Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayaz Khawaja
  4. Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (1)

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (1)

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (1)

1 - تجسس

وہ ایک بار پھر پرانی یادوں میں کھو گیا۔ وہ اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا جو کبھی کالج ہاسٹل کے قریب رہتی تھی۔ وہ بیس اکیس سال کی ایک جوان لڑکی تھی۔ سفید رنگت لمبا قد، تیکھے نقوش اور سبز آنکھیں۔ اس نے لڑکی کو اس کے برآمدے میں کبھی گلی میں اور کبھی بازار میں دیکھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پہچانتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی امتحانات سے ٹھیک تین ہفتے پہلے وہ زیادہ تر قریبی لائبریری میں رہتا۔

بہرحال گھر پر وہ اپنے امتحان کی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کو کھڑکی سے دیکھتا رہتا۔ وہ لڑکی کبھی فون پر بات کر رہی ہوتی کبھی کام کر رہی ہوتی تھی۔ کتاب ہاتھ میں لیے وہ ٹیرس پر بیٹھ جاتا اور اسے جاننے کی کوشش کرتا وہ اس لڑکی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس کے بارے میں وہ ایک عجیب سا احساس رکھتا تھا۔ وہ اکثر اسے ادھر ادھر جاتے ہوے دیکھ سکتا تھا کیونکہ ٹیرس ہاسٹل کے ایک اندھیرے کونے میں تھا اور لڑکی کا گھر ایک روشن جگہ پر تھا۔ اس کے گھر میں شیشےکی ایک کھڑکی تھی، جو سات فٹ لمبی تھی، لیونگ روم سے ہو کر گھر کی دوسری طرف تک جاتی تھی۔ وہ لیونگ روم اور کچن کا کچھ حصہ ہی دیکھ سکتا تھا کیونکہ گھر کا باقی حصہ نیم تاریک تھا۔

گھر کا باقی حصہ لمبے پرنٹڈ پردوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ بالکونی میں نرگس اور گلاب کے پھول لگے ہوے تھے جنھیں وہ روزانہ پانی دینے آتی تھی۔ اس کے طور طریقے دیکھ کر یہ اندازہ کر سکتا تھا کے وہ ایک مصروف اور محنتی انسان تھی۔ وہ ھمیشہ اسکو گھر کے کام کرتے ہوے دیکھتا تھا۔ وہ گرد صاف کرتی، چیزوں کو ترتیب سے رکھتی، کتابیں پڑھتی اور شام میں اپنے کتے کو گھمانے لے جاتی۔ وہ اکژ لڑکی کو اسکے کتے کے ساتھ دیکھتا جب وہ اپنے ہمسایہ میں جاتا۔ دن میں کم از کم ایک بار اس لڑکی کو کھڑکی سے دیکھنا اسکی عادت بن چکی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے جزبات پر قابو نہیں رکھ پارہا تھا۔

اگرچہ لڑکی کی حرکتیں اسکے لیے عجیب نہیں تھیں، وجہ چاہے جو بھی ہو اسے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ لڑکی کچھ پرسرار ہےاور اسکی زندگی میں کچھ عجیب ہو رہا تھا۔

وہ اپنے امتحانات میں مصروف تھا۔ ٹیسٹ اور امتحان کی تیاری کے لئے کافی شاپ میں بھی پڑھائی کرتا رہتا تھا۔ کبھی وہ پڑھائی کرتا اور کبھی لایبریری کے ڈیسک پر اپنی کتابوں یا کافی کے کپ پر اونگھتا رہتا۔ جس دن اسکا آخری امتحان تھا وہ بہت پر سکون تھا۔ باہر موسم بہت ٹھنڈا تھا، جب وہ گھر پہنچا تو اس نے کا فی کا ایک گرم کپ بنایا۔ ٹیپ رکاڈر پر فل کالنز کا مشہور گانا "Another Day in Paradise" بہت اونچی آواز میں چل رہا تھا۔۔ موسم کا جائزہ لینے کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سے ہوا میں دائرہ بناتے اور کافی کی چسکی لیتے ہوے اس نے کچھ عجیب محسوس کیا۔ دوسروں کے لیےشائد نا ہو لیکن اس کے لیے وہ وہ عجیب تھا۔

وہ لڑکی ایک آدمی کے ساتھ اپنے دروازے پر کھڑی تھی۔ جس آدمی کے ساتھ وہ کھڑی تھی وہ کچھ پریشان نظر آرہا تھا۔ لڑکی اپنے ہاتھ باندھے خاموش کھڑی مسلسل اپنے باغ میں لگی گھاس کو گھور رہی تھی۔ اس آدمی کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے اوروہ بولتے وقت اپنآ ہاتھ دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہلا رہا تھا۔ پہلے تو اس نے سوچا کے وہ کوئی وکیل ہے لیکن پھر اس نے سوچا کے ایک وکیل پریشان کیوں ہوگا؟ وہ آدمی کسی بات پر بہت مشتعل دکھائی دے رہا تھا، لیکن تب اس نے دیکھا کے اس اجنبی نے لڑکی کے ماتھے کو چوما۔ اس نے محسوس کیا کے وہ آدمی اس کا بھائی یا کزن تھا، کوئی عاشق، ساتھی یا کوئی وکیل نہیں جو کسی چیز کا سودا کرنے آیا تھا۔ وہ دونوں گھر کے اندر چلے گیے۔ وہ یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہا تھا کے اس لڑکی کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔ وہ آدمی کون تھا؟ ایک جھٹکے سے اس نےواپس اپنے خوبصورت کاوچ پر چھلانگ لگائی جس کا کچھ حصہ میگزین، تکیوں، ٹی وی ریموٹ، کارڈلیس فون اور کمبل سے چھپا ہوا تھا جس کو جلد صفائی کی ضرورت تھی۔

اگلے دن آلارم سے لڑتے ہوے وہ بہت مشکل سے اٹھا۔ صبح کے گیارہ بج چکے تھے اور قدرے یہ ایک روشن دن تھا۔ ایک عام دن کی طرح اسے صوفے سے اٹھ کرہاتھ میں تولیہ لیے باتھ روم کی طرف بھاگنا چاہیے تھا۔ مگر جب سے اس کے پاس کرنے کو کچھ زیادہ نہیں تھا، وہ صوفے پر ھی لیٹا رہا اور دیوار پر آہستہ آہستہ رینگتی کالے رنگ کی چھپکلی کو گھورتا رہا۔ اپنے آرم دہ کاوچ میں دبکے ہوے اپنی انگلی سے چھپکلی کے گرد ایک ان دیکھا دائرہ بناتے ہوے پکڑنے کی کوشش کرتا رہا۔ نہاتے ہوے اسے کچھ آوازیں سنائی دیں، پہلےتو اسے لگا کے یہ آوازیں شاورہیڈ Shower Head سے آ رہی ہیں، یہ اکژ ایسی آوازیں پیدا کرتا تھا۔ مگر جب اس نے باہر سے اونچی آواز میں لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور کان چیرتی سائرن کی آواز، وہ ایکدم سے اپنے بال خشک کرتے ہوے باہر نکلا کے دیکھے کیا ہو رہا ہے۔ اس وقت تک وہ با ہر جانے کے لیے تیار تھا لیکن پہلے اس نے دروازے کے اندر سے جھانکا کے کیا لوگ ابھی تک وہیں کھڑے تھے یا نہیں، لیکن تب تک تماشہ ختم ھو چکا تھا اور لوگ وہاں سے جا چکے تھے۔ ایمرجنسی کے آلات بھی وہیں رکھے تھے۔۔

اس نے لڑکی کو اپنا منہ چھپائے دروازے پر کھڑے دیکھا۔ وہ بری طرح رو رہی تھی، اس لڑکی سے وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن اسے اتنا پریشان دیکھ کر اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔۔ آخر کار اسے لڑکی سے بات کرنے کی ہمت پیدا ہوئی، لیکن حالا ت ساز گار نہیں تھے۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا یہ جاننے کے لئے کے کیا ہو رہا ہے، اس کی نذر صحن میں کھڑے مسٹر جم پر پڑی۔ اس نے جم سے پوچھنا چاہا لیکن اسے کچھ پتہ نہ تھا کے کیا ہوا ہے۔ اس نے اپنی آنکھیں گھمائیں تو ایک دوسرے ہمساے کو انگلی سے جم کے بارے میں کچھ لکھتے ہوے دیکھا، اسے اندازہ ہوگیا تھا کے وہ کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اب وہ ایک با خبر ہمسائے کی تلاش میں نکل پڑا جو اسکو اصل واقعہ کے بارے میں بتا سکے۔ تھوڑی کوشش کے بعد وہ کامیاب ہوگیا۔

وہ ایک بوڑھی عورت تھی جس کی سرمئی آنکھیں اور سنہرے بال تھے۔ اس نے ایک خوبصورت براؤن ہیٹ پہنا ہوا تھا، قیمتی ریشمی کوٹ اور گلے میں سونے کا ہار جس پر موتی جڑے تھے جو اسکی شاہانہ زندگی اور ساتھ ہی سرد موسم کا حال بتا رہے تھے۔ وہ اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی۔ "گڈ آفٹرنون مادام"، اس نے اونچی آواز میں ادب سے کہا۔ پہلے تو عورت نے مشکوک انداز سے اسکی طرف دیکھا اور پھر ہلکے سے سر ہلایا۔ "آپکو پتا ہے یہاں کیا ہوا ہے؟" اس نے پوچھا۔ عورت تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر کی طرف جاتی رہی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ "مادام یہ بہت ضروری ہے۔۔ بہت بہت ضروری۔۔ مجھے بتائیے یہاں کیا ہوا ہے، "اس نے دوبارہ عورت سے پوچھا۔ "میرے ساتھ آو، " وہ آہستگی سے بولی۔

اگلے مرحلے میں وہ اسکے لیونگ روم میں تھا۔ اس لیونگ روم میں ہر قسم کے پرانے بوسیدہ فرنیچر اور دوسری چیزوں کو دیکھ کر اسے بےچینی محسوس ہو رہی تھی۔ بوڑھی عورت خود بھی ایک بوسیدہ چیز لگ رہی تھی۔ وہ گھومنے والی کرسی پر بیٹھی تھی۔ "کیا تم کافی یا چا ے پیو گے؟ اس نے اپنے جھری زدہ چہرے سے پوچھا۔ "جی نہیں مجھے پانچ بجے ایک ضروری کام ہے"، اس نے ضدی میں کہا۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی اندر چلی گئی، "ٹھیک ہے میں اپنے لئے ایک چائے کا کپ بنا لیتی ہوں۔۔ یہ سر کا درد مجھے مارے جا رہا ہے"۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھامتے ہوئے بڑبڑایا، "یہ عورت عجیب ہے میں نے اسے بتایا کے میں جلدی میں ہوں، لیکن اسے ابھی بھی چائے کا کپ بنانا تھا"، اس نے سوچا اگر یہ عورت اسی رفتار سے گھومتی رہی تو وہ اپنے ضروری کام پر نہیں پہنچ سکے گا۔

آخرکار وہ باہرآئی اور اپنی پرانی گھومنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ ہلکے سے اپنی کرسی گھوما رہی تھی۔ جب اس نے عورت کی طرف دیکھا تو وہ مزے سے اپنی چائے پیتے ہوے اسے بلکل نظرانداز کر رہی تھی۔ وہ اپنا گلا صاف کرتے ہوے بولا، "پہلے میں اپنا تعارف کرواتا ہوں۔ میرا نام عمر ہے، میں یونیورسٹی کا طالبعلم ہوں۔۔ میں آپکو کس نام سے مخاطب کر سکتا ہوں، مادام؟ عورت نے اسکی طرف اس طرح دیکھا جیسے اسکے پیچھے دیوار پر دیکھ رہی ہو، "میں لیسا ہیج (isa HedgeL) ہوں۔۔ " تم مجھے لیسا بلا سکتے ہو یا مسز ہیج Mrs. Hedge، جو بھی تم چاہو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا" اس نے بہت سرد لہجے میں کہا۔ پھر اس نے بتایا، میرے شوہر قریباً چودہ سال پہلے ایک حادثے میں انتقال کر گئے۔

اسکا لیونگ روم ایک میوزیم دکھائی دیتا تھا، اگر وہ مسز ہیج ہوتا تو وہ یہ تمام چیزیں بیچ کر نیا فرنیچر خرید لیتا اور وہ خوشی سے زندگی گذارتا۔ وہ اسے کچھ اچھے مشورے دینا چاہتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، کیونکے لیزا ایک دوستانہ انسان نہیں تھی۔ پرانے صوفے کا کپڑا، چمڑے کی بدبو شائد اس عورت کے لئے پسندیدہ ہوگی لیکن اس کے لئے ہرگز نہیں تھی، اس کمرے میں وقت گزارنا ایک معرکے سے کم نہیں تھا۔ عورت نے بتایا کے اس لڑکی سے کچھ مہینے پہلے اسکی ایک لمبی ملاقات ہوئی۔ اس دن لڑکی نے اسکو بہت کچھ بتایا۔ اگرچہ مسز ہیج کے لئے یہ بہت مشکل تھا، کیوں کے اس نے لڑکی سے وعدہ کیا تھا کے وہ یہ باتیں کسی کو نہیں بتائگی اور اس نے یہ وعدہ نبھایا بھی جب تک اس نے لڑکی کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔

Check Also

Jang Ki Fatah Mubarak

By Syed Mehdi Bukhari