Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Ijaz Ahmad
  4. Riyasat Aur Soteli Maa

Riyasat Aur Soteli Maa

ریاست اور سوتیلی ماں

ہمارا ملک شاید اقوام عالم میں واحد ملک ہوگا۔ جہاں پر قوانین کی بھر مار ہے اور نئے قوانین بغیر سوچ بچار کے عجلت میں پاس کر لئے جاتے ہیں۔ جس کے مضمرات مستقبل میں کوئی اچھی چھاپ نہیں چھوڑتے ہیں۔ نئے قوانین بنانا حکومت وقت کے دائرے کار میں آتا ہے۔ لیکن خدارا ان قوانین کی آڑ میں شریف شہریوں کی پگڑی نہ اچھالی جا سکے اس پر بھی کوئی میکا نزم ساتھ بنانا چاہئے۔

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جونہی کوئی نیا قانون لاگو ہوتا ہے۔ جس کو یہ پاور دی جاتی ہے اس کا رویہ فرعونی ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کے اندر بغاوت یا انتقام لینے کی خواہش مچلنے لگتی ہے۔ جو کہ کسی بھی معاشرے کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ اس کی حالیہ ایک مثال گوجرانوالہ میں پیرا فورس کے جوان کی موت ہے۔ ہمیں اس کیس کو سٹڈی کے طور پر لینا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ ایسی نوبت کیوں آئی ہے۔ میرے خیال میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو اگر اپنی داد رسی کا مناسب پلیٹ فارم دیا ہوتا تو شاید وہ اس حد تک نہ جاتا۔

ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ ایک جج صاحب کی ذاتی رائے تھی کہ وہ قتل کے مقدمے میں مقتول کی بجائے قاتل پر نرم رویہ رکھتے تھے۔ ان سے جب اس حیران کن رویہ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ میں نے جتنے بھی قتل کے مقدمات کی فائلیں دیکھی ہیں مقتول کا رویہ اس حد تک ظالمانہ ہوتا تھا کہ قتل کرنے والے کے پاس اس آخری آپشن استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔

موجودہ حکومت نے جتنے بھی قوانین یا نئے ادارے بنائے ہیں ان کو بہت زیادہ با اختیار بنا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے لامحالہ عوام اور ان اداروں کے نمائندوں کے درمیان ایک عدم تحفظ کا احساس دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ابھی پچھلی رات کا واقعہ ہے میرے ایک عزیز موٹروے سے سفر کرکے رات تقریباََ دس گیارہ کے درمیان اندرون شہر بند روڈ کے ٹال پلازہ کراس کرکے جو نیو رنگ روڈ پل بنا ہے۔ اس کے شروع میں رنگ روڈ پولیس کا ناکہ لگا تھا۔ روکا گیا شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا گیا۔ ڈرائیونگ لائسینس کی عدم موجودگی پر اس اہلکار کا رویہ انتہائی درشت تضحیک آمیز اور غنڈہ گردی جیسا تھا۔ ایف آئی آر کی دھمکی سب سے پہلے جیل میں بند ایف آئی آر ہوگئی تو جاب نہیں ملے گی یہ سب کچھ ایک ہی سانس میں فیصلہ سنا دیا گیا۔ پچھلی سیٹ پر فی میل فیملی کا بولا گیا آپ کا اس سے ریلشن کیا ہے۔ آپ کہاں کے رہنے والے ہو؟ آپ کے ساتھ فیملی ہے اس لئے صرف پانچ ہزار کا چالان کر رہا ہوں۔

جہاں پر چالان یا نئے قوانین کے اطلاق کی بات پرسر خم تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ پوچھنا کہ یہ ساتھ کون ہے۔ شناختی کارڈ دیکھانے پر پوچھنا آپ کہاں کے رہنے والے ہو یہ تفتیش کیا ان کے دائرہ کار میں آتی ہے؟ خاص کر پچھلی سیٹ کے مسافر کے بارے میں پوچھنا کیا رنگ روڈ کے پولیس کا استحقاق ہے؟ مزید براں چالان ادا کرنے کے لئے آپشن پوچھا گیا بتایا گیا کہ ہم نقد پانچ ہزار آپ کو دے سکتے ہیں۔ موصوف نے پانچ ہزار پکڑے فون نمبر پوچھا گاڑی کا نمبر سامنے سے ڈیوائس میں ڈالا اور جانے کی اجازت دے دی گئی۔ میں نے جب اپنے عزیز سے محکمے کی طرف سے کوئی آن لائن پیغام چالان کی ادائیگی کی رسید ملنے کے تصدیق چاہی تو جواب نفی میں تھا۔ اب خدا جانے وہ پانچ ہزار حکومت کے خزانے میں گئے یا اس رنگ روڈ پولیس کے اہلکار کی جیب میں گئے۔

دکھ چالان یا پانچ ہزار کا نہیں قانون شکنی پر سزا بنتی ہے۔ لیکن جس طرح کا فرعونی رویہ روا رکھا گیا اور جس طرح کا شرم ناک شکی سوال فیملی کے ممبر کے بارے میں کیا گیا۔ اس نے دکھی کیا کہ ہم نے نئے قوانین تو بنا دئیے ہیں پر ان فرعونون کے فرعونیت سے بچانے کے لئے کوئی شنوائی کے لیے پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ریاست تو عوام کے لئے ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ پر آج کل جو ان قوانین کی آڑ میں ریاست ماں کا رول تو ادا کر رہی ہے پر وہ سوتیلی ماں جیسا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم دشمن ملک کے شہری ہے۔ غلطی سے اس ملک میں آگئے ہیں۔

پتہ نہیں روز ان ناکوں پر کتنے لوگوں کی عزت نفس مجروع ہوتی ہوگی اور کتنی رقم روز اسی طرح ہراسمنٹ کرکے حکومتی خزانے میں جانے کی بجائے رنگ روڈ کے ملازمین کی جیبوں میں جاتی ہوگی۔

لازم ہے کہ متعلقہ اتھارٹی اسلام آباد موٹروے سے اندرون شہر کچہری روڈ پر رنگ روڈ پر رات کے ناکے پر خفیہ انکوائری کرے اور متعلقہ ملازم کو قرار واقعی سزا دی جائے اگر وہ خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ یہ واقعہ 24 مارچ کی رات وقت تقریباََ 10:30کا ہے۔

Check Also

Aik Thappar Aur Kai Sawal

By Tahira Fatima