Shaitan Qaid Mehangai Azad
شیطان قید مہنگائی آزاد

قوموں کی تقدیریں ان کے اعمال سے جڑی ہوتی ہیں جن کا دارو مدار ان کی سوچ، حکمت عملی اور معاملات پر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں برکتوں کا مہینہ رمضان جیسے ہی آتا ہے مہنگائی بھی زورآور ہو کر عوام پر ایک عذاب بن کر آن پڑتی ہے۔ اگر شکوہ کریں تو ہر کوئی کہے گا کہ پیچھے سے ہی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب پیچھے والا کون ہے اس کا کسی کو بھی علم نہیں۔
ایک دم اچانک ناں تو ہماری درآمدات پر کوئی اضافی ٹیکس لگ جاتا ہے، ناں ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور ناں ہی اندرون ملک کوئی ٹرانسپورٹ، گوداموں کے کرائے یا دوسرے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ کتنی ہی شرمناک فلاسفی ہے جیسے ہی رمضاں ختم ہوتا ہے وہ پیچھے والا بھی غائب ہو جاتا ہے۔ گویا یوں سمجھیں کہ شیطان نے اس مہنگائی کو جکڑا ہوا تھا اور جیسے ہی وہ قید ہوا تو مہنگائی بے قابو ہوگئی یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ شیطان اور مسلمان کا لفظی اور عملی مفہوم ادل بدل گئے ہیں۔ شیطان خود تو قید ہو جاتا ہے مگر اس کی شاگرد فعال ہوجاتے ہیں۔
ہمارے ہاں زیادہ تر مہنگائی معاشی عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ہماری معاشرتی برائیوں کی ہی ایک قسم ہے جسے شعور لعنت سمجھتا ہے اور جاہل نعمت سمجھ کر اس سے مستفید ہونے لگتے ہیں۔
چائینہ میں چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا جب زخیرہ اندوزی کے سبب چینی کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تو ان کے قائد نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے چینی کو نہ کھانے کی قسم کھائی جس پر قوم نے بھی چینی کو کھانا چھوڑ دیا۔ تو وہی چینی ایک فضول سی چیز بن کر رہ گئی جس سے ذخیرہ اندوزوں کو ایسا سبق ملا کہ پھر کسی نے مصنوعی مہنگائی کی جرات نہیں کی۔
ہمارے ہاں بھی کبھی کبھار کسی خاص پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرکے وقتی فائدہ اٹھانے کی مثالیں تو موجود ہیں مگر ہمیں اس برائی سے مکمل نجات اس لئے حاصل نہیں ہو رہی کہ ہم اس اصول کو اپنی سوچ و عمل پر پوری طرح سے رائج نہیں کر پا رہے۔
چاہیے تو یہ کہ جیسے ہی کسی شے کی قیمت بڑھنا شروع ہو اس کی خریداری کو کم کر دیا جائے چہ جائے کہ اس کی کمی کے خوف سے ضرورت سے بھی زیادہ خریدنی شروع کر دی جائے۔ ایسی معاشرتی برائیاں در اصل ہماری اجتماعی زندگی کی عکاس ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہم خود ہی زخیرہ اندوز، نا جائز منافع خور اور اس برائی کے موجد ہیں۔
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں
جب تک ہم ان معاشرتی برائیوں سے عشق کے پیچ لڑاتے رہیں گے یا انہیں کاروبار کے کامیاب ماڈلز سمجھتے رہیں گے اس وقت تک مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
رمضان کا مہینہ تو در اصل تربیت کا مہینہ ہے جس میں بھوک پیاس والوں کی تکلیف کا احساس جاگتا ہے اور اگر ہم سحری اور افطاری پر عام مہینوں کے معمول سے بھی زیادہ کھانا شروع کر دیں گے تو پھر روضے کی اصل روح اور مقصد ہماری سوچوں کو بدلنے میں کیسے فائدہ دے سکتے ہیں؟
احساس جاگنے کی نشانی تو یہ ہے کہ دن پھر کی بھوک کے بعد ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی غرض سے جن کے پاس یہ نہیں ان کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر پہنچائیں۔ خاص کر ان تک جو اپنی تنگ دستی کو خود داری اور سفید پوشی کے پیچھے چھپائے ہوئے ہیں۔ تاجروں کی سوچ تو یہ ہونی چاہیے کہ سارا مہینہ کمائی کریں لیکن رمضان کے دوران اللہ کی رضا کے لئے منافع لینا چھوڑ دیں۔
انتظامی امور کی حد تک قیمتوں اور کوالٹی کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس پر عملدرآمد کروانے میں ساتھ دینا عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی طور پر اس مکروہ دھندے کی حوصلہ شکنی کریں۔ جس کے لئے سب سے پہلے تو خود فضول خرچی کو بند کریں، ناجائز منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اگر کوئی حکومت کے متعین کردہ نرخوں سے زیادہ وصول کر رہا ہے تو اس کی متعلقہ محکمے کو شکائت لگائی جائے تاکہ وہ اس پر بر وقت کاروائی کر سکیں۔
صدقہ خیرات کو راشن کی بجائے نقدی کی صورت دیا جائے تاکہ وہ اس کا صَرف اپنی ضروریات کے مطابق کر سکیں۔ ہمارے ہاں جو راشن کے زریعے سے مدد کا رواج شروع ہوگیا ہے اس سے نہ صرف دکھلاوا آتا ہے بلکہ اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
نقدی کی صورت اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے انہیں اپنی ترجیحات میں آزادی ملے گی اور دوسرا مہنگائی کی بنیاد ڈیمانڈ کا بڑھنا بھی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر اور دکاندار نرخوں کو بڑھا دیتے ہیں اور جب خریداری کم ہوگی تو وہ خود بخود ہی نرخ کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے خاص کر سبزیوں، فروٹ اور ایسے اشیاء جن کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ان کی قیمتوں میں تو فی الفور کمی واقعہ ہو جاتی ہے جو کئی تجربات سے ماضی میں ثابت بھی ہو چکا ہے۔
اسی طرح دعوتیں بھی فضول رسموں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ مساجد اور بازاروں میں افطاریوں سے فضول خرچی اور دکھلاوے کے ساتھ ساتھ عبادات، اعمال اور اسلامی اقدار بھی متاثر ہوتی ہیں۔ صحیح حقدار کو خود جا کر دیں تاکہ اس کی عزت نفس بھی متاثر نہ ہو چہ جائے کہ اسے دعوتوں کی صورت رسم و رواج کی نظر کرکے صاحب استطاعت لوگوں کی خوشں ودیوں پر جھونک دیا جائے۔ جس سے دکھلاوا اور فضول خرچیوں کا خاتمہ اور پیشہ ور مانگنے والوں کا راستہ بند ہو جائے گا۔
ایک اندازے کے مطابق ان دعوتوں میں 40 فیصد کھانا ضائع ہو جاتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر 870 کلو گرام بنتا ہے اور سالانہ 4 ارب ڈالر کے خوراک کے ضیاع میں 9 فیصد رمضان میں ہماری بے احتیاطیوں کا بھی حصہ ہے جس سے خوراک کے زخیرے کے علاوہ ملکی زرمبادلہ پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں جو قومی دولت کا ضیاع ہے اس پر بھی شادیوں کی طرز پر زیادہ ڈشز کی پابندی لگائی جانی چاہیے۔
اسلام میں خرچنے کی جو ترغیب دی گئی ہے اس کا مطلب قطعاً بھی مقصد فضول خرچی، دکھلاوا، خوراک کا ضیاع اور دولت کو حریص لوگوں کے حوالے کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد اللہ کے دئے ہوئے رزق سے ضرورت مندوں، بھوکوں اور محتاجوں کا حق ادا کرنا ہے اور حق کی ادائیگی کوئی احسان نہیں ہوتا کہ تصویریں بنوائی جائیں۔ اس کے اندر بلا تفریق مذہب ہر ضرورت مند انسان کا حق ہے۔ سب سے زیادہ حق رشتہ داروں اور ہمسائیوں کا ہے جن کی آپ نقدی کے زریعے کسی ایسے انداز سے مدد کریں کہ ان کو محسوس بھی نہ ہو۔
یہ مہینہ نہ صرف بھوکا رہ کر بھوک کے احساس کو اجاگر کرنے کا ہے بلکہ اس کے اندر طبی لحاظ سے بھی بہت سارے فوائد چھپے ہوئے ہیں جن کو ہم کھانے کے اوقات میں زیادہ کھا کر ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ بھوکے رہنے سے انسانی جسم کے اندر بہت سارے ایسے طبی عوامل شروع ہوتے ہیں جو ہمارے جسم سے فالتو اور نقصان دہ مرکبات کو ختم اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہوتے ہیں۔
یہ جو وزن کے کم ہونے اور وقتی طور پر کمزوری کے احساس سے پریشانی لاحق ہونے لگتی ہے خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت میں بھوکے رہنے سے جو کمزوری محسوس ہوتی ہے یہ آٹو فیگی کے عمل کے شروع ہونے کی نشانی ہے جس سے مدافعتی نظام کے مضبوط ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے جو جسمانی نظام کی بہتری کا موجب بن کر سالوں تک بہتر صحت کی ضمانت بنتا ہے۔

