Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Imtiaz Ahmad/
  4. Kash Pakistan Is Haal Mein Na Hota

Kash Pakistan Is Haal Mein Na Hota

کاش پاکستان اس حال میں نہ ہوتا

گزشتہ دو برس انتہائی ہنگامہ خیز تھے اور عالمی سیاست میں آئندہ چند برس بھی اسی ہنگامہ خیزی میں گزریں گے۔ دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم ہو رہا ہے۔ جرمنی جیسے ممالک کے تھنک ٹینکس آج سے دس برس پہلے ہی اس نئے ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کے حوالے سے سوچ بچار کر رہے تھے۔ مجھے بڑا یاد ہے کہ سن دو ہزار نو میں ڈی ڈبلیو اکیڈمی کی طرف سے ہمیں برلن کے ایک تھنک ٹینک میں لے جایا گیا۔ وہاں ہمیں بتایا گیا کہ نئے ورلڈ آرڈر میں چین اور بھارت دونوں ہی کتنے اہم ہیں اور مغربی ممالک چین کی بجائے بھارت کے لیے کیوں نرم گوشہ رکھتے ہیں؟

مغربی ممالک کے لوگ پہلے "روحانی سکون" کی تلاش میں بھارت کے دورے کرتے تھے لیکن پھر اس میں سیاحت شامل ہوئی اور بعد ازاں اقتصادی مفادات بھی شامل ہو گئے۔ گزشتہ دس برسوں میں بھارت چین کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا ہے اور مغربی کمپنیوں کو مجبوراََ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات بنانا پڑے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مغربی دنیا بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ جمہوری تسلسل اور آبادی کی وجہ سے مغربی ممالک کو اب بھی پورے ایشیا میں اپنے لیے بھارت سے اچھا کوئی پارٹنر دکھائی نہیں دیتا۔

ابھی دو روز پہلے کی بات ہے کہ جرمن وزیر خارجہ انا لینا بئیر بوک نے بھارت کے ساتھ روس کے معاملے پر اختلافات کے باوجود امیگریشن معاہدہ سائن کیا ہے۔ جرمنی کو ہنرمند افراد کی ضرورت ہے اور بھارت اپنے پڑھے لکھے نوجوان یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت کو فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم پاکستان کی بات کریں ہم گزشتہ روز سعودی عرب اور چین کے مابین ہونے والے "اسٹریٹجک معاہدے" کی بات کرتے ہیں۔

چین نے اس معاہدے کو چین کے قیام کے بعد سے اہم ترین معاہدہ اور سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس سے قبل آپ انڈونیشیا میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس پر نظر ڈالیں تو وہ بھی دنیا کی نئی ابھرتی معاشی طاقتوں پر اکھاڑا بنا ہوا تھا۔ انہی دنوں ایشیا کا آسیان اجلاس ہوا تو وہاں بھی سیاسی شطرنج نظر آئی۔ برکس ممالک کا اجلاس ہوا تو وہاں بھی نئی پیش رفت اور اپنے اپنے مفادات کا تحفظ نظر آیا۔

روس یوکرین جنگ سے لے کر چین سعودی اسٹریٹیجک معاہدے تک اس ساری سیاسی گیم اور نئے ورلڈ آرڈر میں جو ایک ملک کہیں نظر نہیں آتا، وہ پاکستان ہے۔ جب انڈونیشیا میں اور آسیان کے اہم اجلاسوں میں نئے معاہدوں پر بات ہو رہی تھی تو اسی وقت پاکستان کے وزیراعظم شرم الشیخ میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں یہ بھیک مانگ رہے تھے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے، پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جائے۔

وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم دورے کو کامیاب دکھانے کے لیے کوریڈور میں وزیراعظم کی دیگر رہنماؤں سے ہاتھ ملانے کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر ریلیز کر رہی تھی اور یورپی یونین کی سربراہ شہباز شریف کو یہ کہتی نظر آئیں کہ ابھی مجھے ایک اہم میٹنگ میں جانا ہے، آپ سے بعد میں بات ہوتی ہے۔ جن دنوں ایشیا کی سیاست اپنے عروج پر تھی، پاکستان کی اعلیٰ قیادت جو فقط ایک جگہ بلایا گیا اور وہ ماحولیاتی کانفرنس تھی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایشیائی خطے میں پاکستان کا قد کاٹھ کوئی چھوٹا نہیں ہے۔ یہ دنیا کی گنی چنی ایٹمی قوتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی فوج کا شمار دنیا کی دس بڑی افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستانی آبادی کے حوالے سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ اس کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان دنوں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ایسی نواجوان اور انرجیٹک آبادی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔

پاکستان دنیا کی ایک بہت بڑی کنزیومر منڈی ہے۔ اس ملک کے نوجوان بھی ذہین ہیں۔ پاکستان کے نوجوان آپ کی دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ کیا وجہ ہے کہ جرمنی اپنی روزگار کی منڈی کے بھارت آ کر معاہدہ کر جاتا ہے لیکن پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں ہو پاتا؟

وہ کونسی وجوہات ہیں کہ اتنے اہم موڑ پر، جہاں پورا ایشیا ہی دنیا کی نگاہ کا مرکز بنا ہوا ہے، پاکستان کو کسی اہم اجلاس میں نہیں بلایا جاتا؟ یہاں تک کہ قطر میں ورلڈ کپ کے آغاز پر خطے کے اہم رہنماء وہاں موجود تھے لیکن پاکستان قطر ورلڈ کپ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے باوجود وہاں موجود نہیں تھا۔ اس اہم موڑ پر پاکستان کی بے وقعتی کی اہم وجہ خارجہ پالیسی میں ناکامی کے ساتھ ساتھ فوج اور سیاست دانوں کے آپس کی چپلقش ہے۔ ہماری فوج خارجہ پالیسی سے لے کر ملک کے ہر چھوٹے بڑے کاروبار کو کنٹرول کر رہی ہے۔

دوسری اہم وجہ ہمارا کرپشن سے لبریز سیاسی نظام ہے۔ ہمارا سیاسی نظام خاندانی سیاست اور صرف اپنی جائیدادیں بنانے والے خاندانوں کا غلام بن چکا ہے۔ گزشتہ دس برس کیا تیس برسوں پر نظر ڈالیں تو ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔ حکومت میں آنے والے سابقہ حکومتوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ملک کو برباد کر کے چلے گئے ہیں۔ اس سارے قصے کے درمیان فقط اور فقط اقتدار میں آنے والے اپنے اثاثے بڑھاتے ہیں اور کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کر کے چلتے بنتے ہیں۔ عوام مداریوں کا یہ کھیل دیکھ کر میلے میں اگلے مداری کے کرتب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

چند برس پہلے میں نے جرمنی میں ایک اسرائیلی سفارت کار سے پوچھا کہ کچھ بلوچ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں اسرائیلی حمایت حاصل ہے۔ اس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ سچی پوچھو تو پاکستان کے اپنے اندرونی اتنے مسائل ہیں، وہ خود اپنی سرحدوں کے اندر اتنا الجھا ہوا ہے کہ ہمیں اس حوالے سے کبھی کوئی فکر نہیں رہی کہ ہم کچھ کریں۔ سفارت کار ہمیشہ ایسے ہی کہتے ہیں لیکن اب یہ بات واقعی سچ لگتی ہے۔

پاکستانی فوج اور سیاستدان خود اتنے الجھے ہوئے ہیں، خود اتنا پیسہ بیرون ملک لے جا رہے ہیں، خود ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں کہ انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہی۔ اس وقت پاکستان کے معاشی حالات انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، وہ دل دہلا دینے والی ہیں۔ بیرونی کمپنیاں ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے اپنے غیر ملکی دفاتر کو پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کے خطرے سے آگاہ کر چکی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو اور پاکستان کو اپنے دوستوں سے زرمبادلہ کے ذخائر مل جائیں لیکن صورت حال دن بدن بگڑ رہی ہے۔

پاکستان نے اگر آئندہ چھ، آٹھ ماہ کے مشکل مالی حالات سنبھال لیے تو یہ معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ پاکستانی فوج اور پاکستانی سیاستدانوں کے پاس اب بھی موقع ہے۔ ایشیا اس صدی کا اہم ترین خطہ ہے اور پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت اس کو زمین سے آسمان تک لے جا سکتی ہے۔ سعودی عرب اور چین کو تمام تر تجارت کے لیے، تیل کی شپ منٹ کے لیے گوادر بندرگاہ سب سے قریب پڑتی ہے۔ لیکن پاکستان کو ایک جمہوری تسلسل کے ساتھ ساتھ بااعتماد اور کرپشن فری ملک بن کر ابھرنا ہوگا۔

بھارت کے روس اور وسطی ایشیا تک تمام راستے پاکستان سے گزر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے بھی ملک میں ایک طاقتور جمہوری حکومت اور استحکام کا ہونا ضروری ہے۔ پاکستان اور اس کی اشرافیہ کے پاس وقت بہت کم بچا ہے اور دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان نے اس صدی کے اس اہم موڑ سے فائدہ نہ اٹھایا تو بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک پاکستان سے کہیں آگے ہوں گے۔

Check Also

Operation Pe Operation

By Tahira Kazmi