Khush Kar Ditta e Dhol Sipahiya
خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، وہ اللہ کے فضل اور مسلسل مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ تاہم اس کا ایک نمایاں اور یادگار پہلو وہ حالیہ صورتحال بھی ہے جس میں مئی کے مہینے میں ہندوستان کو دیے گئے مؤثر جواب نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی گفتگو میں اس واقعے کا ذکر نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اس کے اثرات ہندوستان کی سفارتی پوزیشن پر بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے بیانات اور طرزِ عمل میں جھلکتی بد تہذیبی سے ایک قسم کی بے چینی اور اضطراب جھلکتا ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ حالات ان کی توقعات کے برعکس رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تنازع میں طاقت کا استعمال آخری راستہ ہوتا ہے، مگر بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں جہاں مؤثر جواب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی افواج نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ہے، جس نے نہ صرف ملکی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت تاثر قائم کیا۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو جارحیت کے بجائے تحفظ اور استحکام سے پیوستہ رکھا ہے۔ اس کے برعکس، خطے میں کشیدگی کے کئی عوامل ایسے رہے ہیں جنہوں نے حالات کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا، جن میں خاص طور پر کشمیر کا مسئلہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید برآں، ماضی میں بھی پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور پراکسی جنگ سے متعلق خدشات عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جاتے رہے، مگر انہیں خاطر خواہ توجہ نہ مل سکی۔ حالیہ حالات نے ان خدشات کو کسی حد تک واضح کر دیا ہے اور عالمی سطح پر اس پر بحث بھی شروع ہوئی ہے۔
اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ خطے میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال کے بعد فریقین دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور امن پر مبنی پالیسی اس بات کی متقاضی ہے کہ تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
آخر میں، اپنی افواج کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
"خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا"

