Saturday, 04 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Unchi Awaz, Kamzor Daleel

Unchi Awaz, Kamzor Daleel

اونچی آواز، کمزور دلیل

میرے دیرینہ دوست عامر ایاز خان تقریباََ چالیس سال تک سعودی عرب میں جاب کرتے رہے تھے۔ بچپن کے دوست ہونے کے ناتے وہ جب بھی محدود چھٹیوں پر پاکستان تشریف لاتے تو ان کی ایک فرمائش یہ بھی ہوتی کہ پاکستانی پنجابی فلم "مولاجٹ" ضرور دیکھی جائے اور وہ بھی کسی سینما ہال کی آگے والی سیٹیوں پر بیٹھ کر کیونکہ وہاں سینما کے اسپیکر نزدیک ہونے کی وجہ سے آواز بڑی بلند اور دھماکہ دار ہوتی اور ساتھ ہی بچپن میں ان سیٹوں پر بیٹھنے اور فلم دیکھنے کی پرانی سنہری یادیں بھی تازہ ہو جاتیں۔ وہ اس فلم میں دو کرداروں "مولا جٹ" اور "نوری نت"کے ڈائیلاگ اور بڑھکیں بہت پسند کرتے تھے۔

اس زمانے میں یہ کامیاب ترین فلم اپنےانہیں زبردست ڈائیلاگ کی بدولت ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ ہیرو او ولن ایک دوسرے کو ختم کر دینے کے بڑے بڑے ڈائیلاگ بولتے لیکن انکی لڑائی سے قبل ہی کوئی ایسی وجہ ہو جاتی یا کوئی بزرگ درمیان میں آجاتا اور ان میں صلح صفائی کرا دیتا۔ یوں ان کی لڑائی ہمیشہ ڈائیلاگ تک ہی محدود رہتی اور فلم ختم ہو جاتی تھی۔ فلم کا ہیرو سلطان راہی (مولاجٹ) اپنی مخصوص اور گرجدار آواز میں للکارتا تو سینما ہال کی فضا میں ایک عجیب سا جادو پھیل جاتا تھا۔ اس کی بڑھک محض الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک کردار کی غیرت، انا اور انتقام کی کہانی ہوتی تھی اور مصطفیٰ قریشی (نوری نت) کی جانب سے اس کی بڑھک کا خوفناک جواب اس سے بھی زیادہ زبردست ہوتا۔ ناظرین تالیاں بجاتے، سیٹیوں کی گونج سے پورا سینما ہال لرزنے لگتا اور چند لمحوں کے لیے ہمارے جیسے کمزور دل بھی خود کو طاقتور سمجھنے لگتے تھے۔

دوسری جانب فلم کے ولن کی دھمکیاں سن کر خوف اور دہشت کے سائے منڈلانے لگتے تھے۔ یہ ہماری فلمی دنیا کا رومانس اور ایکشن کے ساتھ ساتھ بڑھکوں کا دور بھی ہوا کرتا تھا۔ مولاجٹ اور نوری نت کے کردار دراصل اچھائی اور برائی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن فلم کااختتام اکثر دونوں کی زندگیوں کے اختتام کی بجائے دشمنی کی برقراری کی جانب رخ موڑ لیتا تھا کیونکہ بہت سے بڑے اور ہمدرد ان کے درمیان صلح کرا کر مولاجٹ کا گنڈاسہ دفن کرکے دشمنی کا خاتمہ کرنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ جس دشمنی کا آغاز پھر سے کسی نئی فلم کی آغاز سے نظر آتاتھا اور دفن ہوکر بھی یہ گنڈاسہ پھر سے وہیں موجود ہوتا تھا۔ ایک فلم کے اختتام پر دفن کیا ہوا گنڈاسہ دوسری فلم کے آغاز میں پھر نکل آتا تھا اور ولن کی کٹی ہوئی ٹانگ بھی صیح سلامت رہتی تھی اور ہیرو کے زخم بھی ٹھیک ہو جاتے تھے اور یوں یہ فلمیں ایک طویل سریز کی طرح آگے بڑھتی رہتی تھیں۔

ہم سب جانتے تھے کہ یہ محض ڈائیلاگ ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہر نوجوان خود کو مولاجٹ سمجھتا اور بچہ بچہ انہیں ڈائیلاگ کو دہراتا نظر آتا تھا۔ اسی لیے شاید عامر ایاز جیسا دوست جو بڑھک مار تو نہیں سکتا تھا مگر ان بڑھکوں کو سن کر دل کو تسلی اور حوصلہ ضرور دے لیتا تھا اور بار باریہ فلم دیکھنے کی خواہش رکھتا تھا۔ آج ہمارا معاشرہ بھی کسی حد تک اسی "گنڈاسہ کلچر" اور سوچ کا شکار ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے جہاں بات دلیل سے کم اور طاقت سے زیادہ منوائی جاتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے تنازعات انا کی جنگ بن جاتے ہیں۔ انصاف کی جگہ بدلہ لینے کی سوچ پروان چڑھتی رہتی ہے۔

آج امریکہ اور ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کی دھمکیاں اور پھر ایران کا جواب سن کر میں ایک دفعہ پھر ماضی میں کھو جاتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو آوازیں اونچی ہو جاتی ہیں۔ لگتا ہے کہ عالمی سیاست میں بھی اب دلیل کی جگہ آواز اور بڑھک نے لے لی ہے۔ مجھے ٹرمپ کی بے مقصد جنگ کی دھمکیاں "مصطفیٰ قریشی" جیسی لگتی ہیں اور تباہی، خوف و دہشت کی ایک لہر سی جسم میں دوڑجاتی ہے لیکن پھر ایرانی کرارا اور دبنگ جواب فلم کے ہیرو "سلطان راہی" کی طرح دل کو تقویت دیتا ہے۔ تیسری جانب صلح جو پاکستان جیسے امن پسند ممالک کی امن اور مذاکرات کی کوششیں امید کی ایک کرن روشن کرتی ہیں۔

آج جب ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما دھمکیوں کا سہارا لیتے ہیں، تو منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ یہاں تالیاں نہیں بجتیں، بلکہ دنیا کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ یہاں بڑھکیں محض ڈائیلاگ نہیں ہوتیں بلکہ میزائلوں، پابندیوں اور جنگی بیانیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور ایٹمی تباہی کا کرب ناک تصور دہلا کر رکھ دیتا ہے۔ لیکن جب یہی اندازِ گفتگو عالمی ایوانوں میں سنائی دیتا ہے تو اور بھی خوفزدہ کر دیتا ہے۔ فلموں میں بڑھک کا مقصد دشمن کو خوفزدہ کرنا اور اپنی برتری ثابت کرنا ہوتا ہے اور جس کا جواب بھی کچھ کم نہیں ہوتا مگر شاید یہ سب وہاں ایک محدود دائرے میں رہتا ہے۔ فلم ختم ہوتی ہے، پردہ گر جاتا ہے اور ناظرین اپنی حقیقی زندگی میں لوٹ آتے ہیں۔ مگر عالمی سیاست کا اسٹیج ایسا نہیں جہاں "کٹ" کہہ کر منظر بدل دیا جائے۔

آج کی دنیا میں ایک بیان، ایک ٹویٹ یا ایک دھمکی، عالمی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے۔ کرنسی گرتی ہے، تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور سب سے بڑھ کر، عام انسان کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ مہنگائی کا طوفان جنم لیتا ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک کے لیڈروں کے الفاظ اب شاید تلواروں سےبھی زیادہ تیز ہو چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلموں میں بڑھک اکثر بہادری کی علامت سمجھی جاتی ہے، مگر حقیقی دنیا میں یہی رویہ کمزوری کو چھپانے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ جب دلیل کم پڑ جائے تو آواز اونچی ہو جاتی ہے۔ جب حکمت عملی ناکام ہو جائے تو دھمکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ایسی بڑھکوں پر تالیاں بجانے کی بجائے ان کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ جو دنیا بڑھکوں پر چلتی ہے وہ آخر کار ٹکراو پر ختم ہوتی ہے اور امن کہیں دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم بطور معاشرہ بھی اسی روش پر چل پڑے ہیں؟ کیا ہم نے بھی اختلاف کو دلیل سے نہیں بلکہ آواز کی بلندی سے حل کرنا شروع کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اس "بڑھک کلچر" کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہماری سوسائٹی بھی اب ایسی ہی ہوگئی ہے جہاں ہر بندہ اپنی بات منوانے لے لیے چیختا تو ہے مگر دلیل کوئی نہیں دیتا۔ ہر شخص اپنے آپ کو "مولا جٹ یا نوری نت" تو سمجھتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس کے پاس نہ تو وہ حوصلہ ہے ہے اور نہ کوئی لڑائی کا اصول ہی دکھائی دیتا ہے۔ گو بہت سے عالمی رہنماوں کی طرح دھمکیاں دنیا کے امن کے لیےایک خطرناک کھیل ہیں اور ٹرمپ کی بڑھک ایک وقتی اور فلمی ضرورت بھی ہوسکتی ہے؟ مگر اصل طاقت تو خاموشی میں چھپی ہوتی ہے، تدبر میں اور اس فیصلے میں کہ کب بولنا ہے اور کیسے بولنا ہے؟ مگر آخر میں شاید ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہر گرجنے والا بادل برستا نہیں اور ہر اونچی آواز حق کی علامت نہیں ہوتی۔ امن پسندی اور تحمل کمزوری نہیں ہوتی۔

اصل بہادری یہ ہے کہ طاقت ہونے کے باوجود تحمل اختیار کیا جائے اور اختلاف کے باوجود امن کو ترجیح دی جائے۔ ہمیں اس حقیقت کو جاننا ہوگا کہ اصل طاقت وہ نہیں جو گرج کر ڈرا دے بلکہ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو چپ رہ کر کر بھی اثر دکھائے اور امن کا باعث بنے۔ ہمارے اباجی کہتے تھے کہ جنگ بہت بری چیز ہے۔ یہ ہمیشہ خونریزی، بربادی اور تباہی لاتی ہے۔ بہادر اور طاقتور وہ ہوتا ہے جو امن کا ضامن ہو نہ کہ کسی جنگ کا باعث بنے۔ یاد رہے کہ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ مسائل میں اضافہ کر دیتی ہے۔

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ وہ ہے جہاں مولاجٹ فلم کی طرح طاقت، غصہ اور بدلہ ہے جبکہ دوسرا راستہ وہ ہے جہاں برداشت، مکالمہ اور انصاف ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم کس سمت جانا چاہتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ طاقت کی ضرورت تب ہی پڑتی ہے جب آپ کوئی نقصان دہ کام کرنا چاہتے ہیں ورنہ محبت ہر کام کے لیے کافی ہے۔ آئیں امن اور محبت کا بات کریں۔

Check Also

Philip Sam Ke Liye Islamabad Ka Tohfa

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi