Takleef Hamesha Saza Nahi Hoti
تکلیف ہمیشہ سزا نہیں ہوتی

اگر ہر تکلیف اور مصیبت صرف سزا ہوتی، تو انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیاں سب سے زیادہ آرام دہ ہوتیں۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آزمائشیں ہمیشہ گناہوں کی سزا نہیں ہوتیں، بلکہ اکثر اوقات یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تربیت، اس کے درجات کی بلندی اور اس کے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ انسان کو مختلف حالات سے گزار کر یہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ صبر، برداشت، شکر اور توکل بھی ایمان کا حصہ ہیں۔ بعض اوقات انسان اپنی ہی کمزوریوں، فیصلوں اور اعمال کی وجہ سے مشکلات میں آ جاتا ہے اور بعض اوقات آزمائش اس لیے آتی ہے تاکہ انسان رک کر سوچے، خود کو سمجھے اور اپنی زندگی میں توازن پیدا کرے۔
اگر ہم انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کو دیکھیں تو صبر اور آزمائش کی سب سے بڑی مثالیں انہی کی زندگیوں میں ملتی ہیں۔
حضرت آدمؑ کو جنت سے زمین پر بھیجا گیا۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ کی جدائی میں برسوں صبر کیا۔ حضرت یوسفؑ نے قید، الزام اور تنہائی جیسی سخت آزمائشیں برداشت کیں اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں مخالفت، طعن و تشنیع، تکالیف اور بے شمار مشکلات کا سامنا کیا، مگر پھر بھی صبر، رحم اور استقامت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔
اسی طرح حضرت یونسؑ کی زندگی ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ ایک آزمائش کے دوران وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے، جہاں نہ روشنی تھی، نہ کھانے پینے کا کوئی سامان، نہ ہوا اور نہ ہی کسی انسان کا ساتھ۔ وہ تین اندھیروں میں تھے: سمندر کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ اس بے بسی کے عالم میں بھی ان کا سب سے بڑا سہارا صرف اللہ تعالیٰ پر توکل تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان مکمل طور پر بے بس ہو جاتا ہے، مگر حضرت یونسؑ نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اور یہی ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، اللہ پر بھروسہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
قرآنِ پاک میں حضرت یونسؑ کی دعا اس طرح بیان کی گئی ہے: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنُتَ سُبُحَانَكَ إِنِّي كُنُتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، ترجمہ: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا"۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
یہ دعا صرف حضرت یونسؑ کی نجات کا ذریعہ نہیں بنی بلکہ ہر مسلمان کے لیے امید، توبہ اور توکل کا ایک عظیم سبق بن گئی۔
میں خود بھی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتی ہوں اور اسے ورد کی طرح پڑھتی ہوں، کیونکہ یہ دل کو سکون، حوصلہ اور یقین عطا کرتی ہے۔ میری آپ سب سے بھی درخواست ہے کہ اس دعا کو اپنی زندگی میں ضرور شامل کریں، کیونکہ یہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کی روشنی بن جاتی ہے۔
آخر میں یہی پیغام ہے کہ مشکلیں ہمیشہ باقی نہیں رہتیں، اگر یقین اللہ پر ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ (سورۃ الشرح: 6)
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش میں صبر، توکل اور مضبوط ایمان عطا فرمائے۔

