Bahawalpur Suba He Kyun?
بہاولپور صوبہ ہی کیوں؟

یہ سوال محض جغرافیہ کا نہیں، یہ سوال تاریخ، شناخت اور انصاف کا ہے۔ یہ سوال اس دھرتی کا ہے جس نےپاکستان بننے سے پہلے بھی خود کو سنبھالا اور بننے کے بعد بھی پاکستان کو سنوارنے میں اپنی سی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ریاست بہاولپور کی قیام پاکستان اور بقا پاکستان کے لیے قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ آج جب بھی پاکستان میں صوبوں کا بازگشت سنائی دیتی ہے سب سے پہلے صوبہ بہاولپور کی بات کی جاتی ہے۔ تو سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر بہاولپور صوبہ ہی کیوں؟ آج پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ تاریخی انصاف، عوامی شناخت اور بہتر طرز حکمرانی کا سوال ہے۔ دراصل صوبہ بہاولپور کا مطالبہ ان تمام پہلوں کو یکجا کرتا ہے اسی لیے یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ مضبوط، منطقی اور آئینی مقدمہ بھی ہے۔ یہ صرف ایک خطہ یا علاقے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخ کا قصہ ہے۔ جہاں اب میڈیا پر اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی افواہوں کے تناظر میں صوبوں کے قیام کی باتیں اب ہونے لگی ہیں وہیں صوبہ بہاولپور کا مطالبہ پھر زور پکڑ رہا ہے۔
پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے تو اسے عموما" سیاسی نعرہ سمجھ کرنظر انداز کردیا جاتا ہے۔ صوبوں کے یہ نعرے سیاستدان ہر الیکشن سے قبل ضرور لگاتے ہیں۔ لیکن پھر ہمیشہ ہی اقتدار کی بھول بھلیوں میں یہ مطالبہ قصہ پارینہ بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب سیاستدان صوبے کی بات کرتے ہیں تو یقینا" کوئی نہ کوئی الیکشن دروازئے پر دستک دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن آج کل صرف صوبہ بہاولپور ہی کی بات نہیں کی جارہی بلکہ صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ سرائیکستان کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ گذشتہ روز میرے ایک قاری نے سوال کیا ہےکہ آخر ان تینوں مطالبات میں فرق کیا ہے؟ ہمارے علاقے کے بیشتر لوگ یہ نعرے تو لگاتے ہیں لیکن اکثر ان مطالبات کے باہمی فرق کو نہیں سمجھتے۔ آئیں ان تینوں اصلاحات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل ان تینوں مطالبات کا بنیادی مقصد یہاں کی عوامی و علاقائی محرومیوں کا خاتمہ ہی ہوتا ہے۔
صوبہ بہاولپور ایک تاریخی، آئینی اور قانونی حیثیت رکھنے والا الگ یونٹ تھا جو ریاست بہاولپور کی پاکستان میں شمولیت کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا۔ ریاست بہاولپور نے 1947ء میں پاکستان سے باقاعدہ معاہدے کے تحت الحاق کیا تھا اور 1955ء تک اس کی صوبائی حیثیت و شناخت برقرار رہی تھی۔ ریاست بہاولپور کے الحاق کے بعد یہ صرف نام نہیں بلکہ اپنی اسمبلی، اپنا بجٹ، اپنا نظم ونسق رکھنے والا صوبہ تھا جس کا اپنا وزیر اعلیٰ ہوا کرتا تھا۔ یہ صوبہ سابقہ ریاست بہاولپور پر مشتمل تھا۔ ریاست بہاولپور کے تمام تر ریاستی و انتظامی ادارئے یہاں موجود تھے۔ اس صوبے اور علاقے کی تہذیب، ثقافت، زبان الگ اور منفرد تھی۔ وسیع تر ملکی مفاد میں ون یونٹ کے تحت وفاق کا حصہ بننے والے اس خطے اورصوبے کو ون یونٹ کے خاتمہ پر پنجاب کا حصہ بنا کر اس کی صوبائی حیثیت ختم کردی گئی۔ اس لیے 1970ء کے تاریخی الیکشن میں اس صوبے کی بحالی کے لیے ایک تحریک کا آغاز ہوا۔ جس کے لیے اس بڑی تحریک کے دوران کئی شہادتیں بھی دی گیں۔ بہاولپور متحدہ محاذ کی قیادت میں پورے بہاولپور کی قومی وصوبائی اسمبلی کی نشستیں جیت کر یہاں کے عوام نے اپنی راے کا اظہار تو کردیا مگر اس تحریک پذیرائی پھر بھی نہ مل سکی اور سیاستدان پیپلز پارٹی کا حصہ بن کر حکومت میں شامل ہو گئے ا ور یہاں کے سیاستدانوں نے اقتدار میں آکر اس مقصد کو پس پشت ڈال دیا۔ مگر عوام کے دل میں اپنے صوبے کی بحالی کی خواہش میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پھر یوں ہوا کہ ہر الیکشن سے قبل یہ نعرہ ایک دفعہ ضرور سنائی ضرور دیتا ہے۔ جو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ الیکشن نزدیک ہے۔
جنوبی پنجاب صوبہ یہ ایک انتظامی اصطلاح ہے جس کی بظاہر کوئی تاریخی شناخت نہیں ہے۔ یہ نام گذشتہ الیکشن میں زیادہ سامنے آیا اور جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے ایک نیا سیاسی اتحاد بھی قائم ہوا جو بعد میں پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ہوگیا اور جنوبی پنجاب سیکٹریٹ کے نام سے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے دعوےبھی کئے گئے شاید کچھ معاملات میں بہتری بھی دیکھی گئی مگر عوام نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا اور اسے بہاولپور کے لوگوں نے "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا "کے مترادف سمجھا۔ یہ صرف فنڈز کے اعلانات تک محدود رہا۔ جنوبی پنجاب نہ صوبہ تھا نہ ہے اور نہ اس کے لیے کوئی سنجیدہ قانون سازی ہی سامنے آئی ہے۔ یہ محض ایک سمت تو ہو سکتی ہے مگر مکمل شناخت نہیں ہے۔ اسے انتظامی طور سرائیکی خطہ پر مشتمل صوبہ کہا جاسکتا ہے جس کا نام جنوبی پنجاب صوبہ رکھا جاسکتا ہے۔
تیسرا اور آخری مطالبہ سرائیکی صوبہ کا مطالبہ بھی ہے۔ جو ایک وسیع تر جغرافیائی خطے پر مشتمل سرائیکی بولنے والے علاقوں پر مشتمل ہے اور یہ مطالبہ لسانی وتہذیبی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سرائیکی زبان، ثقافت اور تاریخ ایک حقیقت ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صوبے صرف زبان پر بننے چاہیں یا پھر انتظامی ضرورت پر بنیں گے؟ جغرافیے کے لحاظ سے ہر صوبے میں مختلف بولیاں بولنے والے رہتے ہیں بلکہ ہر سو کلو میٹر کے بعد زبان میں تبدیلی محسوس کی جاتی ہے۔ زبان شناخت تو دیتی ہے مگر انتظامی وحدت خود کار نہیں بناتی ہے۔ کیونکہ سرائیکی صرف زبان نہیں ایک مکمل تہذیب، تاریخ اور طرزاحساس ہے۔ ایک ایسی شناخت جو صدیوں سے قائم ہے۔ لوک دانش، شاعری، موسیقی اور رسم ورواج میں زندہ ہے۔ لسانی اکائیاں ختم نہیں ہوتیں۔ سرائیکی صوبے کا تصور زبان کو تعلیمی، سرکاری اور سماجی سطح پر مقام اور ثقافت کو سرکاری سرپرستی دینے کی خو اہش سے جڑا ہوا ہے۔ ایک وسیع تر خطے پر مشتمل سرائیکی صوبے یا جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے ایک طویل قانون سازی اور بحث اور باہمی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسا کوئی نیا صوبہ نہیں بنتا تب تک اس علاقے کی پسماندگی اور محرومیوں کے ازلے کے لیے صوبہ بہاولپور کی بحالی ہی شاید بہترین اور آسان ترین ممکناحل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پنجاب گروپ کا کالجز کے سربراہ عامر محمود کے مطابق ہر ڈویژن کو انتظامی صوبہ بنا دیا جائے تو یہ بھی ایک ممکنا حل ہو سکتا ہے۔
اس لیے اگر انصافِ وعدوں کی تکمیل اور آئین کی روح کو دیکھاجائے تو صوبہ بہاولپور کا قیام سب سے مضبوط، واضح اور قانونی بنیاد رکھتاہے۔ یہ بحث صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ یہ وعدہ وفا کرنے یا تاریخ کا ساتھ دینےکا مطالبہ ہے۔ یہ کسی صوبے کا کوئی نیا قیام نہیں بلکہ ایک سابقہ صوبے کی بحالی کا مطالبہ ہے۔ جس کی قرار داد پہلے ہی پنجاب اسمبلی سے مسلم لیگ ن پچھلے دور میں منظور کراچکی ہے۔ علاقے کی محرومیوں کا ازلہ صوبہ بہاولپور کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔ نئے صوبے بھی بننے چاہیں چاہے وہ جنوبی پنجاب ہی کیوں نہ ہو مگر صوبہ بہاولپور کسی صوبے کا قیام نہیں یہ تو ایک سابقہ صوبے کی بحالی کا مطالبہ ہے۔

