Tutions Se Parhez Karen
ٹیویشنز سے پرھیز کریں

شادی کے بعد اپنی ماں سے ریگولر ٹیویشن لینے والی لڑکیاں جلد یا بدیر دو نتائج پر پہنچ جاتی ہیں۔ یا تو طلاق ہو جاتی ہے یا سسرال میں خاوند کی نظر میں انکی کوئی عزت نہیں رہتی۔ ایسے کیسز میں اس بات کی سمجھ آنے تک یا اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں کرنے تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسا کرتا پتا کونسی لڑکیاں ہیں؟ جنکے گھر میں انکی ماں بھی ایسا ہی کرتی رہی ہو، بیٹی وہی کرتی ہے جو ماں کو کرتے دیکھا ہو یا اسکے والد کی گھر میں کوئی عزت نہ ہو۔ جن گھروں میں مرد فیصلے کرتے ہیں یا انکا کوئی کنٹرول ہوتا ہے وہ اپنی بیوی کو منع کرتے ہیں کہ بیٹی کو اپنے نئے گھر ایڈجسٹ ہونے دو اسکا پیچھا چھوڑ دو۔ اسے تمہاری عقل وہاں نہ چلانے کا کہو۔ وہاں تمہاری کہی نہیں چلنی۔
پھر کہوں گا ایسا کرنے والی لڑکیاں یا انکو ٹیویشن پڑھانے والے مائیں اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکیں گی۔ یہ انکی سمجھ سے بڑی بات ہے۔ انکو کوئی سمجھائے تو انکے لیے اس بات کو سمجھنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی گائے بھینس کو آپ الف ب پڑھا سکیں۔ اس گھر کے مرد بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتے۔ کیوں انکی گھر میں کوئی قدر نہیں ہوتی، نہ انہوں نے کبھی مردوں کی محفل اٹینڈ کی ہوتی ہے نہ انکی لائف میں کوئی بڑی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ جو بیٹی اور بیوی کہے انکے لیے وہی حدیث ہوتی ہے۔ جب بیٹی اجڑ کے گھر آبیٹھے تو سوچتے ہیں کیا ہوگیا۔
آج ایک ایسی ہی ماں جی نے اپنی کہانی سنائی جنہوں نے اپنی ٹیویشنز پڑھا پڑھا کر اپنی بیٹی کی بالآخر طلاق کروا دی جسکے تین بچے تھے۔ انکا داماد یہاں مسقط عمان میں مقیم ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے غلط کیا ہے۔ وہ اب بغیر کسی اگر مگر کے شرمندہ ہیں اور ضرورت سے زائد اپنی دخل اندازی پر نادم ہیں۔ میں انکے داماد سے ملکر تصفیہ کی کوئی صورت نکالوں۔ میں نے کہا اچھا کوشش کروں گا ان سے مل سکوں۔
ان موضوعات پر میں کبھی کبھار لکھا کرتا تھا۔ یہاں موجود فلاسفر آنٹیاں آپے سے باہر ہو جاتی تھیں۔ پھر یہاں وہاں میرے خلاف دل کی بھڑاس نکال لیتی تھیں۔ کئی بار پڑھا تو بونگیاں ہی ہوتی تھیں انکی جواب شکوہ پوسٹوں میں۔ پھر زندگی مصروف ہوتی گئی وقت کم ہوتا گیا اور بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینا چھوڑ دیا۔

