Cinema Aur Hamari Wahan Dekhi Filmein
سینما اور ہماری وہاں دیکھی فلمیں

کراچی کی رونقیں پورے ملک میں قابل مثال تھیں۔ بیرون ملک سے سیاح جوق در جوق کراچی کھنچے چلے آتے۔ گورے جو اب صرف انگریزی فلموں میں دکھتے ہیں، پہلے کراچی میں روڈوں پر نظر آتے۔ کراچی روشنیوں کا شہر تھا۔ یہاں کی راتیں جاگتیں۔ ایک طرف ہوٹلوں میں لذت کے چٹخارے ہوتے تو دوسری طرف رات 12 بجے چھوٹنے والے سینما کے شوز کے جھنڈ بے فکری سے فلموں پر خوش گپیوں کے ساتھ تبصرہ کرتے جا رہے ہوتے۔
دور کے لوگ سواری کی تلاش میں اور قریبی علاقوں کے رہائشی پیدل گھروں کی راہ لیتے۔ راستے میں ہوٹل مل جاتا تو گرم گرم چائے کی چسکیاں لے کر فلم کا مزا اور دو بالا کرتے۔ چوری چکاری، چھینا جھپٹی کا کوئی تصور نہ تھا۔ بدمعاشی چھری بازی اور جرائم کی حد جیب تراشی تک تھی۔ رات کے سناٹے میں ڈر تھا تو کتوں کا۔ وہ بھی جانتے تھے کہ ہم اندھیرے کے راجہ ہیں۔ اس لیے خوب دوڑیں لگواتے لیکن شرافت ان میں بھی تھی۔ کبھی یہ نہیں سنا کہ انہوں نے کسی کو کاٹا۔
یادوں کی لیلی کا ذکر کرو تو بیچ میں ہیر آ ٹپکتی ہے۔ ایک کونے پر دوپٹہ اوڑھے صاحباں اشاروں اشاروں میں اپنی طرف بلا رہی ہوتی ہے۔ سسی الگ ناراض ناراض کھڑی ہوتی ہے۔ مضمون اولڈ کراچی کے سینما گھروں پر ہے اور بات رات کے کتوں پر آ کر رکی گئی۔ چلیں واپس سینما سینما ہو جائے۔
1950 سے 1980 تک کراچی کی ادبی، سماجی، معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا لیکن پھر اس شہر کو نظر لگی۔ زندگی مدھم ہوگئی، خوف کی چادر اوڑھ کر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ اب گرمی، سردی، خزاں، بہار سب اجاڑ تھے۔ ایسے میں سنیما کون جاتا؟ اس سے قبل اس وقت کی حکومت کی پالیسیوں کے باعث فلمیں روبہ زوال تھیں۔ 1977 میں کرفیو کے دنوں میں رنچھوڑ لائن میں رات کو وی سی آر پر بھارتی فلمیں دکھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ عام پبلک تک وی سی آر کی دسترس نہ تھی۔
1980 تک شہر میں 136 سینما گھر تھے۔ شہر کے مرکز صدر سمیت اولڈ کراچی کے علاقے، فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی، ناظم آباد، لانڈھی شاہراہ فیصل، قائد آباد حتی کہ پاک نیوی کے بیسز میں سینما گھر تھے۔ راشد منہاس روڈ پر ڈرائیون شہر کا واحد سینما تھا کہ جہاں لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر فلم دیکھا کرتے تھے۔ آج کا میلینیئم شاپنگ مال اور دیگر شاپنگ سینٹرز اسی جگہ پر واقع ہیں اور اب یہ شہر کا مصروف ترین مقام ہے۔ ایک زمانے میں یہاں سے ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن تک کی سڑک یک رویہ اور خاصی تنگ تھی۔ گاڑی چلانے میں بہت احتیاط کرنی پڑتی تھی۔ خیر یہ تو ضمنی بات تحریر میں آ گئی۔
مجھے یاد ہے اس زمانے میں کوئی اچھی گھریلو فلم آتی تو گھر کے سب افراد مل کر جاتے۔ خواتین تیار ہوتیں۔ بچوں کو خوب رگڑ رگڑ کر نہلانے ہوئے سمجھا دیا جاتا کہ ایک تو رونا نہیں اور چیز کی ضد نہیں کرنی۔ فلم شروع ہونے سے پہلے اس فلم کی بڑی بڑی تصاویر ہال سے باہر لگی ہوتیں جس سے فلم بین کہانی کا تانا بانا بن لیا کرتے۔ ایک طرح سے منی شادی کا سماں ہوتا جس کو دیکھو بنا سنورا اور اترایا اترایا پھر رہا ہوتا۔
کچھ لڑکے خود کو رومانٹک ہیرو سمجھتے اور فلم دیکھنے آئی کسی لڑکی کو کھنکیوں سے دیکھ کر خوش ہو جایا کرتے لیکن کبھی کبھی صورتحال ایسی ہوتی کہ ولن نمودار ہو جاتا۔ پہلے تو تو میں اور پھر مار کٹائی ہو جاتی، جس کو دیکھو ولن کا دشمن اور لڑکی کا بھائی بن جاتا۔ فلم میں رونے دھونے کے مناظر پر ہال میں بیٹھی خواتین کی آنکھوں میں آنسو تیر جاتے تو چند ایک سسکیاں بھی لے لیتیں۔ فلم دیکھ آتے تو زیادہ تر خواتین کہانی اور اداکاری پر اپنے بے لاگ اور باراگ تبصرے کرتیں اور ایک دو روز تک فلم کے زیر اثر رہتیں۔
کراچی میں اردو فلموں کا زور تھا۔ انگریزی فلموں کا طبقہ الگ تھا۔ ہمارے ایک دوست جب انگریزی فلم دیکھ کر آتے تو فلم کی کہانی اور ڈائیلاگ اردو میں اتنی روانی اور یقین کے ساتھ سناتے جیسے وہ خود اس کے رائٹر ہوں۔ ایک مثال آپ بھی سن لیں: جیمز بانڈ نے گنجے ولن سے کہا: ابے تو مجھے جانتا نہیں، زیادہ تڑ بڑ کی تو جہاں کھڑا ہے وہیں سے زمین میں گڑھا کھود کر گاڑ دوں گا۔
گنجا زور سے ہنسا، کہنے لگا: تیری بلبل میرے پاس ہے بیٹا، زیادہ ہوشیار بنا تو اوپر بندھی تیری بلبل کو زمین کی طرف اڑا دوں گا۔ اب جو جیمز بانڈ نے اوپر دیکھا تو اس کی تو ہوا نکل گئی لیکن بابو وہ بھی جمیز بانڈ تھا گھبرا کے نہیں دیا۔
نئی فلم لگتی تو پہلا شو دیکھنے کے دیوانے بہت پہلے ایڈوانس بکنگ کرا لیتے۔ کھڑکی توڑ رش ہوتا۔ پہلا شو دیکھنا گویا باعث اعزاز ہوتا۔ جو دیکھ آتا، لوگ اسے دیکھنے آتے۔ اسی شہر میں فلمیں سلور، گولڈن اور پلاٹینیم جوبلی کیا کرتی تھیں۔ کراچی میں سینما کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ شہر میں 1917-1918 میں پہلا سینما کھولا گیا جس کا نام اسٹار تھا جو کہ اس وقت کے بندر روڈ اور آج کے ایم اے جناح روڈ پر واقع تھا۔ اسی طرح مارسٹن روڈ پر جوبلی کے نام سے سینما عوام کے لیے کھولا گیا۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد کراچی میں سینما کھلتے چلے گئے اور فلم بینوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔
اب کراچی میں سینما ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں مگر ہماری یادوں کے سینماؤں کی اسکرین تو آج بھی جگمگا رہی ہے۔ ہم نے اسکول کے زمانے میں اداکار کمال اور موٹرسائیکلسٹ مقصود ملک کی فلم "روڈ ٹو سوات" آئی تو زندگی میں پہلی مرتبہ میں اور میرا چھوٹا بھائی وجاہت عباس بزمی والد صاحب کے ساتھ ناظم آباد میں واقع نایاب سینما گئے۔ ہم نے سینما ہال دیکھا تو ہکا بکا کہ یہ کہاں آگئے۔ اسکرین دیکھی تو لگا منہ کو آرہی ہے۔ فلم کی کہانی تو یاد نہیں البتہ مقصود ملک کا رسی پر موٹر سائیکل چلانا اور ایک گانا چلے ہیں دل والے روڈ ٹو سوات یاد ہے۔
روڈ ٹو سوات کے بعد ہمارے کراچی میں فلمیں دیکھنے کے روڈ پر کلوز کا بورڈ لگ گیا۔ گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں ماموں کے ہاں خیرپور میرس جاتے تو ماموں ہمارے رونے دھونے سے پیچھا چھڑانے کے لیے تالپور ٹاکیز میں فری میں بٹھا آتے کہ اس کا ٹھیکہ ماموں کے دوست شبن چاچا کے پاس تھا۔ وہ جب بھی کراچی کسی فلم کے پرنٹ لینے آتے اور ماموں ساتھ ہوتے تو قیام ہمارے ہاں ہی ہوتا۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ ایک طرح سے ہمارے وہاں رہنے کا جرمانہ ہوتا ہے۔
میٹرک کے بعد کراچی میں فلم دیکھنے کی اجازت ملی تو سب سے پہلے ندیم اور شبنم کی فلم بندش سے کراچی میں فلمیں دیکھنے کی بندش ختم ہوئی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ اس بندش کو مسلسل دو دن شوز دیکھ کر توڑا۔ اس کا گانا اچھا اچھا لگو رے اچھا لگا جو گلوکارہ نیرہ نور مرحومہ نے گایا تھا۔ یہ فلم فیڈرل بی ایریا عائشہ منزل کے عرشی سینما میں دیکھی جو اب عرشی شاپنگ مال بن چکا ہے۔ یہ سینما حاجی قاسم عباس پٹیل کی ملکیت تھا۔ عرشی کے۔ میں ہی چھوٹا سینما گھر اوپیرا بھی تھا۔ عرشی میں مختلف وقتوں میں انڈین فلم نورجہاں، مس ٹینا، آتش، بڑے میاں دیوانے وغیرہ دیکھیں۔
ایک فلم ارم سینما میں بھی دیکھی۔ ارم سینما لیاقت آباد 4 نمبر کے سامنے ایف سی ایریا میں لب سڑک واقع تھا۔ ارم میں ہی چھوٹی اسکرین کا ایک سینما ہال اور بھی تھا۔ ارم تو بند ہوگیا لیکن اب مجھ جیسے لوگوں کے لیے یادگار کے طور پر ارم کے سامنے سڑک کے دوسری طرف لیاقت آباد 4 نمبر کی ارم بیکری مشہور ہے۔ میرا خیال ہے اس زمانے میں ارم سینما کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہی اس کا نام ارم بیکری رکھا گیا ہوگا۔ اسکالا یا بیمبینو میں شہرہ آفاق فلم آئینہ دیکھنے کا شرف حاصل کیا۔ انگریزی فلمیں پرنس، نشاط اور کیپری میں دیکھیں۔ ایک مرتبہ آفس کے کولیگز کے ساتھ کیپری یا نشاط میں فلم دیکھی مگر فلم کیا دیکھی، ہنسی مذاق ہی چلتا رہا۔
عرشی سینما میں فلم دیکھنے پر ایک بار مکرانی بھائیوں نے خوب تواضع کی۔ ہوا یوں کہ 3 سے 6 والا شو دیکھنے گئے۔ ساتھ میں چچازاد اور ماموں زاد بھائی ساتھ تھے۔ ماموں ذاد بھائی جس طرح صحت میں کمزور تھے، غصے میں اسی قدر منہ زور تھے۔ لائن میں لگے تھے کہ لائن ٹوٹ گئی۔ دوبارہ لائن میں لگنے پر ماموں زاد نے کسی سے آگے لگنے کی کوشش کی۔ تو تو میں میں ہوئی۔ لائن لگوانے والے مکرانی بھائی نے ہماری تواضع کر دی۔ ماموں ذاد کو کمزوری صحت کی بنا پر کم مارا گیا مگر میری اچھی خاصی کٹاس لگا دی گئی۔ وہ شو چھوٹ گیا۔ ہم نے کہا کہ پٹ کے بدھو گھر کو چلتے ہیں مگر چچا ذاد کسی طرح تیار نہ ہوا۔ بولا مار کھائی ہے، اب 9 سے 12 کا شو دیکھ کر ہی جائیں گے۔ کیا کرتے پیسے سارے اسی کے پاس تھے۔
پیسوں کا بھی سن لیں۔ یہ پیسے بھی محلے میں قوالی کرانے کے نام پر جمع کیے گئے تھے۔ اکثر فلمیں ایسے ہی دیکھیں۔ ایک مرتبہ کرکٹ ٹورنامنٹ کرایا۔ خوب پیسے جمع کیے۔ ٹورنامنٹ جم کے ہوا۔ فائنل میں پرانے کپ خریدے اور ان پر نکل کرا کے ونر اور رنر آپ ٹیموں کو دیئے گئے، وہ تاڑ گئے اور جیتنے کے بعد ہمیں بڑا بھلا کہتے اور کپوں کو ٹھوکریں مارتے ہوئے لے گئے۔ اس سے ہماری صحت پر کیا اثر پڑنا تھا۔ ہمارا مطمح نظر تو فلمیں تھیں۔ انٹر تک یہ سب چلتا رہا۔ اس کے بعد فلموں کا شوق کم ہوا کہ پڑوس ملک کی فلموں کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔
اب گزرے ہوئے دن یاد کرتا ہوں تو ہنسی آتی ہے لیکن پھر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ ماموں اور چچا ذاد دونوں منوں مٹی تلے سو رہے ہیں۔ یہ زندگی بھی فلم کی طرح ہے جس میں کبھی خوشی ہے تو کبھی غم۔

