Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Bhaye Ka Bhoot

Bhaye Ka Bhoot

بھے کا بھوت

امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے بارئے میں میرے گذشتہ کالمز"جذبہ اور ٹیکنالوجی" اور "امید کی شمع روشن رکھیں" میں کیے جانے والا تجزیہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہونے پر مجھے بہت سے قاری حضرات اور دوستوں نے ناصرف سراہا ہے بلکہ آئندہ کے بارئے میں کئی سوال بھی کئے ہیں۔ میری دوستوں اور چاہنے والوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ میں نہ تو کوئی دفاعی تجزیہ نگار ہوں اور نہ ہی انٹرنیشنل معاملات کا ماہر ہوں اس لیے میں تو صرف تاریخی حقائق کے تناظر میں اپنی رائے دیتا ہوں جو اکثر درست ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ تاریخ ہوتی ہی سبق حاصل کرنے اور سیکھنے کے لیے لکھی اور محفوظ کی جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ تاریخ کے فیصلے درست ہی ہوتے ہیں جیسے دو اور دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھی تاریخ بدل جاتی ہے اور سوچوں کے رخ بھی سمت بدل لیتے ہیں۔ میرے اکثر قاری حضرات کا سوال یہ ہے کہ آپ کو کیسے یہ اندازہ تھا کہ ٹیکنالوجی بغیر جذبے کے ہمیشہ ہار جاتی ہے؟ اور جذبہ اگر ٹیکنالوجی سے لیس ہو تو کیوں ہمیشہ جیت جاتا ہے؟ امریکہ جیسی طاقتور ترین فوج اور ٹیکنالوجی ایران کے سامنے بے بس کیوں نظر آرہی ہے؟ جنگ کا فاتح کون ہوگا؟ ان سوالوں کا جواب میں کسی ماہر دفاعی یا سیاسی تجزیہ نگار کی طرح تو نہیں دئے سکتا لیکن مجھے ان سوالوں سے ایک محاورا یاد آگیا جس کا عنوان "بھے کا بھوت" ہوتا تھا۔

یہ دراصل اردو کا ایک محاورہ ہے جسے عام طور پر "بھیڑ کا بھوت" بھی کہا جاتا ہے۔ اس محاورئے کا مطلب ہے "بلاوجہ یا خیالی خوف" یعنی ایسا ڈر جو حقیقت میں موجود نہ ہو مگر انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ سمجھتے تھے کہ بھیڑ (بھیڑ یا بکریوں کے ریوڑ) میں کوئی بھوت یا آسیب ہوتا ہے جس سے لوگ بلاوجہ خوفزدہ ہو جاتے تھے مگر جب حقیقت سامنے آتی تو وہ محض سایہ ہوتا تھا۔ "بھے کا بھوت" وقت کےساتھ ایک محاورہ بن گیا۔ مجھے اپنے اسکول کے زمانے کا ایک واقعہ یاد آگیا یقیناََ ہمارے اسکول کے بہت سے لوگوں کو بھی ضرور یاد ہوگا۔

ہمارے اسکول میں ایک استاد صاحب جو نئے نئے تعینات ہوئے بہت کمزور اور پتلے دبلے ہوا کرتے تھے۔ ان کا نام راؤ قمر ہوا کرتا تھا۔ بظاہر وہ دیکھنے میں بہت شریف اور کمزور دکھائی دیتےتھے مگر بہترین اخلاقی رویے کے حامل ہونے کی وجہ سے ایک ہردلعزیز شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ہمارئے علاقے کا ایک شخص جو پہلوان تھا جسے بڑا طاقتور سمجھا جاتا تھا اور اس زمانے میں گراری والا چاقو رکھنا فیشن ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ایک چاقو رکھتا تھا۔ پورے علاقے میں اس کا دبدبا اور خوف ہوا کرتا تھا۔ اس کے ایک عزیز کا بچہ ماسٹر قمر صاحب کی کلاس میں پڑھتا تھا اور پڑھائی میں کچھ زیادہ اچھا نہ تھا اس لیے روزآنہ ماسٹر قمر صاحب کے ڈنڈوں کا سامنا کرتا۔ اس نے گھر جا کر شکایت کی تو یہ پہلوان ماسڑ قمر صاحب کو دھمکانے دیوار پھلانگ اسکول پہنچا اور چاقو نکال کر ماسڑ صاحب پر حملہ آور ہوا تو پورے اسکول نے عجب تماشا دیکھا کہ بجلی کی سی تیزی سے ماسڑ قمر صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چاقو چھین لیا اور ہاتھ میں پکڑے ہوے لکڑی کے فٹے اور تھپرڑوں سے اس کے سر اور منہ پر مارنا شروع کر دیا بچوں نے مدد کرنا چاہی تو انہیں قمر صاحب نے سختی سے روک دیا۔

سب کچھ غیر متوقع ہوا تھا اس لیے اب پہلوان جی کی حالت یہ تھی جیسے کسی نے ہپناٹائز کر دیا ہو۔ ماسڑ قمر اسے گریبان سے پکڑ کر مارتے ہوئے ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرئے کی جانب بڑھے تو پیچھے اسکول کے پرجوش بچوں کا نعرئے مارتا ایک ہجوم ساتھ تھا اور وہ پہلوان خاموشی اور شرمندگی سے مار کھا رہا تھا۔ اس کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہاتھا اور ماسڑ قمر صاحب ایک ہی جملہ بول رہے تھے کہ یہ اسکول ہے، یہ میرے بچوں کا اسکول ہے۔ یہاں کسی کو بلا اجازت آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کمزور سا وہ ماسڑ قمر بلا کی دلیری سے اپنے سے کئی گنا طاقتور کو پیٹ رہاتھا۔ پہلوان ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہاتھا۔ اس کی طاقت تو وہی تھی مگر اس کا بھرم ٹوٹ چکا تھا۔ بڑی تعداد میں بچوں کا مشتعل ہجوم اسے نفرت اور غصے سے سزا دینا چاہتا تھا مگر ماسڑ صاحب کے ہاتھوں اس کی زبردست دھلائی سے مطمن تماشا دیکھ رہا تھا۔ کافی پٹائی کے بعد بہت سے لوگوں کی سفارش پر اور اسکے ہاتھ جوڑنے پر اسے چھوڑ دیا گیا لیکن پورے شہر اور اسکول کے بچوں کے دلوں پر چھایا اس کا رعب و دبدبا ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا تھا کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ اصل طاقت ہتھیار یا جسامت نہیں حوصلہ ہوتا ہے۔

ہم نے بعد میں ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ سر آپ بظاہر کمزور تھے مگر اتنے طاقتور اور مسلح شخص کو کیسے قابو کر لیا؟ تو وہ کہنے لگے اپنی جگہ اور اپنے گھر میں موجود انسان کسی بھی طاقتور سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ خوف ہمیشہ اندھیرے کی طرح ہوتا ہے اور اندھیرا خود کوئی وجود نہیں رکھتا یہ صرف روشنی کی عدم موجودگی ہوتی ہے جو بہادری اور حوصلے کی ایک چھوٹی سی کرن ہی ختم کردیتی ہے۔ ہمارا ڈر اکثر معمولی سایے کو بھی دیو بنا دیتا ہے۔ ذہنی خوف ہمارئے ذہن کو کمزور بنادیتا ہے۔ اندیشے، شکوک، افواہیں یہی دراصل "بھے کا بھوت" ہوتا ہے۔ یاد رکھو حوصلہ، جذبہ اور مقصد ہمیشہ طاقت سے جیت جاتا ہے۔ کمزور اور چھوٹے سے قد کے یہ ماسٹر راؤ قمر صاحب ایک لمحے میں اہمیت حاصل کرکے اسکول اور طلبا کے ہیرو بن گئے۔ اس ایک واقعہ نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا کر ہردلعزیز بنا دیا۔

مشرق وسطیٰ کے ریگزاروں میں ایک چراگاہ تھی جہاں کئی قومیں اپنے اپنے مفادات کی بھیڑیں چرا رہی تھیں۔ اس چراگاہ کے ایک طرف ایران اور خلیجی ریاستیں تھیں اور دوسری طرف اس زرخیز چراگاہ پر اپنا قبضہ جمائے رکھنے اور نگرانی و حفاظت کے لیے ایک نگران اسرائیل کھڑا تھا جسے دور بیٹھے امریکہ جیسے ایک لاٹھی بردار خطرناک اور تباہ کن عالمی طاقت کی حمایت حاصل تھی۔ ان سب کے درمیان ایک انجانا سا خوف تھا۔ ایک ایسا خوف جسے کسی نے دیکھا نہیں تھا مگر سب اس کا ذکر کرتے اور اس کے تصور سے کانپتے تھے۔

عالمی سیاست میں اکثر "خطرات" حقیقت سے زیادہ بیانیوں میں بڑے بنا دیے جاتے ہیں۔ خوف، مفادات اور طاقت کی سیاست مل کر ایک "بھے کا بھوت" تخلیق کردیتی ہے۔ جس خوف کی قیمت عام لوگ چکاتے ہیں۔ لوگ کہتے کہ یہ ایک بھوت ہے مگر ایران اپنے عوام سے کہتا کہ یہ بھوت دراصل ایک بہانہ اور ڈر ہے جو ہمیں ڈرانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا ہے تاکہ حفاظت کے نام پر ہمیں سب کو کنٹرول کیا جاسکا ہم سب پر اپنی مرضی مسلط کی جاسکے۔ ایران نے سر اٹھا کر طاقت حاصل کرنا چاہی اور ان سے بغاوت کی تو اسرائیل جیسے چراوہے نے ایران سے خوفزدہ ہو کر اپنے آقا اور حمایتی کو پکار اتو وہ مدد کرنے خود آپہنچا وہ بھول گیا کہ گھر میں بیٹھا تو چوہا بھی شیر سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ مگر طاقت کا نشہ اور غرور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔

ٹیکنالوجی کا گھمنڈ بھول جاتا ہے کہ اپنے گھر کی حفاظت کرنے کا جذبہ ٹیکنالوجی اور طاقت سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ شاید یہی بھول تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ بھوت کا بھرم ٹوٹ رہا اپنے گھر کی حفاظت اور دفاع تو ایک چھوٹی سی چڑیا بھی بڑی دلیری سے کرتی ہے یہاں تو ایران کئی دھائیوں سے اس دفاع کی تیاری کر رہا تھا۔ پھر جب ایران کے ساتھ دنیا کی خاموش ہمدردیاں شامل ہوں تو "بھے کا یہ بھوت" اپنا خوف کھو رہا ہے بلکہ کھو چکا ہے۔ ایران اور اس کے عوام نے اپنے دفاع اور بقا کے لیے اس "بھے کے بھوت" کا بھرم توڑ دیا ہے۔

اس غیر قانونی جنگ کا انجام جو بھی ہو جیت ہار اپنی جگہ ہے مگر دنیا مدتوں سے مسلط اس بھوت کے خوف سے آزاد ہو چکی ہے اور شاید اسے ہی سب سے بڑی فتح کہا جاسکتا ہے کیونکہ دنیا بدل رہی ہے۔ دنیا کی سوچ بدل رہی ہے۔ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ یہ سپر پاور بھوت جس معاشی دلدل میں دھنستا چلا رہا ہے وہاں سے نکلنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ہر جنگ کا انجام تباہی ہوتا ہے چاہے یہ جنگ کوئی بھی جیت جائے اس کا نقصان ہمیشہ عام لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل جیسے "بھے کے بھوت" کے پاس دو ہی راستے ہیں پسپائی اور باعزت واپسی یا پھر دنیا بھر کی جانی ومالی تباہی! دیکھنا اب یہ ہےکہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ جنگیں سب نہیں لڑتے مگر جنگوں کے مضر اثرات سب پر پڑتے ہیں۔

Check Also

American Senate Committee Ki Hamein Khabardar Karne Ki Koshish

By Nusrat Javed