Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dawood Ur Rahman
  4. Shukr e Nemat, Aik Azeem Ibadat

Shukr e Nemat, Aik Azeem Ibadat

شکرِ نعمت، ایک عظیم عبادت

اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں۔ اس نے ہمیں ایسی لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار انسانی بساط سے باہر ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ، ہر سانس، ہر آسائش اور ہر سہولت درحقیقت اسی ربِ کریم کی عطا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ سراپا نعمت میں ڈوبا ہوا ہے، مگر اس کے باوجود اکثر اوقات وہ ان نعمتوں کی قدر سے غافل رہتا ہے۔

ان بے پایاں نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کا ہر آن شکر گزار رہے اور شکر کو اپنی زندگی کا مستقل شعار بنا لے۔ شکر محض زبان سے چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت عبادت ہے جو دل، زبان اور عمل، تینوں کو محیط ہے۔

شکر کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے، دل سے اس کی قدر کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عملی طور پر ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں استعمال کرے۔ اس کے برعکس ناشکری یہ ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں صرف کرے، جو کہ نہایت سنگین محرومی اور زوال کا پیش خیمہ ہے۔

چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "فَاذُكُرُونِي أَذُكُرُكُمُ وَاشُكُرُوا لِي وَلَا تَكُفُرُونِ"

ترجمہ: "تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو"۔ (البقرۃ: 152)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "مَا يَفُعَلُ اللہُ بِعَذَابِكُمُ إِنُ شَكَرُتُمُ وَآمَنُتُمُ"

ترجمہ: "اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟" (النساء: 147)

مزید فرمایا: "وَإِنُ تَشُكُرُوا يَرُضَهُ لَكُمُ"

ترجمہ: "اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے"۔ (الزمر: 7)

ایک اور نہایت بلیغ مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَقَلِيلٌ مِّنُ عِبَادِيَ الشَّكُورُ"

ترجمہ: "اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں"۔ (سبأ: 13)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ شکر گزاری ایک عظیم صفت ہے، مگر اسے اپنانے والے کم ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا نہ صرف اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے بلکہ نعمتوں میں اضافے کا سبب بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح اعلان ہے: "لَئِنُ شَكَرُتُمُ لَأَزِيدَنَّكُمُ"

ترجمہ: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا"۔ (ابراہیم: 7)

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ناشکری نعمتوں کے زوال کا باعث بنتی ہے، جبکہ شکر گزاری نعمتوں میں برکت اور اضافہ پیدا کرتی ہے۔ بسا اوقات انسان معمولی سی نعمت کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، حالانکہ وہی نعمت اس کی زندگی کے سکون کا ذریعہ ہوتی ہے۔ صحت، امن، وقت، ایمان اور اہل و عیال، یہ سب ایسی عظیم نعمتیں ہیں جن کا حقیقی احساس اکثر ان کے چھن جانے کے بعد ہوتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی شکر کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ راتوں کو اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں، پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: "أفلا أكون عبدًا شكورًا"

ترجمہ: "کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟" (صحیح البخاری)

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کھانا کھا کر یا پانی پی کر اس کا شکر ادا کرتا ہے"۔ (صحیح مسلم)

حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اس کے ہر حال میں خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے"۔ (صحیح مسلم)

اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کھانے پر شکر کرنے والا اس صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے جسے اجر دیا جاتا ہے"۔ (سنن الترمذی)

مزید برآں، ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا"۔ (سنن ابوداؤد)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر گزاری کا دائرہ صرف اللہ تعالیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے بندوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے زندگی کے ہر موقع کے لیے دعائیں سکھائیں، کھانے، پینے، سونے، جاگنے، لباس پہننے، گھر سے نکلنے اور مسجد میں داخل ہونے تک اور ان تمام دعاؤں کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور شکر گزاری ہے۔ گویا ایک مومن کی پوری زندگی "الحمد للہ" کی عملی تفسیر بن جانی چاہیے۔

شکرکے عملی تقاضے بھی ہیں:

نعمت کو پہچاننا اور اسے اللہ کی طرف منسوب کرنا
اس نعمت کو جائز اور نیک کاموں میں استعمال کرنا

دوسروں کے ساتھ نعمتوں کو بانٹنا اور محتاجوں کی مدد کرنا
تکبر اور غرور سے بچنا، کیونکہ یہ ناشکری کی شکلیں ہیں

خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی زندگی شکر سے مزین ہونی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں، ہمیشہ اس کے شکر گزار رہیں اور اپنی سوچ کو اس طرح ترتیب دیں کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں تاکہ شکر کا جذبہ پیدا ہو اور دینی معاملات میں اپنے سے بہتر لوگوں کو دیکھیں تاکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے کا شوق پیدا ہو۔

آخر میں دعا ہے: اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی صحیح پہچان عطا فرمائے، ہمیں حقیقی شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے اور ہماری زندگیوں کو اپنی رضا کے مطابق ڈھال دے۔

Check Also

Ceasefire Kab Hoga?

By Noorul Ain Muhammad