Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Farnood Alam
  4. Ghaibi Insaf Ki Scheme Aur Band File

Ghaibi Insaf Ki Scheme Aur Band File

غیبی انصاف کی اسکیم اور بندفائل

سال ہے 2022 کا، تاریخ ہے 10 جون کی اور وقت ہے دوپہر کا۔ اسلام آباد کے شالیمار تھانے میں ایک ایف آئیر درج ہوئی۔ عامر شاہ کا بیٹا دو دن سے غائب ہے۔ پولیس افسر نے تفتیش شروع کردی۔ معلوم ہوا بیٹے کو ایک خاتون نے پک کیا تھا۔ بیٹے کے فون پر آنے والی آخری کال کا ریکارڈ نکالا۔ نمبر کسی خاتون کا نکلا۔ خاتون کے نمبر پر دو اور نمبروں کو افسر نے مشکوک قرار دیدیا۔ ایک صوابی سے تھا دوسرا لاہور سے۔ دونوں نمبر بند تھے۔ دونوں کے والدین سے رابطہ کیا گیا۔ ایک جیسا جواب ملا۔ بیٹا جیل میں ہے۔ افسر نے ایف آئی آر نکلوائی۔ مقدمہ گستاخی کا نکلا۔ ایف آئی آر میں ایک تیسرے لڑکے کا نام دیکھ کر افسر سٹپٹا گیا۔ یہ عبداللہ شاہ نامی اسی نوجوان کا نام تھا جسکی تلاش میں افسر نکلا ہوا تھا۔

افسرنے لاہور اور صوابی والے لڑکوں کا جیل میں انٹرویو کیا۔ دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے، مگر دونوں کی کہانی ایک جیسی نکلی۔ لڑکی نے تعلق بنایا۔ بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دیا۔ وٹس ایپ گروپ میں یہ کہہ کر ایڈ کیا کہ کنسلٹنٹس رہنمائی کریں گے۔

گروپ گستاخانہ مواد سے بھرا ہوا تھا۔ گروپ کا ایڈمن بنا دیا گیا۔ ایڈمن بنانے والے نے خود گروپ چھوڑ دیا۔ سکرین شاٹس لے لیے گئے۔ نوکری کے معاملات کو آگے بڑھانے کیلیے ایک جگہ بلایا۔ پہنچے تو خاتون نے پک کیا۔ ایک گھر میں لے گئی۔ یہ پرائیویٹ ٹار چرسیل تھا۔ کچھ لوگ موجود تھے۔ فون قبضے میں لیکر لڑکی کی چیٹ ڈیلیٹ کردی۔ وڈیوز بنائیں۔ مارا پیٹا دھمکیاں دیں۔ کاغذ پر دستخط کروائے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے اہلکار آگئے۔ ہمیں انکے حوالے کردیا گیا۔

یہ سب سن کر افسر نے سوچا، عبداللہ کو بھی تو خاتون نے ہی پک کیا تھا۔ اسے بھی ان مرحلوں سے گزارا جارہا ہوگا۔ آتا ہی ہوگا۔ مگر عبداللہ نہیں آیا۔ شالیمار پولیس سٹیشن میں ایک کال آگئی۔ یہاں بنی گالا کے پاس جنگل سے ایک سربریدہ اور ناقابل شناخت لاش ملی ہے۔ ڈی این اے عبداللہ شاہ کی والدہ سے میچ کرگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔

قتل کی تحقیقات شروع ہوگئیں۔ سی ڈی آر، ایف آئی آر، کال ہسٹری اور دیگر بہت سے اشارے ایک وکیل کی طرف جا رہے تھے۔ افسر نے وکیل کو عبداللہ کے قتل میں نامزد کردیا۔ ابھی تحقیقات جاری تھیں کہ عبداللہ کے والد عامر شاہ پر گستاخی کا پرچہ ہوگیا۔ عامر شاہ نے اگلے دن تھانے میں پہنچ کر بیان دیدیا کہ میں اس وکیل کو بے قصور سمجھتا ہوں۔ بیان ریکارڈ ہوتے ہی عامر شاہ کے سر پر سے گستاخی کی تلوار ہٹ گئی۔ عبداللہ شاہ قتل کیس کی فائل بند ہوگئی۔ عامرشاہ خاموش ہوگیا۔ گھر چھوڑ دیا۔ بچوں کو لیکر کسی نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگیا۔

اسپیشل برانچ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک منظم گروہ موجود ہے جو نوجوانوں کو ٹریپ کرکے گستاخی کے کیسز میں پھنسا رہا ہے۔ اس دھندے میں انکے ساتھ عدلیہ اور ایف آئی اے کے کچھ کردار بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں اس مبینہ گروہ کو بلاسفیمی بزنس گروپ کا نام دیا گیا۔ گروپ کے کرداروں کے نام اسپیشل برانچ نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیے۔ عبداللہ شاہ کے قتل میں نامزد کیے گئے وکیل کو اس مبینہ گروہ کا سرغنہ بتایا گیا۔ نینشل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے 62 صفحے کی رپورٹ میں کہانی مزیدکھول دی۔ رہی سہی کسر صحافی احمد نورانی نے فیکٹ فوکس کی رپورٹوں میں پوری کردی۔

متاثرہ نواجونوں کے اہلخانہ یہ تینوں رپورٹیں لیکر ہائیکورٹ چلے گئے۔ پٹیشن فائل کی اور کمیشن کا مطالبہ کردیا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت شروع کردی۔ مبینہ گروہ نے عدالت کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ کرین پارٹی کے جتھے ساتھ لیکر آئے۔ نعرے لگائے۔ سوشل میڈیا پر جج کے خلاف مہم چلائی۔ رجسٹرار کا گھیراو کیا۔ نینشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کے دفتر میں گھس کر عملے کو ہراساں کیا۔ پٹیشن فائل کرنے والے وکلا کو نوٹسز بھجوائے۔ عدالت نے بالآخر یہ کیس یوٹیوب پر لائیو دکھانے کا آرڈر دیدیا۔

اس ارڈر نے جتھے کے ہاتھ باندھ دیے۔ مگر آئے روز کوئی نیا انکشاف مبینہ گروہ کیلیے نئی مشکل پیدا کرتا رہا۔ اس دن عدالت دھنگ رہ گئی جس دن عبداللہ شاہ قتل کیس کے حوالے سے انسپکٹر منیر کی رپورٹ جج کے سامنے رکھی گئی۔

جج نے اہم سوال اٹھا دیا۔ والد اگر نامزد ملزم کو اپنے طور پر بےقصور کہہ دے تو کیا پولیس قتل کی تحقیقات روک دیگی؟ یہ قانون کی کس کتاب میں لکھا ہے جناب۔

مبینہ گروہ وزارت مذہبی امور کے پاس چلاگیا۔ کہا، 14 مئی اسلاموفوبیا ڈے کےطور پر منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا تھیم "آنلائن بلاسفیمی کی روک تھام" ہونا چاہیے۔ ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے ہائیکورٹ بارز کو پابند کردیں کہ وہ اس دن تقریبات کا اہتمام کریں۔ وزرات مذہبی امور کو گروہ کی واردات کا اندازہ نہیں تھا۔ یہ علم بھی نہیں تھا کہ عدالت میں کیا کچھ پک رہا ہے۔

ساڑھے چار سو نو جوانوں کی طرح مذہبی امور کی وزارت بھی ٹریپ ہوگئی۔

نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ بارنے پٹیشن کی سماعت کرنے والی عدالت پر دباو ڈالنے کے لیے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں ایف آئی اے سائبر کرائم کا ایک خفیہ کردار پہلی بار سامنے آیا۔ نام سرفراز چوہدری تھا اور سائبرکرائم کا ایڈیشنل ڈائریکٹر تھا۔ ڈائریکٹر نے مرکزی پریزنٹیشن دی۔ کہا، میں علامہ خادم حسین رضوی کا مداح ہوں۔ پھر کہا، میں نے ملک بھر سے ساڑھے چار سو لوگ گرفتار کیے ہیں۔ پھر کہا، وکلا ان نوجوانوں کے کیس لڑ کر اپنی دنیا اور آخرت خراب نہ کریں۔

ایک طرف پٹیشن کی سماعت چل رہی تھی دوسری طرف سائبر کرائم سیل کا ایڈیشنل ڈائریکٹر سامنے آگیا۔ تیسری طرف فیصلہ ساز قوتیں اس فیلڈنگ کا صفایا کر رہی تھیں جو جنرل فیض حمید 2017 میں لگا کر گئے تھے۔ صفائی کے دوران ہی اندازہ ہوا کہ نینشنل سائبر کرائم کے کچھ افسران تو دراصل اس فیلڈنگ کا حصہ ہیں جو جنرل فیض حمید نے سیاسی رہنماوں، دانشوروں، اساتذہ اور صحافیوں کا گھیراو کرنے کیلیے لگائی تھی۔

ان فیلڈرز نے جس طرح ہاوسنگ سوسائٹیوں پر قبضہ کیا، ٹی وی چینلز ہتھیائے، اسی طرح ان فیلڈرز نے سافٹ وئیر ہاوسز اور کال سینٹرز سے مہینہ لگوایا ہوا ہے۔ تیسری طرف یہ فیلڈرز کاروباری لوگوں اور بے کس گھرانوں کو لوٹنے کیلیے مذہبی قوانین کا استعمال کر رہے ہیں۔ کرین پارٹی جیسے جتھے ان کے دست و بازو ہیں۔

ابھی سوچا ہی جارہا تھا کہ ان فیلڈرز کا کیا کرنا ہے، ایڈیشنل ڈائریکٹر نے ڈکی بھائی پہ ہاتھ ڈال دیا۔ ڈکی بھائی کے ساتھ انہوں نے وہی سلوک کیا جو مبینہ گروہ کا نشانہ بننے والے ساڑھے چار سو نوجوانوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔

انہوں نے ڈکی بھائی کو نو کروڑ کا ٹیکہ لگایا ہی تھا کہ پہنچنے والے پہنچ گئے۔ جنرل (ر) فیض حمید کی کہانی میں جو کردار ٹاپ سٹی کا بنا، وہی کردار نینشنل سائبر کرائم کے کچھ افسروں کی کہانی میں ڈکی بھائی کا بن گیا۔ سزا ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ملنی تھی انصاف ڈکی بھائی کو مل گیا۔

نینشل سائبر کرائم کے کچھ افسران کے پکڑے جانے پر جو فائدہ ڈکی بھائی کو ملا، وہی فائدہ ایک حد تک بلاسفیمی کے کیسز میں پھنسائے ہوئے نوجوانوں کو بھی ملا۔

فیلڈنگ اکھڑنے سے جتھے دم توڑ گئے۔ ضمانت پر بچے رہا ہونے لگے۔ آج عبداللہ شاہ زندہ ہوتا تو اڈیالہ سے واپس آچکا ہوتا۔ مگر اس کا تو کیس ہی بند ہوچکا ہے۔

عبداللہ شاہ کے سہمے والد کی زبان بھی بند ہوچکی ہے۔ وہ بے بسی سے انصاف کی غیبی اسکیم کی طرف دیکھ رہا ہے۔ سوچ رہا ہے، میرے نصیب میں عدالتی انصاف نہیں تھا، کیا میرے نصیب میں کوئی بگ برادر بھی نہیں ہے؟

جب تک طاقت کا اپنا کوئی کوئی فائدہ نہ ہو، کیا تب تک میرے بچے کوانصاف نہیں ملے گا؟ ڈکی جیسے لوگ اپنا نصیب کہاں سے لکھواکر لاتے ہیں؟

Check Also

Mausam e Sarma Aur Garm Garm Kamre

By Syed Mehdi Bukhari