Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Ghaza Board Of Peace Pakistan Tareekh Ke Katehre Mein

Ghaza Board Of Peace Pakistan Tareekh Ke Katehre Mein

غزہ "بورڈ آف پیس" پاکستان تاریخ کے کٹہرے میں

پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت محض ایک سفارتی اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ، نظریہء ریاست اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے درمیان ایک نہایت اہم موڑ ہے۔ اس فیصلے نے ملک کے اندر بھی بحث چھیڑ دی ہے اور باہر بھی دوست و مخالف سب کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ غزہ میں جاری قتلِ عام، محاصرے اور انسانی المیے نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رکھا ہے مگر طاقت کا توازن اب بھی قابض ریاست کے حق میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم ہونے والے غزہ "بورڈ آف پیس" میں پاکستان کی شمولیت دراصل اسی ٹوٹتے بنتے عالمی نظام میں ایک نئی سفارتی صف بندی کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کیا اور اسے غزہ میں دیرپا جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے عمل کو تقویت دینے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔ پاکستانی موقف یہ ہے کہ اگر کسی بھی عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق میں کوئی عملی بات ہو سکتی ہے تو پاکستان کو وہاں موجود ہونا چاہیے، باہر کھڑے ہو کر نعرے لگانے کے بجائے میز پر بیٹھ کر بات کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

اس اقدام کے دفاع میں پاکستان کا سرکاری بیانیہ تین بڑے نکات کے گرد گھومتا ہے۔ اول، یہ کہ بورڈ آف پیس کوئی فوجی اتحاد نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اور سفارتی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے ذریعے غزہ میں امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دوم، عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کوئی فوجی تعیناتی اگر ہوئی بھی تو اس کا کردار محدود، واضح اور کسی مسلمان، کسی اسلامی تنظیم یا حماس کو غیر مسلح کرنے کے خلاف ہرگز استعمال نہیں ہوگا۔ سوم، حکومت یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ پاکستان جیسے ایٹمی، بڑی فوجی قوت اور اہم اسلامی ملک کیلئے ایسے کثیرالجہتی فورمز سے دور رہنا اپنی سفارتی و اسٹریٹجک اہمیت کو خود کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

سرکاری بیانیے میں ایک اور اہم پہلو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ ہے۔ اعلامیے میں توقع ظاہر کی گئی کہ بورڈ آف پیس کے تحت ایسا سیاسی عمل شروع ہو سکے گا جو محض جنگ بندی تک محدود نہ رہے بلکہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی طرف پیش قدمی کرے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس فیصلے پر شدید بحث جاری ہے، حزبِ اختلاف نے اسے پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا فیصلہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کے مطابق جب ماضی میں افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک پر امریکی مداخلت کے نتائج تباہ کن نکلے تو اب غزہ کے نام پر کسی ایسے فورم کا حصہ بن جانا، جس کی پشت پر یہی طاقت کھڑی ہو، پاکستان کو ایک نئے جال میں الجھانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔

بعض مذہبی و سیاسی رہنما اسے "پیس بورڈ" کے بجائے "قبضہ بورڈ" کا نام دیتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ایسا فورم جس میں خود فلسطینی فریق کی نمائندگی نہیں، وہ کیسے حقیقی امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ پلیٹ فارم اسرائیل کو ایک نئے سیاسی لبادے میں قبولیت دلوانے، مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنے اور فلسطینی عوام کی مزاحمت کو "انتہا پسندی" کا نام دے کر غیر موثر بنانے کا ذریعہ نہ بن جائے۔

پاکستان کی شمولیت سے جہاں بہت سے اسلامی ممالک نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے، وہاں اسرائیل نے کھلے لفظوں میں اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے بیانات سے یہ جھلکتا ہے کہ انہیں غزہ کے کسی بھی عبوری بندوبست، تعمیرِ نو یا امن مشن میں پاکستان جیسے ملک کی موجودگی "ناقابلِ قبول" محسوس ہوتی ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان کا مسلسل pro-Palestine مؤقف اور حماس سمیت فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ہمدردی ہے۔

دوسری طرف، قطر، ترکی، سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور دیگر ممالک بھی اس بورڈ کا حصہ ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مسلم دنیا کا ایک نمایاں طبقہ، شدید تحفظات کے باوجود، اس پلیٹ فارم کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اندر سے اس پر اثرانداز ہونے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، بلاکس بدل رہے ہیں اور ایسے میں کثیرالجہتی فورمز میں فعال شرکت کو کئی تجزیہ کار ریاستی بقا اور سفارتی وزن کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان غزہ بورڈ کا حصہ بنا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اس پلیٹ فارم کو کس سمت میں استعمال کرتا ہے۔ اگر اسلام آباد اپنے اصولی مؤقف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو سامنے رکھتے ہوئے مضبوط، بے لاگ اور واضح سفارت کاری کرے تو یہ فورم غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں بڑے اضافے، تعمیرِ نو اور فلسطینی ریاست کے لیے حقیقی پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

البتہ اگر یہ شمولیت محض تصویری اجلاسوں، مشترکہ اعلامیوں اور طاقتور ملکوں کی مرضی کے مطابق "پروسیسنگ یونٹ" تک محدود رہی تو پھر پاکستان کو اندرونِ ملک اپنے فیصلے کا دفاع کرنا دشوار ہو جائے گا اور عوامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو سکتا ہے کہ ریاست نے اصولی موقف کے بدلے محض علامتی کردار قبول کیا۔ اس لئے پاکستان پر تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بورڈ آف پیس کو واقعی امن، انصاف اور آزادی کے ایجنڈے کی طرف دھکیلے، نہ کہ اسے فلسطینی جدوجہد کو بے اثر کرنے کے کسی نئے عالمی منصوبے کا حصہ بننے دے۔

پاکستان کی غزہ بورڈ میں شمولیت ایک ایسا موڑ ہے جہاں سفارت کاری، اصول پسندی، قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری سب ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں دنیا دیکھے گی کہ آیا اسلام آباد اس موقع کو تاریخ کے درست رخ پر استعمال کرتا ہے یا خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

Check Also

Moscow Se Makka (22)

By Mojahid Mirza