Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Amin
  4. Pakistan Mein Barhti Hui Dehshat Gardi

Pakistan Mein Barhti Hui Dehshat Gardi

پاکستان میی بڑھتی ہوئی دہشت گردی

پاکستانی سلامتی کی موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں دہشت گردی نہ صرف ملکی سرحدوں پر ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے بلکہ یہ معاشی استحکام اور قومی اتحاد کو بھی شدید طور پر متاثر کر رہی ہے۔ یہ بحران خاص طور پر براہ راست افغانستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات سے جڑا ہوا ہے جہاں طالبان کی حکومت کے زیر سایہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو پناہ گاہیں میسر ہیں نیز یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور پھر اس پر عمل درآمد کرواتے ہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ماضی میں پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی بنانے والوں کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں پاکستان کی دوست حکومت ہوگی تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر کبھی بھارت سے جنگ یا دباؤ کی صورت حال بنی تو افغانستان محفوظ پچھلا علاقہ (سٹریٹیجک ڈیپتھ) بن سکتا ہے جہاں سے پاکستان کو سہارا ملے گا لیکن اب حالات ایسے بن گئے ہیں کہ پاکستان خود کو چاروں طرف سے دباؤ اور خطرات میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے، جسے اسٹریٹجک انسرکلمنٹ کہا جا رہا ہے یعنی جس پالیسی سے تحفظ حاصل کرنا مقصود تھا وہی اب مشکلات کا سبب بنتی نظر آ رہی ہے۔ سادہ لفظوں میں جو منصوبہ اپنی حفاظت کے پیش نظر بنایا گیا تھا وہی اب الٹا اثر دکھا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے صوبوں پکتیکا اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے 7 ٹھکانوں پر انٹیلی جنس بیسڈ حملے کیے ہیں جو اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملے، باجوڑ اور بنوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا براہ راست جواب تھے۔ ان حملوں میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں ٹی ٹی پی کے کئی اعلیٰ کمانڈرز شامل تھے جن میں مختلیس یار (سوئی سائیڈ بمبارز کا ٹرینر)، ابو حمزہ (ٹی ٹی پی کا سینئر کمانڈر) اور اختر محمد (حافظ گل بہادر گروپ کا سیکنڈ ان کمانڈ) شامل ہیں۔ تاہم افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں درجنوں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ حملہ پاکستان کی اس پالیسی کا مظہر ہے کہ وہ اب اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ ایک دو حملوں سے ان کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں خاص طور پر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں جہاں یہ گروہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں جس سے سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا جس میں کے پی کے میں 413 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 581 افراد ہلاک اور 698 زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں 254 حملے ہوئے جن میں 419 ہلاکتیں اور 607 زخمی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان سے ملنے والی سپورٹ نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر ایک منظم دہشت گرد قوت بنا دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6000 تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں۔ 2021 سے 2025 تک پاکستان میں ٹی ٹی پی سے جڑے حملوں میں 3500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 80 فیصد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرزمین پر ہوئی۔ یہ دہشت گردی نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہی ہےاور یوں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے مستقل خطرے میں ہیں۔

2001 سے اب تک دہشت گردی سے پاکستان کو 126 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں 45 فیصد کمی آئی ہے اور کئی کمپنیاں جیسے شیل اور ٹوٹل انرجیز نے پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروہ نے سی پیک کے منصوبوں پر حملے کیے جس سے چینی سرمایہ کاروں میں خوف پایا جاتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو تبدیل کرنے کا ضامن سی پیک اب دہشت گردی کی وجہ سے رکاوٹوں کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دہشت گردی کا معیشت پر سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیا میں نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال فکری طور پر ایک سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان کی سلامتی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں پاکستان نے پراکسی وارز اور دوستانہ طالبان کی امید پر انحصار کیا تھا لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں یا دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گردی نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہے بلکہ اب شیعہ مساجد اور اقلیتوں پر حملے سماجی تقسیم کو بھی بڑھا رہے ہیں۔

تاریخی حوالے سے 1979 کے سوویت حملے کے بعد پاکستان نے مجاہدین کو سپورٹ کیا تھا یہ مجاہدین بعد میں القاعدہ اور طالبان میں تبدیل ہوئے اور اب ٹی ٹی پی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 2026 میں 3.9 فیصد رہے گی لیکن اندیشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اسے مزید کم کر سکتی ہے۔ لہذا اس مسئلہ کا حل ضروری ہے اس بحران کا حل فوجی کارروائیوں کے علاوہ گورننس کو بہتر بنانے، معاشی مواقع فراہم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے والی جامع حکمت عملی میں ہے۔

پاکستان کو سعودی عرب، ترکی اور قطر جیسے اتحادیوں سے بھی مدد لینی چاہیے تاکہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں سرداروں کے ذاتی مفادات، حکومتی امداد کا غیر دانشمندانہ استعمال، بے روزگاری اور عدم مساوات ٹی ٹی پی کو بھرتیاں کرنے کا موقع دیتی ہے اگر یہ چیلنجز حل نہ ہوئے تو پاکستان کی سلامتی اور معیشت مزید کمزور ہوگی اور مزید تناؤ بڑھےگا۔

یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے اور ایک پائیدار امن کی طرف قدم بڑھائے کیونکہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ صرف فوجی طاقت سے بلکہ فکری اور معاشی استحکام سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں تمام سیاسی قیادتوں اور عوام کو بھی ملکی سلامتی کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

Check Also

Makhdoosh Surat e Haal

By Rao Manzar Hayat