Haisiyat Aur Taluq
حیثیت اور تعلق

گذشتہ روز اپنے بیٹے کی شادی میں دعوت نامے دیتے ہوئے یہ ذہن میں رکھا کہ اب شادی میں انہیں لوگوں کو مدعو کیا جائے جن سے تعلق ذاتی اور قریبی ہو یا پھر ان رشتہ داروں کو بلایا جائے جن کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ سابقہ تقریبات میں ملازمت، عہدئے اور حیثیت کو مدنظر رکھ کر لوگوں کو بلایا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ ریٹائرمنٹ کے سات سال بعد مجھے اپنی حیثیت کا احساس خاصا ہو چکا تھا اس لیے کوشش یہی کی کہ ان لوگوں کو مدعو کیا جائے جن کے بارئے ابھی تک میرا خیال یہ ہی تھا کہ یہ لوگ صرف میری ذات سے تعلق اور محبت رکھتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ بہت سے لوگوں کے رویے دیکھ کر یہ حیرت اور خوشی بھی ہوئی کہ واقعی حیثیت بدلنے سے تعلق بدل جاتے ہیں؟
حیثیت کے ساتھ ساتھ تعلق بدلنے کا یہ رویہ صرف دوستوں کا نہ تھا بلکہ بہت قریبی رشتے داروں اور عزیزوں نے بھی سرپرائز دیا۔ جن دوستوں عزیزوں نے شرکت کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کیا انکا بے حد مشکور ہوں اور ان کا بھی بےحد شکر گزار ہوں جنہوں نے میری برسوں کی غلط فہمیاں دور کردیں۔ اس تقریب میں تمام احباب کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہماری زندگی کا حسن شاید اسی توازن میں پوشیدہ ہے کہ حیثیت بنائیں مگر تعلقات نہ کھوئیں، ترقی کریں مگر اپنوں کو پیچھے نہ چھوڑیں کیونکہ انسان اپنی کامیابیوں یا ترقی سے نہیں اپنے تعلقات سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اس لحاظ سے خوش قسمت ہوں کہ میری شناخت اور تعلق ابھی باقی ہے۔
حیثیت اور تعلقات ایک ایسا موضوع ہے جس میں شاید زندگی کی سب سے گہری سچائیاں چھپی ہوتی ہیں اور شاید سب سے زیادہ غلط فہمیاں بھی؟ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس کوئی "حیثیت" نہیں ہوتی صرف "تعلق" ہوتا ہے یعنی ماں باپ کا، خاندان کا اور اپنی زمین سے جڑی نسبت کا، مگروقت کے ساتھ وہ حیثیت بنانے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ عہدہ، دولت، شہرت، اثر رسوخ کا حصول دراصل نئے تعلقات کی بنیاد مضبوطی کا سفر ہوتا ہے۔ ایک بڑے عہدئے، عروج اور بےشمار دوستیوں، تعلقات اور عزیزداریوں کے باوجود ہمارئے اباجی مرحوم اپنے آخری ایام میں تنہائی شکار ہو چکے تھے یہاں تک کہ دوست بہن بھائی تو دور کی بات ہے ہم اولاد ہونے کے باوجود انہیں بڑا محدود وقت دئے پاتے تھے۔
اسی دوران میں نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ اباجی یہ حیثیت اور تعلق کا کیا رشتہ ہے؟ یہ دونوں آپس میں کیوں جڑے رہتے ہیں؟ تو کہنے لگے حیثیت ایک سایہ ہے اور روشنی بدلے تو شکل بھی بدل جاتی ہے جبکہ تعلقات ایک درخت کی طرح ہوتے ہیں اگر جڑیں مضبوط ہوں تو موسموں کا بدلنا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر کہنے لگے کہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب انسان کی حیثیت بلند ہوتی ہے تو اس کے گرد لوگوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ مگر یہ ہجوم تعلق نہیں ہوتا مفاد ات کا عکس ہوتا ہے۔ جیسے ہی حیثیت میں دراڑ پڑتی ہے یہ ہجوم بھی ریت کی طرح بکھر جاتا ہے۔ تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل سرمایہ تو وہ چند سچے تعلقات ہی تھے جنہیں اس نے شاید اس نے حیثیت کی چکا چوند روشنی میں نظر انداز کئے رکھا۔
گو حیثیت تعلق ہی نہیں رشتے بھی مضبوط کرتی ہے مگر ہمارے معاشرئے میں ایک عجیب رویہ جنم لے چکا ہے کہ ہم تعلقات کو بھی حیثیت کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ دوستی بھی برابر والوں سے، رشتہ بھی مفاد والوں سے اور میل جول بھی اثر رسوخ والوں سے رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ رویہ آہستہ آہستہ انسان کو تنہا کر دیتا ہے چاہے وہ بظاہر لوگوں کے ہجوم میں کیوں نہ گھرا ہوا ہو۔ اصل میں حیثیت کا امتحان یہ نہیں کہ آپ کتنے بڑے عہدئے پر ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس کتنے لوگ ایسے ہیں جو آپ کے عہدئے، دولت اور اثر رسوخ کے بغیر بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تعلقات کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ خوشی میں کتنے شریک ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ مشکل لمحات میں کتنے ثابت قدم رہتے ہیں۔
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ جیسے جیسے انسان کی حیثیت بدلتی ہے ویسے ویسے اس کے تعلقات خاص طور پر دوستوں اور رشتےداروں میں ہی نہیں بلکہ ماں باپ، بہن بھائیوں اور میاں بیوی کے رشتے میں بھی سرد مہری یا فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس کی کئی گہری اور بنیادی وجوہات ہوتی ہیں۔ جیسا کہ
۔۔ ترجیحات کا بدل جانا
جب انسان ترقی کرتا ہے تو اس کی توجہ کام، دولت اور سماجی مقام پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے۔ گھر، جو کبھی مرکز ہوتا تھا، اب "وقت ملنے پر" کی چیز بن جاتا ہے۔ تعلقات توجہ مانگتے ہیں اور جب توجہ کم ہو جائے تو فاصلے خود بننے لگتے ہیں۔ ترجیہات کا بدل جانا دراصل احساس کمتری کی وجہ بنتا ہے اور احساس کمتری باہمی دوریوں کا باعث بنتی ہے۔ ترجیہات بدلنے سے دوستوں اور عزیزوں کی ضرورتیں بدلتی ہیں اور یہ بدلتی باہمی ضرورتیں ہی نئے تعلقات کو جنم دیتی ہیں۔
۔۔ انا اور برتری کا احساس
حیثیت کے ساتھ اکثر ایک غیر محسوس انا بھی جنم لیتی ہے۔ انسان کو لگنے لگتا ہے کہ اب وہ "زیادہ سمجھدار" یا "زیادہ اہم" ہوگیا ہے یہ احساس اسے اپنے ہی لوگوں سے دور کر دیتا ہے، خاص طور پر اُن سے جنہوں نے اس کا ابتدائی سفر دیکھا ہوتا ہے۔ شاید ہم اپنے اچھے وقت میں اپنے برئے وقت کے جاننے والوں کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اپنے سے بہتر اور اچھے کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
۔۔ توقعات کا بڑھ جانا
جیسے جیسے حیثیت بڑھتی ہے، خاندان کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں جیسے: مالی مدد، وقت، سہولتیں، توجہ وغیرہ جب یہ کوئی ایک یا یہ سب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو دلوں میں شکوے جنم لیتے ہیں اور یہی شکوے سرد مہری میں بدل جاتے ہیں اور یہی سرمہری رشتوں میں فاصلے بڑھاتی ہے۔
۔۔ طرزِ زندگی کا فرق
ایک شخص آگے نکل جاتا ہے، باقی وہیں رہ جاتے ہیں، لباس، گفتگو، سوچ، محفلیں سب بدل جاتی ہیں یہ فرق آہستہ آہستہ فاصلے پیدا کرتا ہے، جیسے دو دنیائیں بن گئی ہوں۔ وقت کی کمی نہیں، ترجیح کی کمی اکثر لوگ کہتے ہیں "وقت نہیں ملتا"، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت وہیں خرچ ہوتا ہے جسے ہم اہم سمجھتے ہیں۔ جب اپنوں کو ترجیح نہ دی جائے تو وہ خود کو غیر ضروری محسوس کرنے لگتے ہیں۔
۔۔ میاں بیوی کے تعلق میں تناؤ
حیثیت کی تبدیلی سے ازدواجی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے: ایک کا مصروف ہونا دوسرے کا نظرانداز ہونا یا مالی و سماجی فرق کا بڑھنا یہ سب چیزیں جذباتی دوری پیدا کرتی ہیں، جو آہستہ آہستہ سرد مہری میں بدل جاتی ہے۔ اولاد کے جوان ہوجانے اور ان کی جانب سے مالی مدد سرپرستی، تحفظ ماں کی اہمیت بڑھاتی ہے اور دوسری جانب باپ کی جانب سے آمدنی اور مالی معاملات میں کمی کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری بھی باپ کی اہمیت اسکی اولاد اور بیوی کی نظر میں اکثر کم کردیتی ہے۔ مال اور عہدئے کی باعث محبتوں کے خواب باپ کی جانب سے اولاد کی جانب تبدیل ہونے سے بکھرنے لگتے ہیں۔ توجہ کا محور بدل کر تقسیم ہو جاتا ہے۔
بقول ممتاز مفتی عورت کسی کو بھی اولاد سے اپنے سے زیادہ محبت کا حق نہیں دیتی خواہ وہ بچے کا باپ ہی کیوں نہ ہو زندگی دراصل افادیت اور اہمیت کا سفر ہوتی ہے باپ کی محبت کا پیمانہ اس کی کمائی اور پیسوں کی کمی نہ ہونے دینا اور شاید تربیت اور تحفظ دینا ہوتا ہے جبکہ ماں کی محبت، اس کی گھرداری، پرورش اور دیکھ بھال ہوتی ہے۔ جب باپ اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ مزید کمانے کے قابل نہیں رہتا تو ایسے میں ماں ابھی گھرداری اور اولاد کے بچے تک پالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے اولاد کے نظر میں ماں کی اہمیت وافادیت پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ باپ سے محبت جو پہلے ہی ماں چھین لیتی ہے اب مزید کم ہونے لگتی ہے کیونکہ معاملہ افادیت اور اہمیت کا ہوتا ہے۔
اس لیے کہتے ہیں کہ مسئلہ حیثیت کا نہیں "حیثیت کا رویہ" ہوتا ہے اگر انسان اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ عاجزی، وقت اور محبت برقرار رکھے تو تعلقات کمزور نہیں ہوتے بلکہ مضبوظ ہوتے ہیں۔ اپنوں کو وقت دیں چاہے تھوڑا ہی سہی مگر خالص اور اپنی کامیابیوں میں انہیں شریک کیا کریں، عاجزی کو عادت بنائیں، رشتوں کو فرض نہیں نعمت سمجھیں۔ آخر میں بات بہت سادہ سی ہے کہ "انسان اونچا ضرور ہوجائے مگر اتنا نہیں کہ اپنے ہی لوگوں کو نیچا اور کمتر دیکھنے یا سمجھنے لگے" کیونکہ جب حیثیت ڈگمگاتی ہے تو سہارا وہی تعلقات بنتے ہیں جنہیں ہم نے کبھی نظر انداز کردیا ہوتا ہے۔

