Aalmi Tanaza Mein Pakistan: Aman Ke Liye Aik Muasar Awaz
عالمی تنازع میں پاکستان: امن کے لیے ایک مؤثر آواز

عالمی سفارتکاری میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو نہ صرف امن کے داعی ہیں بلکہ عملی طور پر تنازعات کے حل میں کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ چاہے خطے کو درپیش چیلنجز ہوں یا عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، پاکستان کی شمولیت کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سفارتی سرگرمیوں سے لے کر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات تک، پاکستان نے ایک واضح اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر Donald Trump نے پاکستانی وزیراعظم Shehbaz Sharif کے پیغام کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر شیئر کیا، جو پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کی رضامندی سے ایک جامع تصفیے کے لیے مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس عمل کو نہ صرف ذمہ داری بلکہ اعزاز سمجھتا ہے اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے عوام اور حکومت کے کردار کو سراہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارتی سطح پر مسلسل روابط اور اعلیٰ قیادت کے درمیان پیغامات کے تبادلے سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان ابتدا ہی سے کشیدگی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے۔
اگرچہ امریکہ اور ایران کی جانب سے مختلف شرائط سامنے آئی ہیں، تاہم ان پر اتفاقِ رائے ابھی باقی ہے۔ اس کے باوجود مذاکرات کی بات چیت خود اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں فریق طاقت کے بجائے سفارتی حل کی اہمیت کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور یہی پاکستان کا مؤقف بھی رہا ہے۔
پاکستان کی اس حوالے سے اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔ مزید برآں، مشرق وسطیٰ کے کئی اسلامی ممالک پاکستان کو ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور دیگر خلیجی ممالک، جیسے قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات، کے ساتھ قریبی روابط، پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ طویل ہوتی اس کشیدگی نے عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی فراہمی اور تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے دنیا بھر میں بے چینی کو جنم دیا ہے اور طاقت کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔
ایران کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی مزاحمتی حکمت عملی نے بھی اس تنازع کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مختلف نقصانات کے باوجود ایران کی داخلی مضبوطی اور مزاحمت کی صلاحیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تنازع طویل ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ عالمی نظام برداشت نہیں کر سکتا۔
ان تمام عوامل کے پیش نظر یہ امید کی جا رہی ہے کہ جاری سفارتی کوششیں بالآخر بامقصد مذاکرات کی شکل اختیار کریں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ مشرق وسطیٰ میں دیرینہ تنازعات کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

