Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hussnain Nisar
  4. 13 Rajab Noor Ka Din

13 Rajab Noor Ka Din

13 رجب نور کا دن

رجب المرجب تاریخِ اسلام کا وہ مقدس دن ہے جب انسانیت کو شجاعت، عدل، علم اور تقویٰ کا وہ درخشاں مینار عطا ہوا جسے دنیا حضرت علی ابنِ ابی طالبؑ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ دن صرف ایک ولادت کا دن نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار کے ظہور کا دن ہے جس نے حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے واضح لکیر کھینچ دی۔

حضرت علیؑ کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جو تاریخ میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ یہ واقعہ محض ایک معجزہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ علیؑ کی زندگی کا ہر پہلو توحید کے مرکز سے جڑا ہوا تھا۔ جس گھر میں بت رکھے گئے تھے، اسی گھر کی دیواریں شق ہوئیں اور ایک موحد، ایک حق پرست، ایک عادل رہنما نے جنم لیا۔ یہ ولادت اعلان تھی کہ حق کا چراغ اندھیروں میں بھی روشن رہتا ہے۔

حضرت علیؑ کی پرورش آغوشِ رسالت میں ہوئی۔ نبی اکرم ﷺ کی صحبت نے علیؑ کے کردار کو ایسا نکھارا کہ کم عمری میں ہی وہ ایمان کی بلندیوں پر فائز ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں سب سے پہلے نوجوان ہونے کا شرف علیؑ کو حاصل ہوا۔ یہ محض سبقت نہیں، بلکہ بصیرت کی دلیل تھی، وہ بصیرت جو حق کو پہچاننے میں کبھی متزلزل نہ ہوئی۔

شجاعت کا ذکر آئے تو نامِ علیؑ خود بخود زبان پر آ جاتا ہے۔ بدر، اُحد، خندق اور خیبر ہر میدان میں علیؑ حق کے علمبردار بن کر سامنے آئے۔ خیبر کا دروازہ اکھاڑنا محض جسمانی قوت کا مظہر نہیں تھا، بلکہ یقینِ کامل اور توکلِ خداوندی کا عملی ثبوت تھا۔ رسولِ خدا ﷺ کا فرمان کہ "میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں" اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ علیؑ کی قوت تلوار میں ہی نہیں، فکر اور حکمت میں بھی تھی۔

حضرت علیؑ کا عدل تاریخِ انسانیت کا روشن باب ہے۔ خلافت ملی تو اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے بھی ان کی زندگی سادہ رہی۔ بیت المال کی امانت کو ذاتی خواہشات پر قربان نہ کیا۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی وہی معیار رکھا جو عام انسان کے لیے تھا۔ عدل کا یہ عالم تھا کہ دشمن بھی انصاف کی مثالیں دیتے تھے۔ علیؑ نے ہمیں سکھایا کہ حکومت خدمت کا نام ہے، اختیار ذمہ داری ہے اور طاقت امانت۔

علم کے میدان میں حضرت علیؑ کی شان بے مثال ہے۔ فقہ، تفسیر، فلسفہ، اخلاق کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں علیؑ کی فکر رہنمائی نہ کرتی ہو۔ نہج البلاغہ آج بھی انسان کو خود شناسی، خدا شناسی اور معاشرتی انصاف کا راستہ دکھاتی ہے۔ ان کے اقوال میں عقل کی گہرائی اور دل کی حرارت یکجا نظر آتی ہے۔ علیؑ کا علم انسان کو بلند کرتا ہے اور غرور سے بچاتا ہے۔

حضرت علیؑ کی عبادت، خشیت اور محبت کا حسین امتزاج تھی۔ رات کی تاریکی میں سجدوں کی طویل مناجات، آنسوؤں میں بھیگی دعائیں اور دن کے اجالے میں مظلوموں کی داد رسی، یہ علیؑ کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ ان کے نزدیک عبادت محض رسم نہیں بلکہ ذمہ داری تھی، خدا سے تعلق انسانوں کی خدمت کے بغیر ادھورا تھا۔

13 رجب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علیؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ ایک زندہ فکر ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا آسان نہیں، مگر ضروری ہے، کہ عدل کا راستہ کٹھن ضرور ہے، مگر یہی نجات کا راستہ ہے، کہ علم کے بغیر عبادت اندھی ہے اور خدمت کے بغیر ایمان ادھورا۔

آج کے شوریدہ دور میں، جہاں طاقت کمزور کو کچلتی ہے اور مفاد حق پر غالب آتا ہے، علیؑ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر ہم اپنے کردار میں علیؑ کی سچائی، اپنی گفتگو میں علیؑ کی حکمت اور اپنے فیصلوں میں علیؑ کا عدل شامل کر لیں تو معاشرہ خود بخود سنور سکتا ہے۔

13 رجب محض جشن نہیں، تجدیدِ عہد کا دن ہےاس عہد کا کہ ہم علیؑ کی راہ پر چلیں گے، حق کے لیے کھڑے ہوں گے، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے اور علم و عمل کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔ یہی حضرت علیؑ کی ولادت کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہمارے دلوں کو چھو لینے والی سب سے بڑی حقیقت۔

Check Also

Venezuela Ka Sadar Agwa Aur Amereci Samraj

By Imran Ismail