنہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی پنڈت ہمیشہ کی طرح خاموش رہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ تقسیم "انتظامی بہتری، عوامی ریلیف اور مالیاتی اصلاح" کے لیے ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو کاہنہ کیوں پیچھے؟ یہاں قبرستانوں کی تنگی، نالوں کی بندش، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پولیس اسٹیشن کا بوجھ برسوں سے رپورٹ ہو رہا ہے۔ بسنت کے دنوں میں پولیس کاہنہ میں کڑی کارروائیاں کرتی ہے، جرائم رپورٹ ہوتے ہیں، مگر سہولیات صفر۔ اصل وجہ؟ سیاسی وزن کی کمی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ لاہور کو 10 تحصیلوں میں بانٹنے سے گورننس بہتر ہوگی، ٹیکس وصولی بڑھے گی اور مقدمات کم ہوں گے۔ مگر کاہنہ جیسے علاقے کو نظر انداز کرنے سے یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوتا ہے۔ کاہنہ LDA سٹی، نہر کے کنارے اور دیہاتی پھیلاؤ کا مرکز ہے جہاں 30 سالہ مسائل حل طلب ہیں نہ صرف زمینوں کی خرید و فروخت بلکہ روزمرہ عدالتی کام۔ اگر انتظامی منطق پر عمل ہوتا تو کاہنہ پہلی فہرست میں ہوتا، کیونکہ یہاں دیہات اور شہر کا امتزاج ہے جو الگ یونٹ بننے کا تقاضا کرتا ہے۔
محرومی کا زخم گہرا ہے۔ کاہنہ لاہور کے ٹیکس ادا کرتا ہے، ٹریفک کا دباؤ برداشت کرتا ہے، مگر ترقیاتی نقشے میں حاشیہ ہے۔ قبرستانوں پر جگہ نہ ملنے پر احتجاج ہوئے، مگر اگر یہ مسئلہ گلبرگ یا ڈیفنس میں ہوتا تو اسکیم کا اعلان ہو جاتا۔ یہ ناانصافی مقامی سطح کی ہے، جو صوبائی پالیسی تک جڑی ہوئی ہے۔ کاہنہ تحصیل نہ بن سکا کیونکہ اس کی آواز منتشر تھی، مگر اب وقت ہے مشترکہ پلیٹ فارم کا۔ عوام، سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی اگر چارٹر آف ڈیمانڈ، بنا کر دباؤ ڈالیں تو ترمیم ممکن ہے۔ تحصیل فائلوں سے نہیں، اجتماعی طاقت سے ملتی ہے۔ کاہنہ جیسے علاقوں کو حقوق دلانے کے لیے اب خاموشی توڑنی ہوگی، ورنہ محرومی کی یہ داستان جاری رہے گی۔ کیا کاہنہ والے تیار ہیں اپنا حق چھیننے کے لئے؟

