Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye

Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye

عورت کو عزت نہیں حق دیجیئے

عورت کو ہمیشہ عزت کے خوبصورت لفظ میں لپیٹ کر اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ پاکستانی معاشرے میں عورت کو بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ تم ہماری عزت ہو مگر جب جائیداد کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو یہی عزت بوجھ بن جاتی ہے۔ جب تعلیم کی بات ہو تو عزت کے نام پر اس کے خوابوں کو گھر کی چار دیواری میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ جب اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا سوال آئے تو غیرت کے نام پر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عورت صرف عزت نہیں بلکہ حق مانگ رہی ہے کیونکہ عزت اگر حق کے بغیر ہو تو وہ صرف دکھاوے کا پھول ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی۔

عزت اور حق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عزت ایک رویہ ہو سکتی ہے مگر حق ایک قانونی اور انسانی ضرورت ہے۔ عزت دینے والا جب چاہے واپس لے سکتا ہے مگر حق کوئی چھین نہیں سکتا۔ عورت کو اگر صرف عزت دی جائے لیکن تعلیم نہ دی جائے تو وہ محتاج رہتی ہے۔ اگر عزت دی جائے مگر وراثت نہ دی جائے تو وہ معاشی غلام بن جاتی ہے۔ اگر عزت دی جائے مگر فیصلے کا اختیار نہ دیا جائے تو اس کی زندگی پنجرے میں قید پرندے کی طرح ہوتی ہے۔ اس لیے عورت کو عزت سے زیادہ حق کی ضرورت ہے کیونکہ حق انسان کو خود مختار بناتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں عورت کی زندگی تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف ماں کے قدموں تلے جنت کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف بیٹی کو آج بھی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف عورت کو خاندان کی عزت کہا جاتا ہے تو دوسری طرف اسی عورت کو اپنی مرضی سے جینے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ یہ معاشرہ عورت کو دیوی بنا کر اس کے انسانی وجود کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ حالانکہ عورت فرشتہ نہیں انسان ہے اور انسان ہونے کے ناطے اسے برابر کے حقوق چاہییں۔

ہمارے ہاں مذہب کی اصل تعلیمات سے زیادہ مذہب کی اپنی تشریحات نے عورت کو نقصان پہنچایا۔ اسلام نے عورت کو وراثت، تعلیم، نکاح، رائے اور عزت کے حقوق دیے مگر پدرسری سوچ نے ان حقوق کو رسم و رواج کی دھول میں چھپا دیا۔ بعض لوگ مذہب کو عورت پر حکمرانی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ دین نے عورت کو زندہ دفن ہونے سے بچایا تھا مگر آج بھی کئی عورتیں رسموں، روایتوں اور جبر کے نیچے زندہ دفن ہیں۔ اسلام نے عورت کو تجارت کا حق دیا مگر آج بھی بہت سی عورتیں اپنے ہی کمائے ہوئے پیسوں پر اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ مذہب کے نام پر قائم وہ سوچ ہے جو عورت کو کمزور دیکھنا چاہتی ہے۔

سیاست نے بھی عورت کو اکثر نعروں تک محدود رکھا۔ ہر الیکشن میں خواتین کے حقوق کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر اقتدار ملنے کے بعد عورت کے مسائل فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ عورت کو کبھی ووٹ بینک بنایا گیا کبھی ہمدردی کی تصویر۔ دیہات میں آج بھی کئی عورتیں اپنی مرضی سے ووٹ نہیں ڈال سکتیں۔ کئی سیاسی جرگے عورتوں کو بدلے میں دینے جیسے ظالمانہ فیصلے کرتے ہیں۔ عورت کی حفاظت کے قوانین تو بنائے جاتے ہیں مگر انصاف کی راہیں اب بھی کانٹوں سے بھری ہیں۔ عدالتوں میں خوار ہوتی عورت کی زندگی اکثر ریت کی دیوار کی طرح بکھر جاتی ہے۔

معاشرتی سطح پر عورت کو سب سے زیادہ کردار کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ مرد کی غلطی کو شرارت کہا جاتا ہے جبکہ عورت کی سانس بھی شک کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔ عورت اگر خاموش رہے تو اچھی سمجھی جاتی ہے اور اگر اپنے حق کی بات کرے تو بدتمیز یا باغی کہلاتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے عورت کے اعتماد کو کمزور کیا۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو قربانی کی مورتی بنا دیا گیا ہے۔ وہ بچپن میں باپ کی مرضی نوجوانی میں شوہر کی مرضی اور بڑھاپے میں بیٹوں کی مرضی کے مطابق جیتی ہے۔ اس کی اپنی خواہشیں اکثر چولہے کی آگ میں جل جاتی ہیں۔

صرف عزت عورت کو تحفظ کا جھوٹا احساس دیتی ہے جبکہ حق اسے مضبوط بناتا ہے۔ جس عورت کے پاس تعلیم ہو وہ اپنی سوچ کا دفاع کر سکتی ہے۔ جس عورت کے پاس معاشی اختیار ہو وہ ظلم برداشت کرنے پر مجبور نہیں رہتی۔ جس عورت کو قانون کا تحفظ حاصل ہو وہ خوف کے اندھیروں سے نکل سکتی ہے۔ اسی لیے حق لینا ضروری ہے کیونکہ حق انسان کی پہچان اور آزادی کا ستون ہوتا ہے۔

آج بھی پاکستان میں بے شمار عورتیں گھریلو تشدد برداشت کرتی ہیں صرف اس لیے کہ ان کے پاس معاشی سہارا نہیں۔ کئی عورتیں وراثت سے محروم رہتی ہیں کیونکہ بھائی ناراض ہو جائیں گے۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کہ خاندان کی عزت خراب نہ ہو۔ یہ عزت دراصل وہ زنجیر بن جاتی ہے جو عورت کے قدم باندھ دیتی ہے۔ حالانکہ حقیقی عزت وہ ہے جہاں عورت کو جینے، سیکھنے، بولنے اور فیصلے کرنے کا حق ملے۔

وقت آ گیا ہے کہ عورت کو کمزور مخلوق سمجھنے کی بجائے انسان سمجھا جائے۔ اسے ہمدردی نہیں برابری چاہیے۔ اسے خاموشی نہیں آواز چاہیے۔ اسے سجاوٹ نہیں شناخت چاہیے۔ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک عورت کو اس کا جائز مقام نہ دیا جائے۔ ایک پرندہ ایک پر سے نہیں اڑ سکتا۔ اسی طرح کوئی قوم عورت کو پیچھے رکھ کر آگے نہیں بڑھ سکتی۔

عورت کو عزت ضرور دیجیے مگر اس سے پہلے اسے اس کا حق دیجیے۔ کیونکہ حق کے بغیر عزت صرف لفظوں کا فریب بن جاتی ہے۔ جب عورت کو انصاف، تعلیم، آزادی اور اختیار ملے گا تبھی معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب کہلائے گا۔

Check Also

Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye

By Dr. Uzma Noreen