Dhandli Ki Tareekh (1)
دھاندلی کی تاریخ (1)

پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں جو الیکشن بھی منعقد ہوا اس کی شفافیت پر ہمیشہ اعتراض ہی کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں منعقد ہونے والے الیکشنز پر ہارنے والی جماعتوں کا دھاندلی کا الزام اور اس کی شفافیت پر انگلی اٹھانے کا کام پاکستان بننے کے فوراََ بعد ہی شروع ہوگیا۔ اس کی شروعات 1951 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے ہوتی ہے جو کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی زندگی میں ہی منعقد ہوئے (الیکشن مارچ میں ہوئے جب لیاقت علی خان ہی پاکستان کے وزیراعظم تھے جبکہ اکتوبر میں ان کو شہید کیا گیا تھا)۔
ان الیکشنوں میں اس وقت کے وزیراعلی پنجاب ممتاز دولتانہ پر اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ممتاز دولتانہ نے حکومتی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی مرضی کے حلقوں میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے ہیں۔ 1951 میں ہونے والے صوبائی ایسٹ بنگال میں انتخابات کو کسی حد تک غیر جانبدارانہ کہا جاتا ہے کیونکہ ان الیکشنوں میں حکمران جماعت بری طرح شکست کھا گئی تھی۔ 1959 کے جنوری میں ہونے والے عام انتخابات جو کہ 1956 کےآئین کے مطابق ہونا تھے وہ اکتوبر 1958 میں لگنے والے مارشل لا کی وجہ سے ملتوی ہو گئے۔
ایوب خان کے دور اقتدار میں صوبائی اور قومی سطح پر دو الیکشن منعقد ہوئے ایک 1962 میں اور دوسرے 1965 میں، جو کہ انڈائریکٹ الیکٹورلز پر مشتمل تھے جن میں پانچ سے چھ سو الیکٹورلز نیشنل اسمبلی اور 200 سے 300 الیکٹورل ووٹس صوبائی اسمبلی کے لیے نامزد کیے گئے تھے۔ ان دونوں الیکشنوں میں مارشل لاء حکومت کے لیے یہ کوئی بڑا کام نہیں تھا کہ وہ تھوڑے سے نمبر آف الیکٹورلز میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیں اور خاص طور پر ویسٹ پاکستان میں گورنر امیر محمد خان آف کالہ باغ کے ہوتے ہوئے ایوب خان حکومت کو ان الیکشنز کو مینیج کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں ایک صدارتی الیکشن منعقد ہوا جس کا انعقاد 1965 میں ایوب خان کی مارشل لاء حکومت نے کیا اور اس میں ایوب خان اور مادر ملت فاطمہ جناب مد مقابل تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دھاندلی زدہ الیکشن تھا جس میں مادر ملت کے خلاف حکومتی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے ایوب خان کی مارشل لاء حکومت نے ایوب خان کو ہی صدر پاکستان منتخب کرانے کے لیے دھاندلی کی انتہا کر دی۔ اس الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے کے لیے ایوب خان کی مارشل لاء حکومت ہر حد تک گر گئی۔ کیونکہ ایوب خان جانتا تھا کہ دھاندلی کے بغیر وہ کسی صورت بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شکست نہیں دے سکتا۔ لہذا یہ اپنی طرز کا ایک عجیب ہی الیکشن تھا جس میں امیدوار صدر پاکستان کی سیٹ پر خود بھی براجمان تھا اور آنے والے صدر کے انتخاب کا امیدوار بھی تھا۔
ایوب خان محترمہ فاطمہ جناح سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ اسے 1962 کے آئین میں اپنے ہی بنائے ہوئے قانون میں ترمیم کرنا پڑی۔ 1962 کے آئین کے مطابق جو صدرارت کا امیدوار ہوگا وہ صدر پاکستان یا کسی بھی حکومتی عہدے پر براجمان نہیں رہ سکتا لہذا ایوب خان نے یہ تصور کیا کہ اسے صدارت کا امیدوار بھی بننا ہے اور صدارت کا الیکشن جیتنے کے لیے مارشل لاء حکومت کا سربراہ رہنا بھی ضروری ہے لہذا اس نے قومی اسمبلی کے ذریعے آئین میں ترمیم کروا دی اور مارشل لاء حکومت کا سربراہ بھی رہا اور آنے والے صدارتی انتخاب کا امیدوار بھی بن گیا اور پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی کرکے دوبارہ صدر پاکستان منتخب ہوگیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اس الیکشن میں ایوب خان کے بھرپور سپورٹر تھے جبکہ شیخ مجیب الرحمن محترمہ فاطمہ جناح کے دسمبر 1970 میں ہونے والے عام انتخابات جو کہ یحییٰ خان کی مارشل لاء حکومت نے کروائے ان انتخابات کو پاکستانی تاریخ میں کسی حد تک قبولیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مارشل لاء حکومت کا کوئی امیدوار اس الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا تھا لہذا حکومت کو الیکشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لہذا ان انتخابات کو کسی حد تک قبول کیا جاتا ہے اور پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات بھی کہا جاتا ہے۔
اس بات کے قطع نظر کے انتخابات کے بعد پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا لیکن ان انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے بہترین انتخابات کہا جاتا ہے۔ اگلے دن ایک انٹرویو کے دوران سینیئر اینکر پرسن سلیم صافی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اسی متعلق ایک سوال کیا کہ سب 1970 کے عام انتخابات کو شفاف ترین انتخابات کہتے ہیں لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ جس پر شاہد خاقان عباسی نے بڑا ہی موضوع جواب دیا انہوں نے کہا کہ ان الیکشنز کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے نہیں ہوا بلکہ ان الیکشنز کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے ہوا۔ کیونکہ ظاہر ہے شیخ مجیب الرحمن واضح اکثریت سے انتخابات جیت چکے تھے۔ لہذا واضح اکثریت سے انتخابات جیتنے والے کو اقتدار منتقل نہ کرنے کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیشہ یہی بتایا جاتا رہا کہ شیخ مجیب الرحمن غدار تھا لیکن جب ہم آج اس کی تقاریر سنتے ہیں تو ہمیں وہ محب وطن لگتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مدت سے پہلے مارچ 1977 میں جو انتخابات کروائے ان انتخابات کو اپوزیشن نے مسترد کر دیا ان انتخابات کو اپوزیشن نے دھاندلی زدہ انتخابات قرار دیا جس کے بعد اپوزیشن نے پی این اے کی تحریک بنا کر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی جو تحریک بعد میں تحریکِ نظامِ مصطفیٰ میں تبدیل ہوگئی اور آخر کار جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء پر اس کا اختتام ہوا اور بھٹو صاحب کے اپنے ہی لگائے ہوئے آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے انہیں پابند سلاسل کر دیا اور پھر ایک بے جان مقدمے میں چار اپریل 1979 کو پھانسی پر چڑھا دیا۔
فروری 1985 میں جنرل محمد ضیاء الحق نے عام انتخابات کروائے ان انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اس لیے ان انتخابات کو غیر جماعتی انتخابات بھی کہا جاتا ہے اس میں تمام امیدوار آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لے سکے تھے ان انتخابات پر بھی بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا اور ان انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ قرار دیا گیا۔ اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی قوت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ کیونکہ جنرل محمد ضیاء الحق کا انتخابات کو غیر جماعتی انتخابات بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مزید تقسیم کیا جائے۔
سینیئر صحافی اور سیاستدان مشاہد حسین سید اگلے دن سینیئر صحافی کامران خان کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں بتا رہے تھے کہ محترمہ شہید نے بعد میں لندن میں ایک ملاقات کے دوران میرے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی۔ ان غیر جماعتی انتخابات کی وجہ سے اشرافیہ کو پارلمان تک جانے کا جو موقع فراہم ہوا وہ آج تک نہیں روک سکا اور اس کی باقیات آج تک موجود ہیں۔
نومبر 1988 میں ہونے والے انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ اور ایجنسیوں کی طرف سے مینج شدہ انتخاب کہا جاتا ہے اس الیکشن میں ایسے بہت سے شواہد نکالے گئے جن میں خفیہ ایجنسیوں نے اس الیکشن میں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ اس بات کا اعتراف اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل خود بعد میں اپنے دیے گئے انٹرویوز میں کر چکے ہیں کہ اس الیکشن میں بے نظیر بھٹو کے خلاف بننے والے الیکشن اتحاد کی ہم نے بھرپور مدد کی۔ کیونکہ اس وقت کے طاقتور حلقے بے نظیر بھٹو سے اس لیے خوفزدہ تھے کیونکہ جتنے مظالم پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور ان کے لیڈرز کے ساتھ کیے جا چکے تھے انہیں خوف تھا کہ محترمہ اگر اقتدار میں آ گئی تو وہ ان سب کا گن گن کر بدلہ لے گی اسی لیے تمام طاقتور حلقوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف بننے والے اتحاد کو بھرپور سیاسی و مالی امداد فراہم کی مگر عوام کی بے تحاشہ سپورٹ کی وجہ سے بے نظیر بھٹو یہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوگئی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی۔۔
جاری ہے۔۔