Safety Engineering
سیفٹی انجینئرنگ

ہمارے ملک میں ایک اور دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ ایک ماں اور اس کی بیٹی گٹر کے مین ہول میں جاں بحق ہوگئیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی بدقسمتی سے آخری ہوگا۔ ایسے حادثات آئے دن ہماری خبروں کا حصہ بنتے ہیں، چند دن شور مچتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حادثہ کیوں ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ اسے روکا کیوں نہیں گیا؟
دنیا بھر میں ایسے حادثات کو حادثہ نہیں بلکہ ناکام حفاظتی اقدام کہا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سیفٹی انجینئر ایک باقاعدہ، مستند اور بااختیار پیشہ ہے۔ چاہے فیکٹری ہو، کنسٹرکشن سائٹ ہو، مین ہول ہو، سیوریج سسٹم ہو یا پبلک اسپیس، ہر جگہ سیفٹی انجینئر کی موجودگی لازم ہوتی ہے۔
سیفٹی انجینئر وہ ماہر ہوتا ہے جو کسی بھی جگہ پر ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، ان کے اثرات کا تجزیہ کرتا ہےاور حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات تجویز اور نافذ کرواتا ہے۔ مین ہول جیسے واقعات میں:
گیس ڈیٹیکشن، وینٹیلیشن، حفاظتی رکاوٹیں، وارننگ سائن بورڈز، تربیت یافتہ عملہ یہ سب سیفٹی انجینئر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں سیفٹی انجینئرنگ کو آج بھی اضافی خرچ سمجھا جاتا ہے، جب کہ حقیقت میں بہت ہی اہم اور ذمہ داری کاحامل یہ شعبہ ہے۔
ہمارے ہاں: ٹھیکیدار سستا کام چاہتا ہے، ادارے کاغذی کارروائی پوری کرنا چاہتے ہیں، مزدور بغیر تربیت کے خطرناک کام کرتا ہے، عوام لاعلمی کا شکار ہےاور نتیجہ؟
کبھی کوئی مزدور زہریلی گیس سے مر جاتا ہے۔ کبھی کوئی بچہ کھلے مین ہول میں گر جاتا ہے اور کبھی ایک ماں اپنی بیٹی سمیت موت کی نذر ہو جاتی ہے۔
یورپ، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش جیسے ممالک میں: سیفٹی آفیسر کا تقرر لازمی ہے، حادثے پر بھاری جرمانے ہوتے ہیں، ذمہ داروں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے، سیفٹی ٹریننگ کو قانون کا حصہ بنایا گیا ہےاسی لیے وہاں سیفٹی انجینئر کی مانگ روز بروز بڑھ رہی ہےجبکہ پاکستان میں یہ شعبہ ابھی تک غیر سنجیدگی کا شکار ہے
اب وقت آ گیا ہے کہ:
1۔ سیفٹی انجنئیرنگ کی اہمیت کو سمجھا جائے۔
2۔ ہر میونسپل، کنسٹرکشن اور انڈسٹریل منصوبے میں سیفٹی آفیسر لازم ہو۔
3۔ مین ہول اور سیوریج جیسے کاموں کے لیے SOPs پر سختی سے عمل ہو۔
4۔ عوام میں سیفٹی آگاہی مہم چلائی جائے۔
5۔ حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے اقدامات لیے جائیں۔
بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ موت برحق ہے۔ اس کے لئے جگہ اور وقت معین ہے۔ لیکن اسلام ہمیں یہ بھی درس دیتا ہے کہ پہلے اونٹ کی ٹانگ باندھیں پھر توکل کریں۔

