Sunday, 08 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. Afghan Taliban Ka Ehsas e Bartari Aur Takabur

Afghan Taliban Ka Ehsas e Bartari Aur Takabur

افغان طالبان کا احساسِ برتری اور تکبر

افغانستان کی حالیہ سیاسی صورتحال اور طالبان حکومت کے رویّے کو دیکھتے ہوئے ایک بات واضح طور پر محسوس ہوتی ہے کہ افغان طالبان ایک شدید احساسِ برتری اور سیاسی تکبر کا شکار ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی طاقتوں کے خلاف افغانستان میں ہونے والی جنگوں نے طالبان اور افغان قیادت کے ایک حصے میں یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ گویا انہوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو اکیلے شکست دی ہے اور اس وجہ سے وہ خود کو خطے میں ایک خاص مقام کا حق دار سمجھتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ افغانستان گزشتہ چالیس سال سے عالمی سیاست کا میدان بنا رہا ہے اور یہاں سوویت یونین اور بعد ازاں امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف طویل جنگیں لڑی گئیں۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان جنگوں میں افغان مجاہدین کو تنہا نہیں لڑنا پڑا بلکہ انہیں خطے کے دیگر ممالک خصوصاً پاکستان کی جانب سے بے مثال سیاسی، سفارتی اور عسکری مدد حاصل رہی۔

تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں رہا۔ پاکستان کے قیام سے پہلے جب برطانیہ اور افغانستان کے درمیان جنگیں ہوئیں تو افغانستان کو نہ صرف فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اسے اپنے کئی علاقے بھی کھونے پڑے۔ علی مسجد سے طورخم تک کا علاقہ اور موجودہ خیبرپختونخواہ کا بڑا حصہ اس دور میں برطانوی اثر و رسوخ میں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی خارجہ پالیسی بھی ایک طویل عرصے تک برطانوی اثر میں رہی۔

پاکستان کے قیام کے بعد جب سرد جنگ کا دور شروع ہوا تو افغانستان ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن گیا۔ سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر قبضہ کیا جس کے خلاف افغان مجاہدین نے مزاحمت شروع کی۔ اس مزاحمت میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے نہ صرف لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی بلکہ مجاہدین کی تربیت، اسلحہ کی فراہمی اور سفارتی حمایت بھی فراہم کی۔

اس حقیقت کا اعتراف خود مغربی دنیا کے کئی سابق فوجی اور انٹیلیجنس افسران اپنی کتابوں اور بیانات میں کر چکے ہیں کہ سوویت یونین کی شکست صرف افغان مجاہدین کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی اور مدد کا بڑا کردار تھا۔

بعد ازاں جب امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان آئیں تو وہ بھی بیس سالہ جنگ کے بعد وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئیں۔ لیکن یہاں بھی حقیقت یہ ہے کہ اس پوری جنگ میں پاکستان نے ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ایک طرف عالمی دباؤ کو برداشت کیا اور دوسری طرف افغان مہاجرین کا بوجھ بھی اٹھایا۔ اس تمام عرصے میں پاکستان کو دہشت گردی کی صورت میں بھاری جانی اور مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

بدقسمتی سے ان تمام قربانیوں کے باوجود آج افغانستان کی موجودہ قیادت میں پاکستان کے بارے میں ایک غیر ضروری سرد مہری اور بعض اوقات دشمنی کا رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔ طالبان حکومت کے بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ خود کو اسلام کے اصل نمائندے سمجھتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرے وہ گویا اسلام سے دور ہے۔ اس طرح کا طرزِ فکر نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے کیونکہ اسلام عاجزی، برداشت اور عدل کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ تکبر اور برتری کے دعووں کی۔

افغانستان کی خارجہ پالیسی میں بھی بعض ایسے فیصلے دیکھنے میں آئے ہیں جو بظاہر خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان نے پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے افغانستان کو کبھی بھی ایسا اسٹریٹجک یا معاشی تعاون فراہم نہیں کیا جو پاکستان کے متبادل کے طور پر کام کر سکے۔

افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے اور اس کی تجارت کا بڑا انحصار ہمسایہ ممالک پر ہے۔ پاکستان اس کے لیے سب سے بڑا تجارتی راستہ رہا ہے۔ جب بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام اور افغان معیشت کو ہوتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحدی تجارت متاثر ہوئی ہے جس سے افغانستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے پاس ایران کے راستے تجارت کا ایک متبادل موجود تھا، لیکن خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث وہاں بھی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ اس طرح افغانستان مزید معاشی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہاں ایک اہم حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ گوریلا جنگ اور ریاست چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ گوریلا جنگ میں بنیادی مقصد صرف لڑائی جاری رکھنا ہوتا ہے، جبکہ ایک ریاست کو چلانے کے لیے معیشت، سفارت کاری، تعلیم، صحت، تجارت اور عوامی فلاح جیسے متعدد شعبوں میں متوازن پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

طالبان نے بیس سال تک ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر جنگ لڑی، لیکن اب وہ ایک مکمل ریاست کے حکمران ہیں۔ ایک ریاست کے حکمران ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ اور متوازن فیصلے کریں۔

اگر افغانستان کی موجودہ قیادت اپنے رویّے میں اعتدال اور حقیقت پسندی اختیار نہیں کرتی تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود افغانستان اور اس کے عوام کو ہوگا۔ تکبر، احساسِ برتری اور غیر ضروری محاذ آرائی کسی بھی ملک کو ترقی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔

افغانستان اور پاکستان دونوں مسلمان اور ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں کی تاریخ، ثقافت اور مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھائیں۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر افغان قیادت اپنے رویّوں میں عاجزی، حقیقت پسندی اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کو فروغ دے تو نہ صرف افغانستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔

Check Also

America, Iran Aur Badalta Aalmi Manzar Nama

By Mehran Khan