Jab Khwab Dam Torne Lagen
جب خواب دم توڑنے لگیں

گلگت بلتستان کی شناخت برف پوش پہاڑ، نیلگوں دریاؤں اور دلکش وادیوں سے ہے، مگر ان حسین مناظر کے پس منظر میں ایک ایسا خاموش المیہ بھی جنم لے رہا ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئے روز کسی نوجوان کے زندگی ہار جانے کی خبر صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کا نوحہ بن جاتی ہے۔ یہ واقعات کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ذہنی صحت کے مسائل، خاندانی کشیدگی، سماجی دباؤ اور معاشی مشکلات مل کر انسان کو مایوسی کی اس حد تک پہنچا سکتے ہیں جہاں اسے ہر راستہ بند دکھائی دینے لگتا ہے۔ ان تمام عوامل میں بے روزگاری ایک ایسا مسئلہ ہے جو نوجوانوں کی امیدوں کو خاموشی سے چاٹ رہا ہے۔
ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، والدین کی امیدوں کو اپنی آنکھوں میں سجاتا ہے اور روزگار کی تلاش میں ہر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ مگر جب بار بار کی ناکامی اس کا مقدر بن جائے تو صرف اس کی جیب خالی نہیں ہوتی، اس کا اعتماد بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ پھر معاشرے کے طنز، موازنوں اور بے حسی کے جملے اس کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ محفلوں سے دور، دوستوں سے لاتعلق اور اپنے ہی خیالات کا قیدی بن جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس کی خاموشی کو سننے کے بجائے اسے اس کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔
پھر ایک دن ایک اور افسوسناک خبر آتی ہے۔ تعزیتی پیغامات لکھے جاتے ہیں، ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے، جنازوں میں ہجوم امڈ آتا ہے، مگر یہ سوال کسی کے لبوں پر نہیں آتا کہ جس انسان کے لیے آج اتنے آنسو بہائے جا رہے ہیں، اسے جیتے جی کتنے لوگوں نے سہارا دیا تھا؟ اگر اس کی خاموش پکار کو بروقت سن لیا جاتا، اگر اسے امید، احترام اور حوصلہ مل جاتا، تو شاید آج ایک اور گھر ماتم کدہ نہ بنتا۔ ہر جان قیمتی ہے اور بروقت مدد، خلوص اور پیشہ ورانہ رہنمائی بہت سی زندگیاں بچا سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ترحم نہیں، مواقع چاہییں، وعدے نہیں، روزگار چاہیے، تنقید نہیں، اعتماد چاہیے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ روزگار کے نئے دروازے کھولے، تعلیمی ادارے ذہنی صحت کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کریں اور معاشرہ طنز کے بجائے حوصلہ دینے کی روایت اپنائے۔ ایک مہذب معاشرہ اپنے نوجوانوں کے جنازوں کی تعداد سے نہیں، ان کے خوابوں کی تعبیر سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ان کی خاموش چیخیں نہ سنیں تو کل ہر نئے سانحے پر آنسو بہانے کا اخلاقی حق بھی شاید ہمارے پاس نہیں رہے گا۔

