Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Aalmi Nizam Ki Jang

Aalmi Nizam Ki Jang

عالمی نظام کی جنگ

کیا آج کی دنیا واقعی انصاف کے اصولوں پر چل رہی ہے، یا یہ محض طاقتور ریاستوں کے مفادات کا ایک منظم کھیل بن چکی ہے؟ یہ سوال محض ایک فکری بحث نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کی سب سے بڑی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

موجودہ دور میں جنگیں اب سرحدوں یا نظریات تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ دراصل عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) کی تشکیلِ نو کی جنگیں بن چکی ہیں۔ بظاہر انہیں ثقافتی یا نظریاتی تصادم کا رنگ دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ معاشی مفادات اور طاقت کے حصول کی کشمکش ہے، جہاں اصول محض ایک جواز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

اگر ہم حالیہ عالمی تنازعات پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ روس اور یوکرین کا تنازع ہو، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ہو یا دیگر علاقائی بحران، ہر جگہ طاقت، معیشت اور اسٹریٹیجک مفادات بنیادی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق اور انصاف کا بیانیہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ریاستی خودمختاری، انسانی وقار اور اخلاقی اقدار اپنی عملی حیثیت کھو چکی ہیں۔ عالمی ادارے، جو کبھی انصاف اور توازن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، اب اکثر محض بیانات تک محدود نظر آتے ہیں، جس سے ان کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

طاقت کا معیار بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ آج فیصلہ کن حیثیت اسی کے پاس ہے جو عسکری برتری یا مضبوط معیشت رکھتا ہو۔ تاہم ایک اور عنصر، جذبۂ مزاحمت، بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جو بعض اوقات بڑی طاقتوں کے منصوبوں کو چیلنج کر دیتا ہے۔ اسی لیے امن بھی اب ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک توازن کا نتیجہ بن چکا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب بھی طاقت نے انصاف اور توازن کو نظر انداز کیا، اس کا انجام زوال کی صورت میں نکلا۔ کوئی بھی نظام، چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر وہ توازن سے محروم ہو تو دیرپا نہیں رہ سکتا۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کشمکش کو بعض اوقات مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ مذاہب اپنی اصل میں انسانیت، انصاف اور مساوات کا درس دیتے ہیں، مگر جب انہیں مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو وہ اپنی اصل روح سے ہٹ جاتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف حقیقت مسخ ہوتی ہے بلکہ تنازعات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت اور اخلاقیات کے درمیان توازن ممکن ہے؟

اس کا جواب سادہ نہیں، مگر واضح ہے: توازن صرف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت کو کسی مؤثر نظام کے ذریعے محدود کیا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت خود سے اصولوں کی پابند نہیں بنتی بلکہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اجتماعی دباؤ، بڑھتی ہوئی لاگت اور متبادل قوتوں کے ابھرنے کے ذریعے۔

ریاستیں اس وقت حرکت میں آتی ہیں جب "مجبوری" اور "موقع" ایک ساتھ پیدا ہوں۔ جب خاموش رہنا خود نقصان دہ ہو جائے، تو غیر جانبداری بھی برقرار نہیں رہتی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عالمی نظام میں تبدیلی جنم لیتی ہے۔

تاہم تبدیلی ہمیشہ بحران کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایک مضبوط نظریاتی سمت، اگر اسے عملی اقدامات، مؤثر سفارتکاری اور ادارہ جاتی بنیادوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے، تو وہ بھی عالمی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس تناظر میں ابھرتی ہوئی ریاستوں، بالخصوص پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک اہم موقع موجود ہے کہ وہ محض فریق بننے کے بجائے ایک "bridge builder" کا کردار ادا کریں، جہاں وہ مکالمے، توازن اور تعاون کو فروغ دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ طاقت خود کوئی مستقل شے نہیں بلکہ انسانی سوچ کی پیداوار ہے۔ جو قومیں اپنی سوچ کو ایک واضح مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتی ہیں، وہ نہ صرف طاقت حاصل کرتی ہیں بلکہ اس کی سمت بھی متعین کرتی ہیں۔ تاہم یہ سمت اسی وقت مثبت ہو سکتی ہے جب اسے انصاف، توازن اور جوابدہی کے اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے۔

آخرکار، اصل مسئلہ طاقت کا وجود نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔ اگر طاقت کو انسانیت کی اجتماعی فلاح کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے تو ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف مضبوط ہو بلکہ منصفانہ بھی ہو۔ لیکن اگر مفادات ہی اصولوں کی جگہ لیتے رہے، تو دنیا ایک ایسے دائرے میں پھنسی رہے گی جہاں ہر طاقت خود کو حق سمجھتی رہے گی اور انصاف محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔

Check Also

Pakistan Zindabad

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi