Technology Aur Jazba
ٹیکنالوجی اور جذبہ

کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر جو ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا بانی تھا۔ وہ اپنے چھوٹے سے لشکرکے ہمراہ بامیان کے بہادر یوسف زئی پٹھانوں اور ان کے تیار کردہ بارود کے جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر ہندوستان فتح کرنے کی خواہش لیے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ سمجھتا تھا جنگ میں بارود کا استعمال ابراہیم لودھی کے طاقتور ہاتھیوں کو بےبس کر دئے گا۔ مگر اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسابھی آیا کہ وہ ناامیدی اور پریشانی کی حالت میں رات بھر اپنے خیمے میں ٹہلتا رہا تھا۔ اسے اپنے ہندوستان پر حکمرانی کے خواب پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ وہ ان وجوہات کو جاننا اور سمجھنا چاہتا تھا جو اس کی کامیابی کی راہ میں روکاوٹ بن رہے تھے۔
شراب جو اس کی عادت بن چکی تھی اب اس کے لیے محض ایک ذاتی کمزوری نہیں رہی تھی بلکہ قیادت پر ایک دھبہ بن چکی تھی۔ وہ کیسے سپاہ سے ضبط، قربانی اور جانثاری کا مطالبہ کرتا جب وہ خود خواہشات کا اسیر ہو چکا تھا۔ اس کے لشکرکے پٹھان سردار اس کی شراب نوشی کو احکام الہی کے خلاف سمجھتے تھے اور پھر اس نے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا اور وہ جان گیا کہ صرف طاقت، تعداد اور ہتھیار ہی نہیں اخلاقی جواز اور جذبہ بھی جیت کی بنیاد ہوتا ہے۔
توپ سے پہلے "توبہ" کام کرتی ہے۔ بابر نے قلم اٹھایا مگر کوئی فرمان لکھنے کو نہیں بلکہ اپنا "توبہ نامہ یا عہد نامہ " لکھنے کے لیے اور یہ اعلان تھا کہ فتح کا پہلا حقدار انسانی غرور نہیں ہوتا انسانی عاجزی اور جذبہ ایمانی ہوتا ہے۔ بابر یہ سب کرکے نہ صرف اخلاقی شکست سے بچنا چاہتا تھا بلکہ جیت کا راستہ بھی دریافت کر چکا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ حق اور جبر کے درمیان باریک سی اخلاقی برتری اسے فتح دلا سکتی ہے۔ پانی پت کی اس پہلی جنگ کے دوران یہ مغل بادشاہ بابر کی زندگی کا ایک فیصلہ کن روحانی، جذباتی اور تاریخی موڑ تھا جو پہلی پانی پت کی جنگ کے دوران پیش آیا۔
تاریخ شاہد ہے کہ بابر جب ہندوستان کی اجنبی سرزمین پر حملہ آور ہوا تو اسکے پاس مختصر مگر اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس لشکر تھا مگر وہ ابراہیم لودھی کی کئی گنا بڑی فوج کے سامنے بے بس دکھائی دیتاتھا۔ یہی وہ وقت تھا جب اسے احساس ہوا کہ جنگیں کبھی فوجی برتری یا جدید ٹیکنالوجی کی بدولت نہیں جیتی جا سکتیں بلکہ جیت کے لیے اصل ہتھیار اخلاقی، روحانی اور جذباتی سوچ ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بابر نے دشمن کو نہیں پہلے اپنے نفس کو للکارا او وعدہ کے پکے بابر نے اسی کیفیت میں اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا اور دنیا جانتی ہے کہ بابر وعدہ کبھی نہیں توڑتا تھا۔
اس نے ایک عہد نامہ (توبہ نامہ) تحریر کیا جس میں اس نے شراب نوشی سے توبہ کی اور سجدہ میں گر اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا مانگی۔ پھر لشکرکے سامنے اعلان کیا کہ آج کے بعد شراب حرام ہے، شراب کے مٹکے توڑ دئیے، سونے چاندی کے پیالے پگھلا کر فقراء میں تقسیم کردئیے اور فوج کو مخاطب کرکے کہا کہ "اگر میں ضبط اختیار کرسکتا ہوں تو تم بھی کر سکتے ہو " یہ سب کچھ جنگ سے عین پہلے ہوا۔ جس نے فوج کا حوصلہ بلند کردیا اور اس کی مسلمان سپاہ کو اخلاقی برتری کا احساس ملا۔ جس نے جنگ کو حق وباطل کے بیانیے میں بدل دیا اور بابر کی قیادت ایک عام فاتح سے اسلاحی رہنما بن گئی۔
بابر کے سامنے ہندوستان کی سرزمین تھی اور پیچھے بےوطنی کا کرب اور مقابل ایک ایسی فوج جو تعداد، وسائل اور مقامی حمایت میں کئی گنا زیادہ مگر جذبے اور مقصد سےعاری تھی۔ پھر پانی پت کے میدان میں جدید توپ خانے، منظم صف بندی اور بلند حوصلے نے مل کر ابراہیم لودھی کو تاریخی شکست دی اور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی یہی وجہ ہے کہ مورخ کہتے ہیں کہ پانی پت میں صرف ابراہیم لودھی نہیں ہارا بلکہ ایک پرانا عہد بھی ختم ہوگیا اور یہ ثابت ہوا کہ جدید ٹیکنالوجی بھی تب ہی کام آتی ہے جب کردار بھی مضبوط ہوں۔ تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں فیصلے تلوار نہیں ضمیر کرتا ہے اور پانی پت بھی شاید ایک ایسا ہی موڑ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پانی پت میں ابراہیم لودھی کی سلطنت نہیں گری بلکہ ایک سوچ کو شکست ہوئی اور بابر کی ایک نئی سوچ نے تاریخ مرتب کردی۔
جدید ٹیکنالوجی اور جذبہ یہ دو بظاہر سادہ سے لفظ ہیں مگر تاریخ جنگ، تہذیب اور انسان سب کچھ ان کے درمیان جھولتا ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کے ہاتھ میں طاقت رکھ دیتی ہے مگر جذبہ اسے سمت دیتا ہے۔ بغیر جذبے کے ٹیکنالوجی صرف دھات، بارود، کوڈ اور مشین ہے تو بغیر ٹیکنالوجی کے جذبہ محض ایک خواہش ہو سکتا ہے۔ پانی پت میں بابر کی توپ ہی اکیلی فیصلہ نہ کرسکی بلکہ فیصلہ اس جذبے نے کیا جو خوف کو نظم میں بدل دیتا ہے۔ جو سپاہی کو یہ یقین دیتا ہے کہ وہ صرف جیتنے کے لیے ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ثابت بھی کرنے نکلا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہتر ہتھیار کام نہ آئے جذبہ جیت گیا کیونکہ جذبہ ختم نہیں ہوتا ہتھیار استعمال ہوکر ختم ہو جاتے ہیں۔
آج کا انسان اپنے جدید ہتھیار، ڈرون، سائبر وار، اے آئی اور سیٹلائٹ وار پر فخر کرتا ہے مگر سوال وہی ہے کہ "یہ کس نیت، کس مقصد اور کس اخلاق کے تابع ہے؟ جب ٹیکنالوجی جذبے سے خالی ہو تو وہ ظلم بن جاتی ہے اور جب جذبہ ٹیکنالوجی سے خالی ہو تو وہ محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل طاقت وہاں ہوتی ہے جہاں ٹیکنالوجی عقل کے تابع اور جذبہ اخلاق کے تابع ہو۔ یہی قیادت، جذبہ اورٹیکنالوجی کا امتزاج ہی تھا جس نے گذشتہ سال بھارت کو ناکوں چنے چبوادئے تھے ہمیں اپنی افواج اور قیادت پر فخر ہے کہ انہوں نے اپنی دونوں خوبیوں کی باعث بھارت کے آٹھ طیارئے گرا کر دنیا بھر میں پاکستان کا علم بلند کردیا ہے۔ ظہیرالدین بابر نے اسی توازن کو سمجھا اور اس نے توپ کے استعمال سے قبل خود کو بدلا کیونکہ جذبہ راستہ دکھاتا ہے اور ٹیکنالوجی راستہ طے کرتی ہے۔
آج جب دنیا بھر میں جنگی نوعیت بدل چکی ہے۔ یہ اب ہتھیار اور میدان سے زیادہ ذہن، معیشت اور بیانیوں میں بنتی ہے۔ آج جنگیں قوم کی بقا یا ملک کی حفاظت کے لیے ہی نہیں بلکہ مفادات کے تحفظ کے لیےبھی لڑی جا رہی ہیں۔ جہاں ٹیکنالوجی آج کی جنگ کا جسم ضرور ہے مگر جذبہ اس کی روح ہے۔ ٹیکنالوجی مہنگی ہوتی ہے مگر جذبہ سستا اور دیر پا۔ دنیا ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ امریکہ ایران کے گرد گھیرا تنگ کرتا جارہا ہے۔ امریکہ کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی کی برتری ضرور ہے لیکن سوال وہی پرانا ہے کہ "کیا ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز ہے؟"
دوسری جانب ایران طاقت اور ٹیکنالوجی میں کم ضرور ہے مگر شکست کے خوف سے آزاد ہے اوروہ شہادت اور مزاحمت کا بیانیہ اٹھائے اپنی بقا کے نظریے سے جڑا ہوا ہے۔ اپنی شناخت سے وابستہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس اپنی حفاظت کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی شاید فیصلہ جلد کروا سکتی ہے مگر فتح صرف وہی پائیدار ہوتی ہے جسے انسان کا دل اور ضمیر قبول کرئے۔ جنگ میں کمزور فریق وقت کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے اور ہمیشہ جنگی طوالت ٹیکنالوجی کی شکست ہوتی ہے۔ جب ٹیکنالوجی جذبے اور مقصد سے آزاد ہوتی ہے تو تاتاریوں جیسی وحشت بن جاتی ہے۔
آج اصل خطرہ یہ نہیں کہ جنگ پھیل جائے گی بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔ اس کا انجام ہمیشہ کی طرح ملبے کے ڈھیر، شہروں کی تباہی، قتل عام اور بچوں کی لاشیں ہی ہوگا تو سمجھ لیں کہ دنیا ایک اخلاقی شکست کھا چکی ہے۔ ایسی جنگوں میں کسی کی ہار یا جیت نہیں صرف تباہی ہوتی ہے۔ جس کے اثرات لامحدود ہوتے ہیں۔ آج پھر ٹیکنالوجی اور جذبہ آمنے سامنے ہیں مگر فیصلہ وقت کرئے گا کہ کس کو برتری حاصل ہوتی ہے۔

