Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fatima Tayyab Singhanvi
  4. Askari Wussat Ya Aalmi Tawazun Ki Nai Bisat?

Askari Wussat Ya Aalmi Tawazun Ki Nai Bisat?

عسکری وسعت یا عالمی توازن کی نئی بساط؟

عالمی سیاست کے ارتقا میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض بجٹ دستاویزات نہیں رہتے بلکہ آنے والے عشروں کی تزویراتی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مالی سال 2027 کے لیے پیش کردہ ریکارڈ دفاعی بجٹ بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ معلوم ہوتا ہے، جس نے نہ صرف عالمی مبصرین کو چونکا دیا ہے بلکہ بین الاقوامی طاقت کے توازن، عسکری ترجیحات اور معاشی ترجیحات کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس مجوزہ بجٹ کا حجم تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالر تک پہنچتا ہے، جو امریکی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور اس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 42 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ اضافہ محض روایتی دفاعی اخراجات تک محدود نہیں بلکہ اس کا مرکز جدید جنگی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں کی ترقی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے ڈرونز اور ان کے خلاف ٹیکنالوجیز کے لیے تقریباً 75 ارب ڈالر مختص کیے جانے کی تجویز اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگیں میدانِ کارزار سے زیادہ ڈیجیٹل فضا، الگورتھمز اور خودمختار مشینوں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو جنگ کے روایتی تصورات کو یکسر بدل رہی ہے، جہاں انسانی مداخلت کم اور مشینی فیصلہ سازی کا عمل زیادہ غالب ہوتا جا رہا ہے۔

اس بجٹ میں ایک اور نمایاں پہلو دفاعی خودکار نظاموں یعنی "ڈیفنس آٹونومس یونٹ" کے لیے فنڈنگ میں غیر معمولی اضافہ ہے، جو 63 ارب ڈالر سے بڑھا کر 152 ارب ڈالر تک لے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اپنی عسکری حکمتِ عملی کو ایک ایسے دور میں داخل کر رہا ہے جہاں روبوٹک گاڑیاں، خودکار ہتھیار اور مصنوعی ذہانت سے لیس جنگی نظام فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اس تناظر میں جنگ کا تصور محض عسکری طاقت کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجیکل برتری کا مترادف بنتا جا رہا ہے۔

فضائی شعبے میں بھی اس بجٹ نے ایک واضح پیغام دیا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن (امریکی دفاعی و ہوابازی کمپنی) کے تیار کردہ F-35 Lightning II طیاروں کی خریداری کو سالانہ 85 یونٹس تک بڑھانے کی تجویز نہ صرف امریکی فضائی قوت کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ عالمی اسلحہ منڈی میں اس طیارے کی اہمیت کو بھی برقرار رکھے گی۔ طیارہ سازی اور تحقیق و ترقی کے لیے 102 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اپنی فضائی برتری کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دینا چاہتا۔

بحری قوت کے میدان میں بھی ایک وسیع منصوبہ بندی سامنے آئی ہے، جس کے تحت "گولڈن فلیٹ" کے نام سے ایک بڑے پروگرام کے ذریعے 18 جنگی جہاز اور 16 معاون جہاز حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ، جس پر 65 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی، 1962 کے بعد امریکی بحریہ کی سب سے بڑی توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی بحری راستوں، خاص طور پر بحرالکاہل اور بحرِ ہند میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں طاقت کے توازن کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔

مزید برآں، "گولڈن ڈوم" نامی میزائل دفاعی نظام کے لیے 18 ارب ڈالر کی رقم مختص کرنے کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ نہ صرف حملہ آور صلاحیتوں بلکہ دفاعی ڈھانچے کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کے شعبے کے لیے 50 ارب ڈالر اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے اضافی فنڈنگ اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں داخلی اور خارجی سلامتی کے درمیان ایک مربوط ربط قائم کیا جا رہا ہے۔

اگر اس بجٹ کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات میں 445 ارب ڈالر کے اضافے کی تجویز ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ امریکی قیادت عالمی سطح پر اپنی عسکری برتری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اس اضافے کے لیے صحت، تعلیم اور رہائش جیسے سماجی شعبوں میں کٹوتیوں کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے، جو داخلی سطح پر ایک شدید سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ بجٹ محض عسکری حکمتِ عملی سے نکل کر سماجی و معاشی توازن کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک جانب عالمی سطح پر طاقت کے اظہار کی خواہش اور دوسری جانب داخلی سطح پر عوامی فلاح کے تقاضے، یہ دونوں عوامل ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ امریکی کانگریس میں اس بجٹ پر ہونے والی متوقع بحث اسی کشمکش کی عکاسی کرے گی، جہاں قانون سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی وسائل کو کس حد تک عسکری مقاصد کے لیے مختص کیا جائے اور کس حد تک عوامی بہبود کے لیے محفوظ رکھا جائے۔

بین الاقوامی سطح پر اس بجٹ کے اثرات بھی کم اہم نہیں۔ دفاعی اخراجات میں اس قدر بڑا اضافہ دیگر بڑی طاقتوں کے لیے ایک واضح اشارہ ہے، جو ممکنہ طور پر ایک نئی اسلحہ جاتی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر چین اور روس جیسے ممالک اس پیش رفت کو اپنی سلامتی کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر عسکری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح یہ بجٹ نہ صرف امریکہ کی داخلی ترجیحات کا عکاس ہے بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئی صف بندی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی پر اس قدر انحصار مستقبل میں جنگ کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کو بھی متاثر کرے گا۔ خودکار ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال نے پہلے ہی عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں انسانی کنٹرول، ذمہ داری اور جنگی قوانین کی پاسداری جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس تناظر میں یہ بجٹ نہ صرف عسکری طاقت میں اضافہ ہے بلکہ ایک نئے نوعیت کے جنگی نظام کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔

آخرکار، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ کا یہ مجوزہ دفاعی بجٹ ایک کثیرالجہتی دستاویز ہے، جس میں عسکری طاقت، ٹیکنالوجی، معیشت اور سیاست سب ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ یہ بجٹ جہاں ایک طرف امریکہ کی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، وہیں دوسری طرف یہ عالمی نظام میں ایک نئے توازن کی تشکیل کا اشارہ بھی دیتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بجٹ پر ہونے والی بحث اور اس کے عملی اثرات یہ طے کریں گے کہ آیا یہ فیصلہ عالمی استحکام کو مضبوط کرے گا یا ایک نئی کشیدگی کی بنیاد رکھے گا۔

Check Also

Kya Aurat Psycho Hai?

By Mohsin Khalid Mohsin