Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Bhatti
  4. Mujra Aik Latt, Mujra Aik Lazzat

Mujra Aik Latt, Mujra Aik Lazzat

مجرا ایک لت، مجرا ایک لذت

ہمارے معاشرے میں کچھ رسمیں وقت کے ساتھ اس قدر معمول بن جاتی ہیں کہ ان پر سوال اٹھانا معیوب سمجھا جانے لگتا ہے۔ مجرا بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ تفریح، روایت یا وقتی دل لگی کے نام پر قبول کیا جاتا ہے، مگر اس کے پسِ پردہ ایک ایسی لت اور ایسی لذت کارفرما ہے جو فرد کے شعور، معیشت اور اخلاقی توازن، تینوں کو خاموشی سے متاثر کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ مجرا کیوں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کے عادی کیوں ہو گئے ہیں؟

مجرا اپنی ساخت میں صرف رقص نہیں، بلکہ طاقت، دولت اور توجہ کی نمائش ہے۔ جہاں ایک طرف سُر اور ساز کی آڑ میں جسمانی حرکات کو مرکزِ نگاہ بنایا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف نوٹوں کی بارش کے ذریعے برتری اور اختیار کا احساس خریدا جاتا ہے۔ یہ احساس وقتی، مگر نشہ آور ہے۔ یہی نشہ انسان کو بار بار کھینچ لاتا ہے، وہی محفل، وہی شور، وہی تھرکتا بدن اور تالیاں اور یوں یہ لت جنم لیتی ہے۔

اس لت کی ایک وجہ ہماری اجتماعی گھٹن بھی ہے۔ دباؤ، محرومی، بےروزگاری اور بےسمتی جب دلوں میں جمع ہو جاتی ہے تو انسان فوری تسکین ڈھونڈتا ہے۔ مجرا اسے ایک مختصر فرار فراہم کرتا ہے۔ چند لمحوں کی بےفکری، جہاں سوال، ذمہ داری اور حساب سب باہر رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ فرار اصل مسائل کا حل نہیں، صرف ان پر پردہ ہے۔ ایسا پردہ جو وقت کے ساتھ ساتھ بھاری پڑتا جاتا ہے۔

معاشرتی سطح پر اس روایت کے اثرات اور بھی گہرے ہیں۔ دولت کا بےدریغ ضیاع ایک طرف، ذوق کی سطحی تشکیل دوسری طرف۔ جب تفریح کا معیار محض جسمانی کشش اور شور تک محدود ہو جائے تو فن، ادب اور فکر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یوں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے شور تو بھر دیتا ہے، مگر معنی نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں سب سے کم اختیار اسی کا ہوتا ہے جو مرکزِ نگاہ ہوتا ہے۔ مجرے کو عورت کی مرضی یا مجبوری دونوں صورتوں میں اکثر معاشی جبر کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ یہاں تماشائی کی لذت اور اداکارہ کی زندگی کے بیچ ایک گہری خلیج ہے، جسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ نوٹ اچھالتے ہاتھ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ صرف لمحاتی خوشی نہیں، ایک نظام کو تقویت دے رہے ہیں۔

یہ میری تحریر محض کوئی مذمت نہیں، خود احتسابی کی دعوت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لذت اگر شعور سے کٹ جائے تو لت بن جاتی ہے اور لت معاشروں کو خاموشی سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ تفریح انسانی ضرورت ہے، مگر ایسی تفریح جو انسانیت، وقار اور ذوق کو بلند کرے نہ کہ انہیں ارزاں کر دے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے انتخاب پر نظرِ ثانی کریں۔ سوال اٹھائیں، معیار بدلیں اور اس لذت کی قیمت سمجھیں جو ہم ادا کر رہے ہیں۔ صرف پیسوں میں نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی شعور میں۔ کیونکہ جو معاشرہ اپنی تفریح پر غور نہیں کرتا، وہ بالآخر اپنی سمت بھی کھو بیٹھتا ہے۔۔

Check Also

Neki Karna Chor Dein

By Qurratulain Shoaib