Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Muhammad Irfan
  4. Mimbar o Mehrab Ki Asal Zimmadari

Mimbar o Mehrab Ki Asal Zimmadari

منبر و محراب کی اصل ذمہ داری

منبر و محراب اسلام کے وہ مقدس مراکز ہیں جہاں سے امت کی رہنمائی، اصلاحِ احوال اور فکری بیداری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ نے دنیا کو عدل، انصاف، اخلاقیات، محبت، بھائی چارے اور انسانی حقوق کی اعلیٰ ترین اقدار سکھائیں۔ لیکن افسوس! آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ مقدس مقامات اپنی اصل روح سے ہٹتے جا رہے ہیں۔

کل عید کی نماز کے دوران میں نے غور کیا کہ ہمارے علماء کرام اور خطباء حضرات کے خطبات میں زیادہ تر زور محض عبادات کی ترغیب پر ہوتا ہے، جبکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی رویوں کی درستگی پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ، رشتوں کی ناہمواری، کرپشن، جھوٹ، لالچ اور ناانصافی جیسے سلگتے مسائل پر منبر و محراب سے روشنی کیوں نہیں ڈالی جاتی؟ کیا اسلام محض چند عبادات کا نام ہے؟ کیا دین کی تکمیل صرف نماز، روزہ اور حج کی ادائیگی سے ہو جاتی ہے؟

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ يَأُمُرُ بِالُعَدُلِ وَالإِحُسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الُقُرُبَى وَيَنُهَىٰ عَنِ الُفَحُشَاءِ وَالُمُنكَرِ وَالُبَغُيِ (النحل: 90)۔

"بے شک اللہ عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے"۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَفُضَلُ الجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنُدَ سُلُطَانٍ جَائِرٍ (سنن نسائی)

"سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے"۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آپ نے مسجد نبوی کو نہ صرف عبادات بلکہ سماجی تربیت اور عدل و انصاف کے فروغ کا مرکز بنایا۔ آپ کے خطبات میں حقوق العباد کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ والدین، اولاد، ہمسایہ، یتیم، مسکین اور عام انسانوں کے حقوق پر آپ نے بار بار تاکید کی۔ لیکن آج ہمارے خطبوں میں ان بنیادی موضوعات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

آج کے اس پرفتن دور میں امت مسلمہ کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ایک اچھے معاشرتی نظام کی تشکیل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ منبر و محراب کو صرف عبادات کی تبلیغ تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان مقامات کو اخلاقی اور سماجی تربیت کا حقیقی مرکز بنائیں۔ ہمیں مساجد میں اس بات پر گفتگو کرنی چاہیے کہ:

1۔ رشتوں میں محبت اور خلوص کیسے پیدا کیا جائے؟

2۔ معاشرے میں انصاف اور مساوات کیسے قائم کی جائے؟

3۔ ماں باپ کے حقوق کیا ہیں اور ان کی ادائیگی کس طرح ممکن ہے؟

4۔ بچوں کی تربیت میں والدین کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟

5۔ ہمسایوں کے حقوق کیا ہیں اور ان کی پاسداری کیسے کی جائے؟

6۔ کرپشن، جھوٹ، لالچ اور دیگر سماجی برائیوں سے کس طرح نجات حاصل کی جائے؟

7۔ ظالم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے کی اہمیت کیا ہے؟

8۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق حسنِ اخلاق کو کس طرح اپنایا جائے؟

اس کے علاوہ، آج ملک پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی بے یقینی، حق کی آواز کو دبانے کی کوششیں، عوامی جذبات کی مکمل طور پر نفی اور ناانصافی کا بازار گرم ہے۔ ایک عام شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے ترس رہا ہے اور اس کے مسائل پر بات کرنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں منبر و محراب کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ مظلوموں کی آواز بنیں، ظلم کے خلاف حق بات کہیں اور امت کو بیدار کریں۔ ہمیں وہی روش اپنانی ہوگی جو صحابہ کرامؓ نے اپنائی، جنہوں نے کسی بھی ظالم حکمران کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کا علم بلند رکھا۔

منبر و محراب کی اصل ذمہ داری محض عبادات کی تلقین تک محدود نہیں، بلکہ اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات کو عام کرنا ہے۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپناتے ہوئے منبر و محراب کو ایک ایسا مرکز بنانا ہوگا جہاں نہ صرف دینی تعلیمات دی جائیں بلکہ انسانیت کی فلاح و بہبود، سماجی ہم آہنگی، عدل و انصاف اور اخوت و بھائی چارے کا درس بھی دیا جائے۔ اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

Check Also

Khamoshi Akhir Kab Tak?

By Qadir Khan Yousafzai