Sabr Aur Bardasht
صبر اور برداشت

زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، مگر دکھ ختم نہیں ہوتا۔ دل بھرا ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں، مگر انسان خاموش رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ انہی لمحوں میں صبر اور برداشت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ہم اکثر ان دونوں کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کے درمیان ایک گہرا فرق چھپا ہوا ہے۔ جو ہم دیکھ نہیں پاتے اور سمجھ نہیں پاتے۔
صبر صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان ٹوٹتے ہوئے بھی بکھرتا نہیں۔ جب حالات انسان کے خلاف ہوں، جب اپنوں کے رویے دل کو زخمی کریں، جب دعائیں دیر سے قبول ہوں، تب جو انسان اپنے رب پر بھروسہ رکھ کر خود کو سنبھالے رکھتا ہے، وہ صبر کرتا ہے۔ صبر آنکھوں میں آنسو ہونے کے باوجود شکوہ نہ کرنے کا نام ہے اور دل کے زخموں کے باوجود امید کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی صبر کی سب سے خوبصورت مثال ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے طائف کے میدان میں جب لوگوں کو دین کی دعوت دی تو انہیں پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا، مگر آپ ﷺ نے نہ بددعا دی اور نہ ہی انتقام کا سوچا، بلکہ فرمایا:
"اے اللہ! ان کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں"۔
یہ صبر کی وہ بلند ترین مثال ہے جہاں دل زخمی ہے مگر زبان دعا دے رہی ہے۔
اس کے مقابلے میں برداشت انسان کے ظاہری رویے سے تعلق رکھتی ہے۔ برداشت یہ ہے کہ ہم کسی کی سخت بات کو سن کر خاموش رہ جائیں، کسی کے غلط رویے کو وقتی طور پر سہہ لیں تاکہ تعلقات برقرار رہیں۔ مگر برداشت کے پیچھے دل اکثر زخمی ہی رہتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، برداشت وقتی خاموشی ہے جبکہ صبر دائمی طاقت۔ اگر انسان صرف برداشت کرے اور اس کے اندر صبر نہ ہو تو وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگتا ہے۔ لیکن اگر دل میں صبر ہو تو برداشت کرنا بوجھ نہیں رہتا بلکہ عبادت بن جاتا ہے۔
زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر جنگ بول کر نہیں جیتی جاتی۔ کچھ جنگیں خاموش رہ کر جیتی جاتی ہیں، کچھ آنسوؤں کو چھپا کر اور کچھ صرف اللہ کے سپرد کرکے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان برداشت بھی کرے اور صبر کے ساتھ اپنے دل کو بھی مضبوط رکھے۔
کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو الفاظ نہیں مانگتے، صرف صبر مانگتے ہیں اور کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو دلیل نہیں، صرف برداشت مانگتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا: "مومن کو جو بھی تکلیف، بیماری، غم یا پریشانی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے"۔
"قرآن ہمیں صبر سکھاتا ہے اور نبی ﷺ ہمیں برداشت کا عملی نمونہ دکھاتے ہیں۔ "
زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں صبر سے جیت لی جاتی ہیں اور کچھ صرف برداشت سے سنبھال لی جاتی ہیں۔
ایسے ہی لمحوں میں انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں سے نہیں، بلکہ اپنے رب سے جڑ جائے اور دل سے یہ دعا کرے: "رَبَّنَا أَفُرِغُ عَلَيُنَا صَبُرًا وَثَبِّتُ أَقُدَامَنَا"، (اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل فرما اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے)۔
اور یاد رکھیں مشکل وقت چند دنوں یا چند مہینوں کا ہے لیکن مشکل وقت میں دیا گیا ساتھ لوگوں کا زندگی بھر کا احسان ہوگا۔ یہ فیصل اب آپ کا ہے آپ نے اپنا مشکل وقت رب سے مدد مانگنے میں اتارنا ہے یا پوری زندگی کے لیے لوگوں کے احسان کے نیچے دبے رہنا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں مشکل میں صبر کرنے اور خوشی میں عقل کو استعمال کرنے کی توفیق عطا کرے۔

