Barapan Dikhana Kab Zaroori Hai
بڑا پن دکھانا کب ضروری ہے

ہمارے معاشرے کے بڑوں میں ایک عجیب سی بات پائی جاتی ہے۔ جب وہ خود بچے کی شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تو ہر رسم کو دل سے نبھاتے ہیں۔ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ دعائیں دیتے ہیں۔ اپنا ہر فرض پورا کرتے ہیں چاہے اس میں بچے یا بچی کی خوشی شامل ہو نہ ہو۔ ہماری سوسائٹی میں پسند کی شادی آج بھی ایک امتحان سے کم نہیں۔ لوگ صرف اسے، اپنی مرضی، کا نام دے کر اس کے پیچھے چھپی ہوئی جدوجہد صبر دباؤ اور احساسات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے پسند کی شادی کرنا غلط نہیں اس کے لیے صحیح غلط میں فرق نہ کرنا غلط ضرور ہے۔ پسند کی شادی کے لیے درست راستہ اختیار کرنا ایک اہم قدم ہے۔ اسے ایک مثال کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ ایک طرف وہ شخص جو اپنی پسند کے لیے صحیح غلط کو نظر انداز کرتا ہے۔ جس کو نہ گھر والوں کی پرواہ، نہ رشتوں کی پرواہ اور نہ عزت کا خیال۔
دوسری طرف وہ شخص جو اپنی پسند کے لیے درست اور جائز راستہ اختیار کرتا ہے۔ ادب کے دائرے میں رہ کر اپنا حق مانگتا ہے۔ جو گھر سے بھاگ کر نہیں یا گھر سے نکل کر نہیں بلکہ جھک کر، منا کر، سمجھ کر، سب کو اپنی خوشی میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں پسند میں بہت بڑا فرق ہے۔ مگر ہم اسے دیکھ ہی نہیں پاتے۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے، اپنی مرضی، سے شادی کی ہے۔ یہ نہیں دیکھتے کہ اس شخص نے کتنی محنت سے سب کو اپنے ساتھ شامل کیا ہے سب کو راضی کیا ہے۔ پھر شادی کے دن ہم شکایتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ آپ نے ہمیں وقت نہیں دیا۔ آپ نے ہمیں توجہ نہیں دی۔ آپ نے ہمارے ساتھ تصویریں نہیں بنوائی۔
اب ذرا رکیں اور سوچے اس نے آپ کے ساتھ آکر تصویریں بنانی تھی کہ آپ نے جا کے تصویریں بنانی تھی؟ اس کے ساتھ کیونکہ آج اس کا دن ہے اور اس کا خاص دن ہے۔ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ آج توجہ کے حقدار دلہا دلہن ہیں نہ کہ ہم سب۔ ہم سب اہم ہیں۔ اس بات کا ثبوت اس شادی میں ہماری شرکت ہے۔ اب ہم پر یہ فرض ہے کہ اس نے ہمیں اپنی خوشی میں شامل کیا ہے تو ہم خوش دلی کے ساتھ اس میں شرکت کریں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس انسان کی کیا کیفیت ہے اس وقت؟ وہ کس کیفیت سے گزر رہا ہے؟
وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہا ہے۔ تو دل میں خوشی بھی ہے اور ایک انجانا سا خوف بھی۔ ذمہ داریاں احساس ہے۔ اس انسان کو لوگوں کا ہجوم رسومات کا دباؤ کسی کی خدمت میں کوئی کمی نہ رہ جائے ہر انسان کے احساسات کا خیال اس انسان کو ہے۔ اس وقت ان سب کے درمیان وہ خود کہیں کو جاتا ہے۔ اس لیے یہ وقت شکوؤں کا نہیں اپنوں کے سہارے کا ہے۔ اس کو آپ کے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ اسے آپ کی توجہ آپ کے خلوص آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی یہ وقت شکایتوں کا نہیں ساتھ دینے کا ہے۔
اب ذرا سوچیں وہ ہم سب کو منانے کی بجائے سب کو اپنی خوشی میں شامل کرنے کی بجائے لڑکی کو گھر سے بھگا لاتا یہ لڑکی گھر سے بھاگ جاتی تو کیا وہ زیادہ بری بات نہیں تھی۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا اس نے سب کو راضی کیا۔ سب کو اپنی خوشی میں شامل کیا اور پھر اپنی زندگی کا بہت اہم فیصلہ کیا۔ فیصلہ اس کا ہے۔ خوشی اس کی ہے اور آپ اس کی خوشی میں خوش ہیں تو یہ بڑا پن ہے۔ کوئی ہمارے مطابق چلے۔ ہمارے مطابق فیصلے کرے یا ہماری ہر کہی بات کو مانے۔ اس پر ہم اس کا ساتھ دیں۔ اس کی خوشی کا خیال رکھیں۔ اپنی ذمہ داری کو پوری کریں۔ تو یہ ہم نے اپنا فرض پورا کیا۔ دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا اس کا ساتھ دینا اس کی مرضی کے فیصلے کو قبول کرنا اور اس کی خوشی میں خوش ہونا بڑا پن ہے۔
اگر اس کالم کو پڑھ کر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یہ آپ کی سچویشن سے ملتا ہے۔ تو بڑوں نے جو آپ کے ساتھ کیا وہ ان کا کردار ہے۔ وہ ان کی سوچ ہے۔ اگر آپ نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور سب کی رضامندی سے کی ہے سب کو اپنی خوشی میں شامل کیا ہے اور اس انسان کو عزت کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کیا ہے تو آپ سے اچھا انسان کوئی نہیں آپ سے بہتر انسان کوئی نہیں۔ میرا آپ کو دل سے سلام ہے خوش رہیں اللہ تعالی آپ کی نئی زندگی مبارک کرے اور آپ دونوں کو ایک دوسرے کے لیے باعث رحمت بنائے۔ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ بس اسی طرح آگے بھی سارے شکوے شکایتوں کو سنے ضرور لیکن ان کو دل پہ نہ لیں۔ بس آپ صحیح ہیں اپنی جگہ یہ کہیں بحث میں نہ پڑیں۔ آپ دونوں کا وقت اس ٹائم ایک دوسرے کے لیے بہت ضروری ہے ایک دوسرے کو وقت دیں بس۔
اللہ تعالی ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو ڈھیر ساری خوشیوں سے نوازے ان کی زندگی میں صحت سکون خوشیاں ہو اور ایک دوسرے کو سمجھیں ایک دوسرے کے لیے باعث رحمت بنی۔ بڑا پن بھی دکھانا اب ضروری ہے۔ جب مرضی اور خوشی دوسرے بندے کی ہو اور آپ اس میں راضی ہو۔

