Achai Aaj Bhi Zinda Hai
اچھائی آج بھی زندہ ہے

کبھی کبھی زندگی کے عام سے دن ہمیں ایسے سبق دے جاتے ہیں جو بڑی بڑی کتابیں بھی نہیں دے سکتیں۔ آج کا دن بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ہم گروسری کے لیے نکلے، مگر راستے میں ہماری بائیک کا پٹرول ختم ہوگیا۔ ایک لمحے کے لیے پریشانی ضرور ہوئی، لیکن پھر جیسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں نرمی ڈال دی۔ کئی لوگ رکے اور ہم سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔
ایک شخص نے اپنی اپنی بائیک سے پٹرول نکال بوتل کی مدد سے ہماری بائک میں پٹرول ڈال کر ہماری مدد کی۔ یہ منظر صرف مدد نہیں تھا بلکہ انسانیت کا ایک خوبصورت ثبوت تھا۔
پھر ہم ایک مال گئے۔ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی۔ جو منظر میں نے وہاں دیکھا، وہ دل کو چھو گیا۔ تمام ورکرز خاموشی سے کھڑے ہو گئے اور اذان کا جواب دینے لگے۔ نہ کسی کو جلدی تھی اور نہ کسی کو کاروبار کے نقصان کی فکر۔ جیسے وقت تھم گیا ہو اور ہر دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگیا ہو۔
سب نے اذان کا جواب دیا اور احترام میں خاموشی سے کھڑے رہے۔ اذان مکمل ہوئی تو ہم نے بھی اپنی گروسری شروع کر دی مگر اچانک میرا ابایا ٹرولی میں پھنس گیا میں نے اس کو نکالنے کی بہت کوشش کی مگر میں ناکام رہی۔ وہاں ایک لڑکا فوراً مدد کے لیے آیا، میں تھوڑا سا گھبرا گئی اور شاید اس نے میری کیفیت کو سمجھتے ہوئے دو لڑکیوں کو بھی بلا لیا تاکہ میں زیادہ آرام محسوس کر سکوں۔ یہ صرف مدد نہیں تھی بلکہ احساس، سمجھداری اور عزت کا ایک خوبصورت انداز تھا۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں: "بے شک اللہ انصاف کرنے والوں اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔ (سورۃ النحل: 90)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں پر رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا"۔
اکثر ہم کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اچھے لوگ نہیں رہے، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یا ہم نے اچھائی کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ اچھائی آج بھی موجود ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کو بہتر بنائیں، اپنے اخلاق کو بلند کریں اور دوسروں کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو محسوس کریں۔
ہر انسان کامل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی فطرت یا حالات کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اچھائی پر یقین چھوڑ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کریں اور خود کو ان جیسا بننے سے بچائیں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے: اگر ہم اچھے بن جائیں تو ہمیں دنیا میں اچھائی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔
یہ ہے میرا پاکستان۔
جہاں مشکل میں کسی کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا، جہاں اذان پر دل جھک جاتے ہیں اور جہاں انسانیت آج بھی زندہ ہے۔ سب لوگ مختلف ہیں ضرور مگر ہے تو انسان انسانوں نے ہی انسانیت کو زندہ رکھنا ہے اس لیے کوشش کریں کہ اپنے اندر یہ انسانیت کو کبھی نہ مرنے دیں جس طرح ہم اپنے صحت کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنے اندر کی انسانیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر دن ہے تو رات ہے۔ اچھا ائی ہے تو برائی ہے۔
اللہ تعالی سے دعا کیا کریں کہ اے اللہ ہمیں ہر اس چیز کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما جسے ہم نہیں بدل سکتے اور ہمیں انسان ہونے کے ساتھ ساتھ خان بننے کی بھی توفیق عطا فرما۔ ہم جب تک زندہ رہیں گے انسانیت پر کام کرتے رہیں گے ہم انسان ہیں اور انسانیت پر کام کرنا ہمارا پہلا فرض ہے۔ خوش رہیں خوشیاں بانٹیں جو بوئیں گے وہی کانٹیں گے جو دیں گے وہی ملے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور اس راستے سے بچائے جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔

