Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Bhatti
  4. Mohabbat Ke Maaron Ke Naam, Aham Paigham

Mohabbat Ke Maaron Ke Naam, Aham Paigham

محبت کے ماروں کے نام، اہم پیغام

اچھا یہ بتائیں کہ آپ کا وزن کتنا ہے؟ اگر آپ موٹے ہیں تو یہ موٹاپا آنے میں کتنا وقت لگا؟ یقیناً وزن بڑھنے کی وجوہات میں ڈائیٹ میں گنتی کا کوئی حساب نہیں رکھا گیا ہوگا؟ آپ اگر 65 کلو کے تھے اور اب وزن 95 کلو پر پہنچ گیا ہے تو اِس اسٹیج پر آتے آتے آپ کو کتنے سال لگے؟ یقیناً کچھ سال لگے ہونگے کیونکہ اِتنا وزن مہینوں میں تو نہیں بڑھ سکتا۔

کیا آپ سالوں میں بڑھے اپنے اِس وزن کو چند گھنٹوں میں کم کر سکتے ہیں؟ تو جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں۔

یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے کہ سالوں میں بڑھا پیٹ اور چربی کو چند گھنٹوں یا دو ماہ میں بھی کم کیا جا سکے؟ لذید کھانے دیکھ کر رہا ہی نہیں جاتا اور نتیجہ زیادہ وزن کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

وزن بڑھ جانے کے بعد کوئی پھکی، کوئی چورن، کوئی چِلہ، کوئی جادو آپ کا وزن کم نہیں کر سکتا سوائے اِس کے کہ آپ باقاعدگی سے ورزش اور اپنی ڈائیٹ کا خیال رکھنا شروع کر دیں اور مستقل مزاجی سے اپنی اس روٹین کو جاری رکھیں اور یہ مشق کئی مہینوں تک مسلسل کرنی پڑے گی، تب جا کر آپ کو اپنا ہدف حاصل ہوگا۔

اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کہ اگر کسی کو کینسر ہے تو اُس کا علاج چند گھنٹوں میں ہونا ممکن ہے کیا؟ جواب ہوگا کہ یقیناً نہیں۔ اول تو کینسر مرض کا علاج ہی کوئی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو بڑے لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض کو دنوں میں ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ محبت خود اپنے آپ میں بہت بڑا مرض ہے اور اِس کے مریض بڑے بےصبرے ہوتے ہیں۔ محبوب بچھڑ جائے تو آسمان سر پہ اُٹھا لیتے ہیں، چیختے ہیں چلاتے ہیں، نہ خود سکون کرتے ہیں نہ دوسروں کو سکون میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب محبت کرتے وقت تو اِنہیں وقت کا احساس نہیں ہوتا، یہ بس لگے رہتے ہیں، محبوب کے نام کی تسبیح اور ورد لبوں پر جاری رہتا ہے۔ کبھی اُس کی زلفوں کی تعریف کرتے ہیں تو کبھی بدن کو تراشنے لگ جاتے ہیں۔ کبھی لبوں کے جام سے تشنگی بڑھاتے ہیں تو کبھی سانسوں کی تیز رفتار کا کھیل شروع کر لیتے ہیں۔

مگر جیسے ہی محبت، ہجر کی چادر اوڑھتی ہے تو اِن کا دَم گھنٹنے لگ جاتا ہے، یہ پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، تڑپتے ہیں، اور کوئی ایسا شخص ڈھونڈنے لگتے ہیں کہ جو اِن کے اِس درد کو راحت میں بدل دے۔ کوئی انسان اِنہیں وہ جملہ بول دے جس سے ان کی اذیت مر جائے، یہ سکون میں آ جائیں۔ کوئی دم، درود ایسا ہو کر دے کہ محبت کا بخار چند سیکنڈذ میں اُتر جائے۔ جبکہ ایسا ہونا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ سالوں میں پلی بڑھی محبت منٹوں میں ختم نہیں کی جا سکتی جیسے وزن یا کینسر کو جلدی ٹھیک نہیں کیا سکتا۔

میرے پاس اتنے میسجز آتے ہیں کہ محبت بھولنی ہے۔ میں علاج بتاتا ہوں تو اُنہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ بس چند سیکنڈز میں اُنہیں راحت مل جائے جبکہ یہ مرض تو صحیح ہونے میں ٹھیک ٹھاک وقت مانگتا ہے۔ میں ان محبت کے ماروں کو سمجھا سمجھا کے تھک گیا ہوں کہ بھئی یہ بات تو ذہن سے ہی نکال دو کہ جلدی ٹھیک ہو جاؤ گے۔ وقت لگے گا اور وقت بھی اچھا خاصا۔ محبت کو بھولنا اِتنا ہی آسان ہوتا تو محبت کون کرتا؟ محبت کی ویلیو ہی اِس کی اذیت میں چھپی ہے۔ محبت کو مہنگا ہی یہ درد بناتا ہے۔

تو اے محبت سے گھائل ہوئے زخمی لوگو، اِس زہر کا علاج کسی حد تک ممکن ہے مگر مکمل شفاء کبھی نہیں ملتی، درد کم ضرور ہو جاتا ہے مگر وقت لگتا ہے۔ خود کو جتنا جلدی یہ سمجھا لو گے اُتنا اچھا ہے۔ میں بس دعا ہی کر سکتا ہوں کہ خدا تم لوگوں کو ہجر نامی کینسر سے دور رکھے۔

Check Also

Saudi Arab Mein Bike Delivery Ki Nokariyan

By Mansoor Nadeem