Jhoot, Umeed Aur Izzat: Aik Aam Magar Gehra Sach
جھوٹ، امید اور عزت: ایک عام مگر گہرا سچ

رونا دنیا کا سب سے عام عمل ہے۔ ہر انسان روتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کسی کے آنسو غربت پر گرتے ہیں، کسی کے دھوکے پر، کسی کے ٹوٹے وعدوں پر اور کسی کی بےقدری پر۔ وجوہات مختلف ہوتی ہیں، مگر درد سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔
اسی طرح جھوٹ بولنا یا وعدہ کرکے پورا نہ کرنا بھی آج کے دور میں ایک عام بات بن چکی ہے۔ شاید اگر ہم اردگرد دیکھیں تو بڑی تعداد میں لوگ کبھی نہ کبھی اس تکلیف سے گزرے ہیں کہ انہوں نے کسی پر بھروسا کیا، امید باندھی اور بدلے میں انہیں مایوسی ملی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا "عام ہونا" کسی غلط چیز کو درست بنا دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
میں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ جب کوئی بار بار امید دے کر پوری نہیں کرتا، یا سچ کی جگہ جھوٹ بول دیتا ہے، تو صرف ایک رشتہ نہیں ٹوٹتا، اعتماد ٹوٹتا ہے، دل ٹوٹتا ہے اور سب سے بڑھ کر عزت متاثر ہوتی ہے اور وہ عزت کسی دوسرے کے نہیں ہماری جو ہم جھوٹی امید دیتے ہیں۔ جو ہم جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہوتے ہیں کہ شاید یہ ہماری عزت کو بڑھا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگلے بندے کی نظر میں جو ہماری عزت ہوتی ہے یہ جھوٹ یہ جھوٹی امید یہ سہارے ہماری اس عزت کا بھی خاتمہ کر رہے ہوتے ہیں۔
ہم اکثر یہ نہیں جانتے کہ سامنے والا ہماری کتنی قدر کرتا ہے۔ ممکن ہے وہ ہمیں بہت اونچا مقام دیتا ہو، ہماری بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرتا ہو۔ لیکن ایک چھوٹا سا جھوٹ، ایک ادھورا وعدہ، اس کے دل میں ہماری تصویر کو دھندلا کر دیتا ہے۔
زندگی کا ایک سادہ اصول ہے۔ اگر آپ کسی کی امید پوری نہیں کر سکتے تو اسے وہ امید دیں ہی مت اور اگر وعدہ کر لیا ہے تو اسے نبھانے کی کوشش کریں اور اگر کسی وجہ سے نبھا نہیں سکتے تو صاف دل سے معذرت کر لیں۔ معذرت انسان کو چھوٹا نہیں کرتی، بلکہ اس کا کردار بڑا کرتی ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ جھوٹ ہوا، اس نے منفی راستہ اختیار نہیں کیا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تکلیف کے باوجود مثبت رہتے ہیں، اپنے عمل کو درست رکھتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لیے سچائی کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ وہ یہ سوچ کر صبر کرتے ہیں کہ میرا کام اپنے کردار کو سنبھالنا ہے، دوسروں کے عمل کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔
اصل طاقت یہی ہے۔ اگر آپ کسی کا بھلا نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا برا بھی نہ کریں۔ کسی کے دل میں جھوٹی امید جگا کر اسے مایوس کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عزت مانگنے سے نہیں ملتی، کردار سے ملتی ہے اور کردار سچائی، وعدہ نبھانے اور صاف نیت سے بنتا ہے۔ لوگ شاید بھول جائیں کہ آپ نے کیا کہا تھا، لیکن وہ یہ کبھی نہیں بھولتے کہ آپ کے رویے نے انہیں کیسا محسوس کروایا تھا۔ اس لیے فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم وقتی آسانی کے لیے جھوٹ کا راستہ چنیں۔ یا دیرپا عزت کے لیے سچائی کا۔
میری اللہ تعالی سے دعا ہے، یا اللہ! ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرما، وعدے نبھانے والا بنا اور ہمارے دلوں کو دوسروں کے لیے آسانی اور خیر کا ذریعہ بنا دے۔ ہمیں ایسا کردار عطا فرما جو تیری رضا کا سبب بنے۔
یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ کبھی کسی سے وعدہ نہ کریں وعدہ تب کریں جب آپ اس کو نبھانے کی ہمت رکھتے ہیں طاقت رکھتے ہیں۔ امید تب دیں جب آپ اس کو پورا کر سکتے ہیں اور ہم انسان ہیں ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہو کر اللہ کی رضا کے لیے دوسروں سے ماں کی مانگ لیا کریں اور اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کو معاف کر دیا کرے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری چھوٹی سی امید اگلے بندے کے لیے کتنی بڑی امید بن جاتی ہے ہم صرف اس کی وہ امیر ہی نہیں توڑ دے بلکہ ہم اپنی عزت گوا دیتے ہیں اس کے سامنے۔ کوشش کریں کہ اگر آپ نے کسی کو کوئی امید بھی ہے تو اسے پورا کریں چھوٹے بچوں کا خاص کرکے دھیان رکھا کریں اگر آپ نے ان کو کسی چیز کو لے کے دینے کا وعدہ کیا ہے تو نے لے کر دیں اور اگر نہیں لے کے دے پا رہے تو انہیں وجہ ضرور بتائیں کہ بیٹا ابھی میرے حالات ساتھ نہیں دے رہے لیکن تم میرے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالی میرے لیے آسانی کرے میں تمہیں وہ چیز انشاءاللہ ضرور لا دوں گا یا لا دوں گی۔ کیونکہ جو بچے ہوتے ہیں وہ کبھی بھی اس چیز کو بھول نہیں پاتے جس کے لیے اس نے بہت خواب دیکھی ہوتے ہیں۔
کوشش تو بڑوں کی امید کو بھی پورا کرنے کی کرنی چاہیے لیکن اس امید کو پورا کرنے کی جو جائز ہے۔ اللہ تعالی سے اپنے لیے دعا کیا کریں کہ یا اللہ مجھے ہر وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں تیری رضا شامل ہو اور مجھے ہر اس عمل سے بچنے کی توفیق عطا فرما جو تجھ سے دوری اور ناراضگی کا سبب بنے۔

