Gharelu Zurat Ba Muqabla Tik Toker Aurat
گھریلو عورت بمقابلہ ٹک ٹاکر عورت
ہمارا معاشرہ آج ایک فکری دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف وہ عورت ہے جو گھر کی چار دیواری میں رہ کر خاندان، رشتوں اور اقدار کی نگہبان ہے، دوسری طرف وہ عورت ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں اپنی شناخت بناتی ہے، دیکھی جاتی ہے اور سنی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ان میں سے کون بہتر ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے عورت کی عزت کا معیار کیا بنا لیا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ عورت کی وقار اس کے مقام سے نہیں، اس کے کردار سے جڑا ہوتا ہے:
"A womans dignity is not defined by where she stands, but by what she stands for. "
گھریلو عورت کی محنت خاموش ہوتی ہے۔ وہ تالیاں نہیں بٹورتی، مگر اس کی گود میں پلنے والی نسلیں پورے معاشرے کی سمت متعین کرتی ہیں۔ اسی لیے کہا گیا:
"The hand that rocks the cradle rules the world. "
بدقسمتی سے ہم اس خاموش محنت کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ
"Unpaid work is still work, and invisible labor still shapes society. "
دوسری طرف ٹک ٹاکر عورت جدید دور کی نمائندہ ہے۔ اس نے ٹیکنالوجی کو ذریعہ بنا کر اظہار، آمدن اور پہچان حاصل کی۔ یہ مواقع اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، مگر مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب اظہار، نمائش بن جائے اور وقار ویوز کا محتاج ہو جائے۔ کیونکہ
"Technology is a tool; it can elevate voices or exploit them, intention makes the difference. "
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر نظر آنا بااختیار ہونا نہیں۔ اصل اختیار وہ ہے جس میں عورت اپنے فیصلوں کی مالک ہو:
"Empowerment is not exposure; it is having control over ones choices. "
آج عزت کو لائکس اور فالوورز میں تولا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے:
"A womans worth is not measured in views, likes, or followers, but in impact. "
اصل مسئلہ گھریلو عورت یا ٹک ٹاکر عورت نہیں، اصل مسئلہ توازن کی کمی ہے۔ جدیدیت اگر اخلاق کے بغیر ہو تو وہ کھوکھلی رہ جاتی ہے:
"Modernity without morality is progress without purpose. "
عورت چاہے گھر میں ہو یا ڈیجیٹل دنیا میں، اس کی پہچان اس کا کردار، اس کی نیت اور اس کا سماجی اثر ہے:
"A strong woman does not seek attention; she commands respect through character. "
ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت کو خانوں میں بانٹنے کے بجائے اسے انتخاب کا حق دیا جائے اور ہر اس راستے کو عزت دی جائے جو شعور، ذمہ داری اور وقار کے ساتھ چنا گیا ہو۔ کیونکہ
"Freedom becomes meaningful only when guided by responsibility. "
آخر میں، ماننا ہوگا کہ مسئلہ عورت کا نہیں، ہماری سوچ کا ہےاور جب سوچ بدلتی ہے تو معاشرہ بھی بدلتا ہے۔
اسلام عورت کو کسی ایک دائرے میں قید نہیں کرتا، بلکہ اسے وقار، حیا اور ذمہ داری کے ساتھ جینے کا راستہ دیتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں گھریلو عورت اور ٹک ٹاکر عورت کے درمیان جو غیر اعلانیہ مقابلہ کھڑا کر دیا گیا ہے، اس کی جڑ عورت میں نہیں بلکہ ہماری ترجیحات میں ہے۔
اسلام میں عورت کی اصل قدر اس کے کردار سے جڑی ہے، نہ کہ اس کے ظاہر سے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: "إِنَّ أَكُرَمَكُمُ عِندَ اللَّهِ أَتُقَاكُمُ" (اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو)، الحجرات: 13
یہ معیار مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔
گھریلو عورت وہ ہے جو خاندان کی بنیاد کو مضبوط کرتی ہے۔ ماں کی گود کو پہلی درسگاہ قرار دیا گیا اور یہی وہ مقام ہے جہاں کردار سازی ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا"۔ (بخاری و مسلم)
یہ ذمہ داری گھریلو عورت کو ایک عظیم سماجی منصب عطا کرتی ہے، جسے محض "گھر تک محدود" کہہ کر کم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف، جدید دور میں ٹیکنالوجی نے عورت کو اظہار اور معاشی خودمختاری کے مواقع دیے ہیں۔ اسلام محنت، ہنر اور رزقِ حلال کے خلاف نہیں۔ حضرت خدیجہؓ ایک کامیاب تاجرہ تھیں، جو اس بات کی روشن مثال ہیں کہ عورت باوقار طریقے سے معاشی میدان میں بھی فعال ہو سکتی ہے۔ مگر اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزادی حدود کے ساتھ ہو۔ قرآن کہتا ہے: "وَلَا تَبَرَّجُنَ تَبَرُّجَ الُجَاهِلِيَّةِ الُأُولَىٰ" (اپنے حسن کی نمائش اس طرح نہ کرو جیسے پہلی جاہلیت میں کی جاتی تھی)، الاحزاب: 33
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اظہار اور نمائش میں فرق ہے۔ ہر نظر آنا بااختیار ہونا نہیں اور ہر خاموشی کمزوری نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الحياء من الإيمان" (حیا ایمان کا حصہ ہے)، مسلم
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب عزت کو فالوورز، ویوز اور شہرت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں اصل کامیابی اخلاق اور اثر میں ہے، نہ کہ وقتی مقبولیت میں۔ عورت چاہے گھر میں ہو یا ڈیجیٹل دنیا میں، اس کی پہچان اس کا تقویٰ، شعور اور سماجی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

