Beti Ko Shadi Pe Raqam Zaroor Dein
بیٹی کو شادی پہ رقم ضرور دیں

اگر آپ شادی شدہ لڑکی ہیں۔ آپ کے پاس شادی کے فوری بعد کتنے پیسے ذاتی حیثیت میں موجود تھے؟ یا آپ کو کوئی رقم خاص کر میکے سے ملی ہو؟ وہ رقم آپ نے اپنے پاس رکھی ہو یا رکھنے دی گئی ہو؟ کتنی دیر اور اس کا استعمال کیا تھا؟ یا آپ کے اپنے پاس اپنی ذاتی کمائی میں سے کوئی کیش میں سیونگ تھی؟ کتنی رقم تھی بھلا؟ دوسرا اپنی طرف سے یا لڑکے والوں کی طرف سے ملنے والی سلامی کی رقم آپ کے پاس رہی یا لے لی گئی؟ آپ کے گھر والوں کی طرف سے یا سسرالیوں کی طرف سے؟
ایک نہیں کئی عدد ایسی بہنیں جن کے پہلے بچے کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ انکے ہاں شادی کے پہلے سال میں ہی اولاد پیدا ہوئی تھی۔ یعنی شادی کے فوراً بعد حمل ہوگیا۔ ان سے میں گذشتہ کئی برسوں میں ہونے والے رابطوں میں یہی سوال کیا۔ کہ انکے پاس کچھ پیسے تھے؟ جن سے وہ دوران حمل پراپر سکیننگ کروا سکتیں؟ انکی دسترس میں کوئی قابل ریڈیالوجسٹ تھا؟ دیگر بنیادی ٹیسٹنگ اور اچھی ڈائیٹ کے لیے انکے پاس پہلے حمل کے دوران مالی وسائل کیسے تھے؟
اکثریت کا جواب تھا۔ یاد رہے مڈل کلاس کی اکثریت۔ میرا واسطہ اسی کلاس سے رہا اور اب بھی ہے۔ انکو میکے سے کوئی خاص رقم کیش میں نہیں ملی تھی۔ میکے والی سلامی بھی اکثریت سے لے لی گئی اور سسرال والی سلامی بھی ان میں سے اکثریت سے لے لی گئی تھی۔ انکا جہیز تو بنایا گیا، شادی بھی اوقات سے بڑھ کر ہوئی، حتی کہ دلہن کو سونے کا زیور میکے سے اور اسکی ساس کو سونے جھمکے بھی ڈالے گئے مگر اسے چند ہزار پاکٹ منی نہیں دی گئی۔ جسے وہ شادی کے ابتدائی مہینوں میں اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔
مڈل کلاس گھرانوں میں لڑکے اور لڑکی والے دونوں فریقین شادی پر قرض لیتے ہیں۔ اس کے سوا شادی ممکن نہیں رہی۔ اب لڑکی والے تو بعد میں اتارتے رہتے ہیں جب کہ لڑکے والوں کے گھر میں ایک اور مزید خرچے والی اسائنمنٹ شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی شادی کے بعد فوری حمل۔ ڈاکٹر کے پاس جانا، ڈائیٹ دینا، ٹیسٹ کروانا، ادویات اور بعض اوقات بڑے شہروں کے سفری اخراجات۔ لڑکا ابھی شادی کے قرض میں ڈوبا ہوتا ہے اور نئے اخراجات کی کپیسٹی نہیں ہوتی۔
پھر حیلے بہانوں سے حاملہ دلہن کی بنیادی اور ضرورت کئیر کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر کے پاس جانا کوئی ضروری نہیں۔ بیس پچیس سال پرانی کچرا اور کباڑ الٹرا ساؤنڈ مشینوں سے معمولی نرسوں یا سونو گرافی میں غیر تجربہ کار گائنی ڈاکٹر سے سکیننگ کروانا۔ بیس لائن ٹیسٹنگ کو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ضروری وٹامنز، فولک ایسڈ اور ضروری ادویات کو نہیں لیا جاتا۔ بڑے شہر جانے کا سفری خرچ بچا کر قریبی نااہل دائی نرس کے پاس جایا جاتا ہے۔
اور خدا نخواستہ حمل کے دوران ابتدائی مدارج میں بذریعہ الٹرا ساؤنڈ معلوم ہو جانے والی معذوریوں کا بھی علم نہیں ہو پاتا۔ جیسا کہ بچے کا مکمل ڈھانچہ نہ بنا ہونا، گردتھ کا رکا ہوا ہونا، سر میں پانی ہونا، کمر پر پانی کا غبارہ ہونا، ڈاؤن سنڈروم وغیرہ۔
کریں بس اتنا کہ بیٹی کو جو مرضی جہیز میں دیں، اپنی استطاعت کے مطابق پچاس ہزار یا لاکھ دو لاکھ اسے کیش ضرور دیں۔ بہتر ہے اسکا بنک اکاؤنٹ کھلوا کر اس میں ڈیپازٹ کروا دیں۔ اسے اے ٹی ایم کارڈ آپریٹ کرنا سکھا دیں کہ جہاں ضرورت ہو ان پیسوں کو استعمال کر لے۔ ان پیسوں کو سسرالیوں یا خاوند کو انکے استعمال کے لیے ہرگز نہ دے۔ یہ ایک طرح کا ایمرجنسی فنڈ ہے۔ شادی کے پہلے سال میں پیش آنے والی مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اور یہ پریکٹس بلکل غیر اہم سمجھی جاتی ہے کہ اب بیاہی گئی ہے تو اسکا سب کچھ اسکا خاوند کرے گا۔ اسے کرنا بھی چاہیے۔ مگر وہ مالی مشکلات کی وجہ سے کر نہیں پاتا، آپ کر بھی سکتے ہیں تو کیوں نہیں کرتے؟
اس چیز کو مینیج کرنے کی بھی ایک ٹریننگ ہے کہ سسرالیوں کو ایسا کرنے میں اپنی عزت کم ہوتی نہ نظر آئے اور دلہن ہی چند ہزار میکے کا استعمال کرکے ساری عمر وہی طعنے مارتی رہے۔ اس پر بعد میں کسی وقت بات کریں گے۔ آج کے لیے بس اتنا ہی شادی کے بعد دلہن کے پاس پیسے ہونا اور میکے سے کچھ رقم کا دیا جانا بے حد ضروری ہے اور غیر شادی شدہ بہنیں خود سے مینیج کر سکیں تو شادی کے بعد کے لیے کچھ پیسے بچا کر اپنے پاس ضرور رکھیں۔ فضول چیزوں میں سب کچھ ہی نہ اُڑا دیا کریں۔ جب اشد ضرورت ہو اور پاس چند ہزار بھی نہ ہوں۔

