Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Bhatti
  4. Berozgar Beta

Berozgar Beta

بے روزگار بیٹا

وہ ہر صبح وقت پر جاگتا تھا، حالانکہ جانے کے لیے کوئی دفتر نہیں تھا۔ اماں چولہے پر روٹیاں لگا دیتیں، ابا اخبار کھول کر نوکریوں کے اشتہار دیکھتے اور وہ خاموشی سے چائے کا کپ تھامے بیٹھا رہتا۔ گھر میں سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا، بس ایک چیز غیر معمولی تھی، اس کی بےروزگاری۔ یہ ایسی خاموش بیماری تھی جو بولتی نہیں تھی، مگر گھر کے ہر کمرے میں اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی۔

وہ پڑھا لکھا تھا، خواب دیکھنے والا بھی۔ یونیورسٹی میں اساتذہ اس کی مثال دیا کرتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ لڑکا کچھ بنے گا۔ مگر وقت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ ڈگری فائل میں بند ہوگئی اور خواب آنکھوں سے نکل کر دیواروں پر لٹک گئے۔ روز وہ سی وی فولڈر میں رکھتا، شہر کے مختلف دفاتر کے چکر لگاتا اور شام کو خالی ہاتھ لوٹ آتا۔ دروازہ کھلتا تو اماں کے چہرے پر ایک لمحے کو امید جاگتی، پھر آہستہ آہستہ بجھ جاتی۔

محلے والوں کے رویے بدل گئے تھے۔ پہلے جو سلام میں پہل کرتے تھے، اب نظریں چرا لیتے۔ کوئی کہتا کہ بیٹا کچھ کرتا کیوں نہیں؟ کوئی مشورہ دیتا کہ باہر چلا جا، یہاں کچھ نہیں رکھا۔ اسے سب باتیں چبھتی تھیں، مگر وہ خاموش رہتا۔ شاید وہ جانتا تھا کہ جواب لفظوں میں نہیں، قسمت میں ہے۔

ابا پہلے سخت نہیں تھے، مگر وقت نے انہیں بھی بدل دیا تھا۔ وہ کم بولتے، مگر جب بولتے تو آواز میں تھکن ہوتی۔ ایک دن اخبار رکھتے ہوئے بس اتنا کہا، ہم نے کیا تمہیں اس دن کے لیے پڑھایا تھا کہ گھر مفت کی روٹیاں توڑتے پھرو؟ یہ جملہ چیخ کر نہیں کہا گیا تھا، مگر اس کے دل میں ہتھوڑے کی طرح لگا تھا۔ وہ اس رات دیر تک جاگتا رہا، چھت کو گھورتا رہا اور خود سے سوال کرتا رہا کہ آخر اس کی غلطی کہاں ہے۔

اماں اس گھر کی واحد ہستی تھیں جو اب بھی اس پر یقین رکھتی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا نکما نہیں ہے بس بدقسمت ہے۔ وہ ہر نماز کے بعد اس کا نام لے کر دعائیں مانگتیں۔ کبھی اس کے لیے چائے بنا دیتیں، کبھی خاموشی سے اس کے کپڑے استری کر دیتیں، جیسے کہہ رہی ہوں کہ تم ابھی ہارے نہیں ہو"۔

پھر وہ دن آیا جب ابا بیمار پڑ گئے۔ علاج مہنگا تھا اور گھر میں پیسے کم۔ وہ پہلی بار واقعی شرمندہ ہوا۔ بےروزگاری اب صرف اس کا مسئلہ نہیں رہی تھی، پورے گھر کا بوجھ بن چکی تھی۔ اس نے کئی جگہ ہاتھ پھیلائے، دوستوں سے بات کی، مگر ہر دروازہ بند تھا۔ اسی رات اس نے اماں کو روتے ہوئے سنا۔ یہ آنسو اس سے برداشت نہ ہوئے تھے۔

اگلے دن وہ شہر سے باہر ایک فیکٹری میں مزدوری کے لیے گیا۔ مالک نے اس کی ڈگری دیکھی، مسکرا کر کہا کہ پڑھے لکھے ہو، مگر کام یہی کرنا پڑے گا۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اس دن اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ عزت بھی کبھی کبھی پیٹ کی دشمن بن جاتی ہے۔ وہ روز وہاں جاتا، ہاتھ زخمی ہوتے، جسم تھک جاتا، مگر دل میں عجیب سا خالی پن رہتا۔

کچھ مہینے گزر گئے۔ ابا کا علاج تو ہوگیا، مگر وہ خود اندر سے ٹوٹتا جا رہا تھا۔ فیکٹری کی تنخواہ گھر کے خرچ میں لگ جاتی، اس کے خواب کہیں دب کر رہ گئے۔ ایک دن مالک نے تنخواہ کم کر دی۔ اس نے احتجاج کیا تو جواب ملا، چاہو تو کام کرو، ورنہ بہت سے لوگ باہر کھڑے ہیں۔

اس رات وہ دیر تک باہر بیٹھا رہا۔ سڑک پر چلتی گاڑیاں، لوگوں کی ہنسی، سب کچھ اسے اجنبی لگ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس کی زندگی کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ وہ گھر لوٹا تو اماں سو چکی تھیں، ابا خاموش لیٹے تھے۔ اس نے کمرے میں جا کر اپنی ڈگری نکالی، کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے تہہ کرکے رکھ دی۔

اگلی صبح وہ وقت پر نہیں جاگا۔ دوپہر تک جب دروازہ نہیں کھلا تو اماں کو فکر ہوئی۔ انہوں نے آواز دی، جواب نہ آیا۔ دروازہ توڑا گیا تو وہ خاموش لیٹا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تکلیف نہیں تھی، بس ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ آخرکار کسی مقابلے سے باہر آ گیا ہو۔

محلے میں شور مچ گیا۔ لوگ کہنے لگے، کہ بڑا اچھا لڑکا تھا۔ وہی لوگ جو کل تک نظریں چراتے تھے، آج افسوس کے جملے بول رہے تھے۔ اماں ایک ہی بات کہے جا رہی تھیں، میرا بیٹا بےروزگار نہیں تھا، بس اکیلا تھا اور ابا، ابا خاموش تھے۔ اخبار ان کے ہاتھ میں تھا، مگر آنکھیں کسی اشتہار پر نہیں تھیں۔ شاید وہ اب یہ سمجھ چکے تھے کہ بعض بیٹے نوکری نہ ملنے سے نہیں مرتے، وہ سمجھ نہ آنے سے مر جاتے ہیں۔

Check Also

China Mein Jari Tatheeri Muhim

By Syed Mehdi Bukhari