Eid Baghair Maa Ke Kesi Hoti Hai?
عید بغیر ماں کے کیسی ہوتی ہے؟

عید تو ہمیشہ سے خوشیوں، ہنسی، مہمان نوازی اور اپنائیت کا نام رہی ہے۔ لیکن یہ سب تب تک مکمل لگتا ہے جب تک گھر میں ماں کی موجودگی ہو۔ ماں نہ ہو تو عید بھی جیسے اپنی روح کھو دیتی ہے۔
بچپن کی عیدیں یاد آئیں تو سب سے پہلے ماں کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ وہی صبح سویرے اٹھا کر نہلانا، نئے کپڑے تیار رکھنا، بار بار پوچھنا کہ "سب ٹھیک ہے نا؟" اور پھر میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ عیدی دینا۔ ماں کی آواز، اس کی دعائیں، اس کی مصروفیت، یہی تو عید کی اصل رونق ہوتی تھی۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب ماں ساتھ نہیں ہوتی۔ گھر وہی ہوتا ہے، لوگ بھی وہی ہوتے ہیں، رسمیں بھی وہی رہتی ہیں، لیکن کچھ بھی ویسا نہیں لگتا۔ عید کی صبح خاموش لگتی ہے، جیسے کسی نے اس کی چمک کم کر دی ہو۔ وہ آواز نہیں آتی جو سب کو جگاتی تھی، وہ ہاتھ نہیں ہوتے جو سب کے سر پر دعا دیتے تھے۔
کھانے بنتے ہیں، مہمان آتے ہیں، ہنسی بھی ہوتی ہے، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خلا رہتا ہے۔ ہر خوشی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چیز مکمل ہوتے ہوئے بھی نامکمل ہے۔ عیدی ملتی ہے، مگر وہ بات نہیں۔ نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں، مگر خوشی ویسی نہیں آتی۔
عید کے دن ماں کی یاد اور زیادہ شدت سے آتی ہے۔ اس کی دعاؤں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ بس ایک بار وہ آواز سن لے، ایک بار وہ ہاتھ سر پر آ جائے، ایک بار وہ کہہ دے "اللہ تمہیں خوش رکھے"۔
لیکن وقت کا یہ اصول ہے کہ جو چلا جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا، صرف اس کی یادیں رہ جاتی ہیں۔ یہی یادیں پھر سہارا بنتی ہیں۔ انسان سیکھ جاتا ہے کہ ماں کے بغیر بھی عید منانی ہے، مگر دل کے اندر ایک نمی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
عید بغیر ماں کے دراصل صبر کا امتحان بن جاتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ خوشیوں کے درمیان بھی دکھ کے ساتھ جینا کیسے ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل نعمتیں وہ ہوتی ہیں جن کا احساس ہمیں ان کے چلے جانے کے بعد ہوتا ہے۔
آخر میں بس یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ ہر ماں کو سلامت رکھے اور جو اس دنیا سے جا چکی ہیں، ان کی مغفرت فرمائے۔ کیونکہ ماں ہو تو عید، عید ہوتی ہے اور ماں نہ ہو تو عید صرف ایک دن رہ جاتی ہے۔

