Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ibn e Fazil
  4. Behtreen Rawaiya

Behtreen Rawaiya

بہترین رویہ

سڑک پر ٹریفک رواں دواں ہوتی ہے۔ ہماری گاڑی بہت سی دیگر گاڑیوں کے ساتھ مناسب فاصلہ اور مناسب رفتار کے ساتھ منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دفعتاً آگے کسی موڑ پر سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ راستہ محدود ہے۔ سب گاڑیوں کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ آپس کے فاصلے گھٹ جاتے ہیں اور پھر ہم خود کو گاڑیوں کی ایک طویل قطار میں پاتے ہیں جو آہستہ آہستہ سرک رہی ہے۔

کسی کو جلدی ہے کہیں بروقت پہنچنا ناگزیر ہے، ارد گرد والوں سے مدد طلب کرتا ہے مگر سب بےبس بری طرح پھنسے ہیں کسی کے بس میں کچھ بھی نہیں سوائے انتظار کے۔ اب آپ کا رویہ آپ کی شخصیت کا پر تو ہے۔ چاہے تو صبر شکر کریں۔ اللہ کو یاد کریں۔ چاہے باآواز بلند موسیقی سنیں اور چاہیں تو ارباب اختیار کو کھری کھری سنائیں۔ اپنی قسمت اور ملک کو کوسنے دیں۔

بالکل یہی حال شاہراہ حیات کا ہے۔ مصائب و مسائل ایک خاص رفتار سے مناسب فاصلے سے آتے رہتے ہیں اور ہم ان سے نبرد آزما ہونے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ مگر چلتے چلتے کسی موڑ پر برا وقت آ جاتا ہے۔ مشکلات کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ حل ہونے کی رفتار تقریباً صفر ہے اور آنے کی وہی۔ اپنے بس میں کچھ بھی نہیں۔ کسی اپنے کی طرف مدد کیلئے دیکھتے تو علم ہوتا ہے کہ اسے خود مدد درکار ہے۔

اب انتخاب وہی ہے۔ اللہ کو یاد کریں توکل کریں، جو بن پڑتا ہے کرتے جائیں اور صبر سے برے وقت ختم ہونے کا انتظار کریں۔ یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، غصہ کریں، بات بے بات دشنام طرازی وغیرہ اور تیسرا زندگی کا سامنا کریں، مشکلات کا مزا لیں۔ اللہ کریم سب کو برے وقت سے بچائے۔ مگر خدانخواستہ اگر زندگی میں اس کا سامنا ہو تو توکل اور صبر اور مسلسل محنت ہی بہترین رویہ ہے۔

فروری 19 سال 2020 کا ایک تخیل۔

آج کل کے ملکی حالات کے سبب حسب حال لگا تو سانجھ کر دیا۔

Check Also

Brahmanism

By Zubair Hafeez