Tehreek e Jadeed
تحریکِ جدید
حال ہی میں فیمینزم کی ایک تحریک نظر سے گزری۔۔ اس تحریک میں بلی بآلاخر تھیلے سے نکل کر باہر آہی گئی۔۔ ہر ذمے داری ہر رشتے سے آزادی طلب کی جا رہی تھی۔۔ نہ شادی کرنی ہے نہ بچے چاہیئں۔ نہ مرد۔۔ مکمل آزادی چاہیے۔۔ مرد سے نفرت ان کے ایک ایک ایکٹ سے ظاہر تھی۔۔ اس سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ یہ تمام خواتین برہنہ تھیں۔۔ جی ہاں۔۔ ٹاپ لیس خواتین۔۔ واضح ہوگیا کہ انہیں شرم حیا۔۔ اخلاقیات۔۔ مذہب بھی نہیں چاہیے۔۔ کیونکہ مذہب بھی تو کئی معاملات میں پابند بناتا ہے۔
ہماری فیمینسٹس کے احساسات و جذبات بھی انہی سے ملتے جلتے ہی ہیں اور جلد بدیر انہوں نے بھی یہی نعرہ لگانا ہے۔۔ کیونکہ شریعت کی من پسند تشریح نکالنے میں ویسے بھی انکا ثانی کوئی نہیں۔ گویا سب اپنے حصے کا کسٹمائز دین چاہتی ہیں۔۔ ان شارٹ اپنے مفادات پر چوٹ نہ پڑے اور اگلوں کا جتنا استحصال ہوسکتا اتنا کیا جاے۔۔
جہاں ایک سے زائد شادی کی بات آجاے۔۔ ایک قیامت کھڑی کر دی جاتی ہے کہ مرد نا اہل ہے دوسری نہیں سنبھال سکے گا۔۔ ہمیں سنبھال رہا یہ بھی غنیمت ہے۔۔ یعنی تمہارے لیے جو اہل تھا وہ باقیوں کے لیے اب نا اہل ہوگیا؟ ایسے ایسے پیچیدہ اعتراضات اور جواز۔۔ الامان۔۔
زیادہ دور نہ جائیں آج سے دو تین عشرے پیچھے چلیں جایں تو ایک سے زائد شادیاں ایسا ایشو کبھی نہ تھیں جیسا اب بنا دی گئی ہیں۔۔ ان کی اولادیں بھی آپس میں آج تک شیر و شکر ہیں۔۔ کوئی خصوصی اختلاف بھی نہیں۔۔ یہ تو اب پتہ چلا ہے کہ دو شادیاں تو بھیڑیے کرتے ہیں۔۔ ہمارے دادے پردادے تو بھیڑیے تھے عورتوں پر ظلم کر گئے۔ ہم ایسا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔۔
یہ اور بات ہے ان سو کالڈ حقوق کی دوڑ میں داخل ہو کر بھی خواتین کی حالت مزید پتلی ہی ہو رہی ہے۔۔ گھر بھی سنبھالتی ہیں۔۔ نوکریاں بھی کرتی ہیں۔۔ وقت سے پہلے توانائیاں ختم ہو رہی ہیں۔۔ ایک کامیابی ضرور ملی ہوی۔ شوہر کو اپنے تئیں باندھ رکھا ہے۔۔ واقعی؟
اپنی طرف سے یہ احسان بھی سنایا جاتا کہ ہم کماتی ہیں شوہروں کا ساتھ دیتی ہیں۔۔ ہم پر دگنی ذمے داری ہے۔۔
برانڈ فوبیا بھی آپ کو ہے۔۔ شو بازی بھی آپ نے کرنی ہوتی ہے۔۔ ایک اسٹیٹس بھی آپ نے شو کرنا ہے۔۔ نوکر چاکر بھی آپ کو چاہیے ہوتے ہیں۔۔ بار بار یہ جو مردوں کو فرمان سنایا جاتا ہے کہ کھانا کپڑے گھر اسکی ذمے داری ہے۔۔
تو اس بات سے انکار کس نے کیا؟ جتنے پیسے شوہر کی ذات پر خرچ ہوتے اتنے ہی پیسے خود پر خرچ کریں تو پتہ چلے۔۔
ذرا ایمانداری سے اپنی الماریاں چیک کریں۔۔ شوہر کی تنخواہ کے تین حصے کیے جایں تو ایک حصے میں صرف آپ کے کپڑے آتے ہیں۔۔ ساری مارکیٹیں خواتین کے دم سے چل رہی ہوتی ہیں۔۔
خود نوکریاں کرلیں تب بھی انکی آدھے سے زیادہ کمائی برانڈز کی جیب میں جاتی ہے۔۔ انسٹاگرام پر کئی ایسے پیج بنے ہوے۔۔ جہاں خواتین ایک بار کا پہنا ہوا کپڑا آدھی قیمت پر سیل کر رہی ہوتی ہیں۔۔ وہ آدھی قیمت بھی دس سے پندرہ ہزار کے انڈر ہوتی ہے۔۔ اتنی بے حسی؟
مرد روٹی کپڑا مکان دینے کا پابند ہے۔ بے جا اسراف۔۔ فضول خرچیوں کا پابند تو نہیں ہوتا نا۔۔
میرے حقوق کی رٹ لگا کون رہی ہوتی ہیں؟
وہ جو حق سے زیادہ آل ریڈی وصول کر رہی ہوتی ہیں۔۔ اس کے علاوہ وہ جو غلط فیصلوں کی وجہ سے پریشاں زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔۔ لیکن اسکا ذمے دار مرد کو سمجھتی ہیں۔۔ یاپھر وہ جو مالی طور پر مضبوط ہوتی ہیں۔۔ انہیں مردوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔ کیونکہ مرد مکمل اپنی مرضی نہیں کرنے دے گا۔۔ کسی قسم کی پابندی نہیں چاہیے بس۔۔
اور بدلے میں کیا ملتا۔۔ شوہر کے ساتھ ایک ہیلتھی ریلیشن شپ تک نہیں رکھ پاتیں۔۔ ہم سے کچھ نہ مانگو بس۔۔ ہمیں دیے جاو۔۔
لے دے کر سب سے بڑی مثال یہ دی جاتی کہ ہمارے نبی ﷺ کے داماد نے جب بیوی کی موجودگی میں شادی کرنا چاہی تو انہیں منع کردیا گیا۔۔ دیکھا بیوی کو تکلیف ہوتی تو منع کیا۔۔
تو پیار میں ایموشنل طریقے سے آپ بھی کوشش کرلیں۔ آپ کو کس نے روکا ہے؟ نبی کی بیٹی نے شوہر کی کردار کشی نہیں کی تھی۔۔ گھر کو اکھاڑا نہیں بنایا تھا۔۔ نہ ہی شوہر کا جینا حرام کیا۔۔
اور سب سے بڑی بات۔۔ یہ ضرور سمجھیں کہ نبی کی بیٹی۔۔ خواتین کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھنے والی۔۔ ایک آئیڈیل زوجہ ہونے کے باوجود بھی شوہر کو کوئی اور عورت پسند آئی اور اسے کوئی جرم نہیں سمجھا گیا۔۔ نا ہی بیوی نے اسے ذاتی توہین سمجھا اور طلاق مانگی۔ پیار سے قائل کیا گیا۔۔ زوجہ کی وفات کے بعد ایک چھوڑ کئی شادیاں کیں۔ ان بیویوں سے جو اولادیں ہویں انہوں نے پہلی بیوی سے موجود بیٹے پر جانیں تک نچھاور کیں۔۔
بہرحال قصہ مختصر۔۔
یہاں سب سے زیادہ اہمیت اس چیز کی ہے۔۔ دوسری شادی میں مالی معاملات کی تنگی سب سے بڑا خوف ہے۔۔ یہ خوف دور کردیا جاے تو شاید اتنی پریشانی نہ رہے۔۔ کھاتے پیتے لوگوں کی دو دو تین تین شادیوں پر بھی بیویاں سکون سے رہ رہی ہوتی ناں۔۔ نہ انکو توہین محسوس ہوتی نا حق تلفی۔۔ ترس آتا ہے مجھے ان مردوں پر۔۔ جو اپنی فیملی کو آسانی فراہم کرنے کے لیے مشقتوں میں پڑے رہتے ہیں۔۔ فکر معاش میں اپنا ہوش بھول بیٹھتے ہیں اور ان کی بیویاں سوشل میڈیا پر فیمیزم کے نعرے پڑھ کر اس شوہر کو درندہ ماننے لگ جاتی ہیں۔۔ کہ ابھی بھی میرے حقوق تو ادھورے ہیں۔۔
یہ میرے گھر کے سامنے جو چوکیدار بیٹھا ہے نا۔۔ سردی گرمی یہی کیبن اسکا ٹھکانہ رہنا ہے۔۔ ذرا ایک بار شوہروں کی جابز کا مشاہدہ کریں۔۔ ایک دن۔۔ صبح سے شام تک دیکھیں تو سہی۔۔ آپ کو اے سی میں بٹھانے والا یہ شوہر اس اے سی کا بل بھرنے کو کس قدر پاپڑ بیلتا ہے۔۔ یاد رہے۔۔ اے سی حق نہیں۔۔ آسائش ہے۔۔ کیا خیال ہے۔ مرد آسائش اور ضرورت میں فرق نہیں جانتا کیا؟
بھائی لوگ۔۔ بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق بھی یاد رکھیں۔۔