Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Aurat Par Shak Kyun Kiya Jata Hai?

Aurat Par Shak Kyun Kiya Jata Hai?

عورت پر شک کیوں کیا جاتا ہے؟

عورت پر شک کرنا ہمارے معاشرے کی اُن تلخ روایتوں میں شامل ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔ یہ شک صرف عورت کے کردار تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی نیت، صلاحیت، وفاداری، آزادی، دوستی، ملازمت، تعلیم، لباس، ہنسی، خاموشی اور اس کے خوابوں تک پر کیا جاتا ہے۔ ایک مرد اگر دیر سے گھر آئے تو اسے مصروفیت کہا جاتا ہے لیکن عورت اگر کسی مجبوری سے دیر کر دے تو سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ یہی دوہرا معیار عورت کی زندگی کو ایک ایسی عدالت بنا دیتا ہے جہاں وہ ہر لمحہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے۔

ہمارے سماج میں عورت پر شک کی بنیاد صرف فرد کی سوچ نہیں بلکہ ایک پوری پدرسری ذہنیت ہے۔ بچپن سے لڑکیوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی ہر حرکت خاندان کی عزت سے وابستہ ہے۔ ان کے چلنے، بولنے، پڑھنے، ملنے جلنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے پر نگرانی رکھی جاتی ہے۔ گویا عورت ایک انسان نہیں بلکہ ایک ایسا شیشہ ہے جس پر ذرا سا دھبہ پورے خاندان کی بدنامی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی آزادی کو اکثر بداعتمادی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

شک کی یہ روایت مذہب کی غلط تشریح، سماجی خوف، غیرت کے نام پر قائم سوچ اور مردانہ برتری کے احساس سے مضبوط ہوئی۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو عزت، اعتماد اور حق دیا مگر معاشرے نے ان تعلیمات کو اپنی سہولت کے مطابق بدل لیا۔ عورت سے پاکیزگی کا معیار تو مانگا گیا لیکن مرد کے کردار پر ویسی سختی نہ رکھی گئی۔ یہی عدم توازن معاشرتی ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔

آج کے دور میں عورت گھر سے نکل کر تعلیم، صحافت، طب، تدریس، کاروبار، سیاست اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ افسوس یہ کہ اس کی کامیابی بھی شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی عورت ترقی کرے تو لوگ اس کی محنت کی بجائے اس کے کردار پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک مرد کی کامیابی قابلیت کہلاتی ہے جبکہ عورت کی کامیابی شک، افواہوں یا تعلقات سے اٹیچ کی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف عورت کی تذلیل کرتا ہے بلکہ معاشرے کی فکری پسماندگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

شک کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ رشتوں کا اعتماد ختم کر دیتا ہے۔ جس عورت پر ہر وقت شک کیا جائے وہ ذہنی دباؤ، خوف، بے یقینی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک بیوی اگر ہر لمحہ شوہر کی تفتیش برداشت کرے تو محبت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔ ایک بیٹی اگر ہر وقت والدین کی بداعتمادی محسوس کرے تو اس کے اندر خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے۔ ایک بہن اگر بھائی کے شک کی وجہ سے اپنی پسند، تعلیم یا خواب قربان کرے تو اس کی شخصیت اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتی ہے۔

نفسیات کے ماہرین کے مطابق مستقل شک انسان کو ذہنی بیماریوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ عورت ڈپریشن، اینگزائٹی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتی ہے۔ بعض خواتین تو اتنی خوفزدہ ہو جاتی ہیں کہ اپنی رائے دینا بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ ہر وقت یہ سوچتی رہتی ہیں کہ کہیں ان کے کسی لفظ یا عمل کو غلط نہ سمجھ لیا جائے۔ یوں شک صرف عورت کی آزادی نہیں چھینتا بلکہ اس کی شخصیت، اعتماد اور خوشی بھی نگل جاتا ہے۔

شک کی بنیاد پر ہونے والے ظلم کی بدترین شکل گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل ہے۔ سیکڑوں عورتیں صرف الزام کی بنیاد پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ اکثر اوقات کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا، صرف بدگمانی اور افواہیں ہوتی ہیں۔ قرآن مجید میں واضح حکم موجود ہے کہ گمان سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، مگر ہمارا معاشرہ بدگمانی کو غیرت اور احتیاط کا نام دے دیتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں عورت پر شک کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ کسی تصویر، تبصرے یا آن لائن موجودگی کو بنیاد بنا کر عورت کے کردار پر فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ عورت کی آزادیِ اظہار کو بے راہ روی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جدید دور میں عورت بھی اسی سماج کا حصہ ہے اور اسے بھی اظہار، تعلیم، روزگار اور سماجی تعلقات کا حق حاصل ہے۔ اگر مرد موبائل اور سوشل میڈیا استعمال کرے تو یہ جدیدیت کہلاتی ہے لیکن عورت کرے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں عورت کی سماجی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ عورت اب صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ وہ معاشی طور پر خود مختار ہو رہی ہے، فیصلے کر رہی ہے، خاندان سنبھال رہی ہے اور ملک کی ترقی میں حصہ لے رہی ہے۔ اس کے باوجود اسے مکمل اعتماد نہیں دیا جا رہا۔ یہی تضاد ہمارے معاشرے کا بڑا المیہ ہے کہ ہم عورت سے ذمہ داریاں تو بہت چاہتے ہیں مگر اعتماد دینے میں ہچکچاتے ہیں۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اعتماد ہر رشتے کی بنیاد ہے۔ شک اگر ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو محبت کو زہر بنا دیتا ہے۔ والدین کو اپنی بیٹیوں کی تربیت کے ساتھ ان پر اعتماد بھی کرنا چاہیے۔ شوہر اور بیوی کے تعلق میں نگرانی کی بجائے مکالمہ ہونا چاہیے۔ عورت کو قید کرکے نہیں بلکہ اس کی شخصیت کو سمجھ کر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

تعلیم بھی اس مسئلے کا اہم حل ہے۔ جب معاشرہ عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھنا شروع کرے گا تو شک کی دیواریں کمزور پڑ جائیں گی۔ مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ عورت کے بارے میں متوازن اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ میڈیا عورت کو صرف کردار کے پیمانے پر پیش کرنے کی بجائے اس کی ذہانت، محنت اور انسانیت کو نمایاں کرنا چاہیے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ شک صرف عورت کی توہین نہیں بلکہ انسانیت کی توہین ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت ہر وقت اپنی صفائی دیتی رہے، وہاں سکون، محبت اور اعتماد کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔ عورت بھی احساس، خواب اور عزتِ نفس رکھنے والی ایک مکمل انسان ہے۔ اسے شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور انصاف کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جس معاشرے میں عورت محفوظ اور بااعتماد ہو، وہی معاشرہ حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

Check Also

Kahani Pardesiyon Ki (2)

By Shair Khan